متحدہ عرب امارات کا پولیو کے خاتمہ کے لئے اپنے عزم کااعادہ


ابوظہبی ، 22 اکتوبر ، 2019 ( وام) ۔۔ پولیو کا عالمی دن ہر سال 24 اکتوبر کو بنیادی طور پر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرنے والی اس انتہائی متعدی بیماری کے خاتمے کی عالمی کوششوں کے اعتراف میں منایا جاتا ہے۔ 1988 میں پولیو کے خاتمہ کے عالمی اقدام ، جی پی ای آئی کے قیام کے بعد سے عالمی ادارہ صحت،ڈبلیو ایچ او کے مطابق پولیو کے کیسزمیں ننانوے فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے ، جبکہ 2018 میں پولیو کے تینتیس کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ نتائج بین الاقوامی تنظیموں ، حکومتوں اور مختلف افراد کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہیں جو بیماری کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لئے باقاعدگی سے مصروف عمل ہیں ۔ اس کی ایک مثال پولیو کے خاتمے کے لئے انتہائی ناگزیر انسداد پولیو مہمات کی مالی امداد کی صورت میں متحدہ عرب امارات کے فعال کردار کی ہے۔ ابو ظہبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر عزت مآب شیخ محمد بن زاید آل نھیان کی سربراہی میں ان اقدامات کے نتیجے میں عالمی سطح پر لگ بھگ چالیس کروڑ بچوں کو پولیو سے بچاو کی ضروری ویکسین دی گئی۔ 2014 کے بعد سے ، عالمی سطح پر پولیو کے خاتمے کے لئے شیخ محمد بن زاید آل نھیان کے اقدام کے تحت پاکستان میں سات کروڑ دس لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کی اہم ویکسین مہیا کی گئی۔ شیخ محمد پولیو اقدام کے شراکت دار متحدہ عرب امارات پاکستان امدادی پروگرام ، یو اے ای پی اے پی کے مطابق 2014 سے ستمبر 2019 تک پاکستان میں بچوں کے لئے اکتالیس کروڑ نواسی لاکھ چھپن ہزار دو سوچھبیس پولیو ویکسین کے قطرے فراہم کئے گئے۔ 2011 کے بعد سے شیخ محمد بن زاید نے پاکستان اور افغانستان کے دور دراز علاقوں سے پولیو کے خاتمے کی عالمی کوششوں کی مدد کے لئے ذاتی طور پر سولہ کروڑ اٹھہتر لاکھ ڈالر فراہم کئے ہیں۔ اپریل 2018 میں ، متحدہ عرب امارات نے ابو ظہبی میں 2013 کی عالمی ویکسین سمٹ کے دوران جی پی ای آئی کے لئے کیے گئے بارہ کروڑ ڈالر فنڈ کے وعدہ کو پورا کیا۔ عزت مآب نے 2011 میں بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاونڈیشن کے ساتھ بھی تعاون کیا جب دونوں فریقین نے افغانستان اور پاکستان کے غیر محفوظ بچوں کے لئے ویکسین کی خریداری اور فراہمی کے لئے مجموعی طور پر دس کروڑ ڈالر کا وعدہ کیا ۔ اس سال عالمی پولیو ڈے کے موقع پر عالمی کمیشن برائے انسداد پولیو وائرس سرٹیفیکیشن کو جہاں عالمی سطح پر پولیو وائرس ٹائپ 3 (WPV3) کے مکمل خاتمے کی توقع ہے ، وہیں اب بھی قابل تشویش مسائل موجود ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق پاکستان اور افغانستان سے پولیو کے خاتمے میں ناکامی کے نتیجے میں "پوری دنیا میں آئندہ دس سال تک ہر سال پولیو کے سالانہ بیس ہزار نئے کیسز سامنے آسکتے ہیں۔"

جی پی ای آئی کے مطابق سولہ اکتوبر تک پاکستان میں پولیو وائرس ٹائپ ون (ڈبلیو پی وی ون) کے کیسز کی تعداد بڑھ کر بہترہوگئی ہے ، جبکہ اس کے مقابلے میں دوہزار اٹھارہ میں ڈبلیو پی وی ون کے کیسز کی تعداد بارہ تھی۔ پاکستان میں یو اے ای پی اے پی پولیو مہم چاروں صوبوں خیبر پختونخوا ، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں ، بلوچستان اور سندھ میں چلائی جارہی ہے۔ مختلف بین الاقوامی ادارے اور امدادی تنظیمیں ان علاقوں کو متعدد وجوہات کی بنا پر پولیو کا آخری گڑھ سمجھتی ہیں ، جن میں بنیادی ڈھانچے کی کمی ، دور دراز کے مقامات ، تنازعات اور ویکسینیشن کے خلاف مزاحمت شامل ہیں۔ اس مہم پر عملدرآمدکے چھٹے مرحلے میں ، یو اے ای پی اے پی نے 2019 میں ہر ماہ تقریبا پندرہ ملین سے سولہ ملین بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے ہیں۔ پولیو کے خاتمے سے پوری دنیا میں لوگوں کی زندگیوں پر خاطر خواہ اثر پڑے گا۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق ایک بار پولیو کے خاتمے کے بعدجہاں بچے پولیو کے باعث اپاہج ہونے سے محفوظ ہوجائیں گے وہیں زیادہ تر کم آمدنی والے ممالک کے لئے چالیس سے پچاس ارب ڈالر کی بچت بھی ہوگی۔ ترجمہ۔تنویر ملک http://wam.ae/en/details/1395302796583

WAM/Urdu