متحدہ عرب امارات کی کابینہ نے دیوالیہ افراد کے مالیاتی معاملات حل کرنے کا قانون منظور کرلیا


دبئی، 17 نومبر ، 2019 (وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات کی کابینہ نے ایک وفاقی قانون کی منظوری دی ہے جس کا مقصد کاروبار کو آسان بنا کر متحدہ عرب امارات کی مسابقت کو بڑھانا ہے تاکہ مالی مشکلات کا سامنا کرنے والے افراد کے لئے سازگار حالات پیدا ہوں اور دیوالیہ ہونے والوں کا تحفظ ممکن بنایا جاسکے۔ نیا قانون شہریوں اور رہائشیوں کے لئے سہولت کو یقینی بنانے اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کی حکومتی کوششوں کا ایک حصہ ہے۔ یہ قانون ان افراد کی مدد کرے گا جو موجودہ طور پر یا متوقع مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور انہیں قرض ادا کرنے سے قاصر قرار دیا گیا ہے۔ یہ قانون انھیں اپنے قرضوں کو ازسر نو ترتیب دینے میں مدد دے گا اور انہیں نئے مراعات والے قرضوں کا موقع فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ نیا قانون مقروضوں کو قانونی کارروائی سے بچائے گا، ان کی مالی ذمہ داریوں کو جرم کی کیٹگری سے الگ کرے گا اور انہیں کام کرنے، کچھ کر دکھانے اور اپنے اہل خانہ کی دیکھ بھال کا موقع فراہم کرے گا۔ یہ قانون جنوری 2020 میں نافذ ہوجائے گا اور قرض دینے والوں کو ایک یا ایک سے زیادہ ماہرین کے ذریعہ اپنی مالی ذمہ داریوں کو طے کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ ان ماہرین کا تقرر ، عدالت کے ذریعے کیا جائے گا۔ ماہرین قرض دہندگان اور قرض نادہندگان کے ساتھ مل کر ایک لائحہ عمل طے کریں گے جو تین سال سے زیادہ عرصہ تک نہیں رہے گا تاکہ مالی ذمہ داریوں کو نپٹایا جاسکے اور منصوبے میں طے شدہ تمام ذمہ داریوں کو پورا کیا جاسکے۔ اس مدت کے دوران مقروض کو قرض لینے سے روکا جائے گا جب تک عدالت ماہر کی درخواست پر کوئی فیصلہ نہ دے دے ۔ اس قانون میں خصوصی دفعات بھی شامل ہیں جوقانونی طریقہ کار کی تیزی سے تکمیل میں معاون ہیں اور قرضوں کی بحالی اور تنظیم نو کے لئے وصول کی جانے والی فیسوں میں کمی لاتے ہیں تاکہ قرض دہندگان اور مقروض دونوں کے لئے منصفانہ حل تلاش کیا جاسکے۔ یہ قانون جو موجودہ مالیاتی قوانین کی تکمیل کرتا ہے شہری قرضوں کی واپسی کے لین دین کے معاملے میں شفافیت کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوگا اور اس سے سرمایہ کاری کے لئے ایک مثالی مرکز کے طور پر متحدہ عرب امارات کی پوزیشن کو تقویت ملے گی۔ ترجمہ: ریاض خان ۔ http://www.wam.ae/en/details/1395302803626

WAM/Urdu