الطائر کی واشنگٹن میں آئی ایم ایف اور عالمی بنک کے حکام سے ملاقاتیں


واشنگٹن،21 اکتوبر، 2019 (وام) ۔۔ وزیر مملکت برائے مالی امور عبید بن حمید الطائر نے حالیہ دنوں واشنگٹن میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک گروپ، ڈبلیو بی جی کے اعلی عہدیداروں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ الطائر نے عالمی معیشت، بین الاقوامی مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کرنے اور خطے میں غربت کے خاتمے اور معاشی ترقی کو فروغ دینے کے طریقے تلاش کرنے کے لئے ان ملاقاتوں کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملاقاتیں علم کے تبادلے اور سینئر عہدیداروں اور بین الاقوامی ماہرین سے ملاقات کے لئے دوسرے ممالک اور مالی تنظیموں کے ساتھ تعاون پر تبادلہ خیال کرنے کا ایک اہم پلیٹ فارم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں ہمیں خطے میں معاشی نمو کو بہتر بنانے اور پائیدار معاشرتی ترقی کے حصول میں فائدہ ہوتا ہے۔ آئی ایم ایف اور ڈبلیو بی جی کے سالانہ اجلاسوں کے دوران اپنی تقریر میں الطائر نے اس بات کی نشاندہی کی کہ متحدہ عرب امارات نے اپنے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے خاص طور پر مالی قانون سازی میں اہم پیشرفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات ملک کے مالیاتی اور معاشی شعبے میں رسک مینجمنٹ کو مستحکم کرنے کے لئے بہترین طریقہ کار اور انتظامی ہدایات پر مبنی جامع پالیسیاں مرتب کرے گا۔ الطائر نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کو بین الاقوامی کاروبار اور سرمایہ کاری کیلئے ایک پر کشش منزل بنانے کے لئے اپنے بنیادی ڈھانچے میں مستقل طور پر بہتری کررہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات علم پر مبنی ایسی معیشت میں سرمایہ کاری کررہا ہے جو مصنوعی ذہانت، بلاک چین، روبوٹکس اور دیگر جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا چاہتی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے وزیر نے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر اور چیئر وومین کرسٹیلنا جارجیوفا اور مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے وزراء خزانہ سے بھی ملاقات کی۔ انھوں نے جارجیوفا کو آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ تعاون بڑھانے کے طریقوں، ورلڈ گورنمنٹ اجلاس میں شرکت اور مالی اور شفافیت کی پالیسیوں میں پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے آئی ایم ایف میں عرب گروپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر حازم الببلاوی سے بھی ملاقات کی جس میں مشرق وسطی ٰ اور شمالی افریقہ کے خطے میں تازہ ترین معاشی پیشرفتوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے عرب ممالک سے متعلق آئی ایم ایف کی پیش گوئی کے ساتھ ساتھ ورلڈ گورنمنٹ سمٹ 2020 میں آئی ایم ایف کی شرکت پر بھی غور کیا۔ ایک اور ملاقات میں الطائر نے ورلڈ بینک گروپ میں عرب گروپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر مرزا حسن سے WBG کی پائیدار اور جامع معاشی ترقی اور عرب ممالک کی مدد کے لئے مستقل کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے WBG کی خواتین، کاروبار اور قانون کی رپورٹ کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات میں WBG کے تکنیکی معاون منصوبوں کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے موجودہ معاشی تبدیلیوں کے پیش نظر WBG کی عرب ممالک کی توقعات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ سالانہ اجلاسوں کے ساتھ ساتھ وزارت خزانہ نے متحدہ عرب امارات کے بینکوں کے لئے ایک استقبالیہ کا اہتمام کیا تھا تاکہ حالیہ برسوں میں اس شعبے کی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے ملک میں مالیاتی شعبے کی اہمیت اور اس کی صلاحیت کو اجاگر کیا جاسکے ۔ استقبالیے کا اہتمام ایم او ایف نے متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک، ابو ظبی عالمی مارکیٹس، دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر، فرسٹ ابو ظبی بینک، امارات این بی ڈی، ابو ظبی کمرشل بینک، ابو ظہی اسلامی بینک، دبئی اسلامی بینک، کمرشل بینک آف دبئی، شارجہ اسلامی بینک، نیشنل بینک آف فجیرہ اور نور بینک کے اشتراک سے کیا تھا۔ استقبالیے میں متعدد مالیاتی وزراء، مرکزی بینک کے گورنروں، سرمایہ کاری اداروں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے سربراہان، بین الاقوامی بینکوں کے ایگزیکٹو سربراہان کے علاوہ متحدہ عرب امارات کے شریک بینکوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

ترجمہ: ریاض خان ۔

http://www.wam.ae/en/details/1395302796351

WAM/Urdu