آرمینیا GCCاور EAEU میں آزاد تجارت کے معاہدے کا خیرمقدم کریگا: صدر سرکسیان

  • interview with the armenian president, armen sakissian. 15-01-2020-9.jpg
  • photo5852679628941013481
ویڈیو تصویر

ابوظبی ، 21 جنوری، 2020 (وام) ۔۔ آرمینیا کے صدر ارمن سرکسیان نے کہا ہے کہ انکا ملک خلیج تعاون کونسل کے رکن ملکوں اور یوریشین اقتصادی یونین، EAEU کے مابین آزاد تجارت کے معاہدے، ایف ٹی اے کا خیرمقدم کرے گا۔ EAEU ایک اقتصادی یونین ہے جو روس، آرمینیا، بیلاروس، قازقستان اور کرغزستان پر مشتمل ہے۔ یہ یونین 2015 میں عمل میں آئی تھی جو 1.9 ٹریلین ڈالر جی ڈی پی کی ایک مربوط مارکیٹ ہے۔ صدر ارمین سرکسیان نے ابوظبی میں امارات نیوز ایجنسی، وام کو خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ یہ فیصلہ جی سی سی ممالک کی قیادت پر منحصر ہے۔ جس وقت وہ اپنی دلچسپی کا اظہار کریں گے وہ اس کا اظہار براہ راست یونین یا آرمینیا جیسے کسی شراکت دار سے کرسکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر انھیں اس کے بارے میں کوئی پیغام دیا جاتاہے تو وہ اسے یونین تک پہنچا دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یوریشین خطے سے باہر کے کچھ ممالک جیسے سنگا پور پہلے ہی EAEU کے ساتھ ایف ٹی اے پر دستخط کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چند دیگر ممالک نے بھی ایف ٹی اے کے ذریعے یونین کے شراکت دار بننے کے لئے اپنی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ یونین کی تاریخ مارچ 1994 کی ہے جب قازقستان کے صدر نورسلطان نذر بائیوف نے روس کے پہلے سرکاری دورے کے دوران لومونوسوف ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی میں پہلی بار یوریشین یونین آف اسٹیٹس کا خیال پیش کیا تھا۔ یونین کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق یونین کا مقصد قومی معیشتوں کے مابین مسابقت اور تعاون کو بڑھانا اور رکن ممالک کی اقوام کے معیار زندگی کو بلند کرنے کے لئے مستحکم ترقی کو فروغ دینا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ نہ صرف مالیاتی یا لاجسٹیکل اثر ہے بلکہ ایک سیاسی اثر بھی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ EAEU کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے پر دستخط کرناایک صحیح کام ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ ایک معاشی بلاک کا صحیح فارمیٹ ہے۔ بلاک کے ساتھ اتحاد کرنے یا آرمینیا میں کاروبار قائم کرنے کے فائدہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ یوریشیا کی پوری جگہ کو اپنی کاروباری سرگرمیوں کے لئے استعمال کرسکتے ہیں کیونکہ یونین کے ممبر ممالک کے درمیان کسٹم ڈیوٹی یا کوئی اضافی ٹیکس نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرمینیا یوریشیا میں ایک انوکھا مقام رکھتا ہے۔ آپ اپنی کمپنی کو آرمینیا میں رکھتے ہوئے روس میں اپنا کاروبار بغیر کسی پریشانی کے کرسکتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے۔ اس کے علاوہ آپ ان ممالک کے ساتھ معاملات کر رہے ہیں جن کا یورپی یونین کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک طرف یونین کے ممبر ہیں اور دوسری طرف آرمینیا نے یورپی یونین کے ساتھ 2017 میں ایک جامع اور بہتر شراکت کے معاہدے، سی ای پی اے پر دستخط کیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آرمینیا ایک ایسی انوکھی جگہ پر واقع ہے جہاں وہ پل کا کام کرسکتا ہے ۔ آرمینیا کے جی سی سی ریاستوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے صدر ارمین سرکیسیان نے کہا کہ ان ممالک کے ساتھ ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم بہت قریب ہیں خلیج ہمارے لئے بہت اہم ہے اور ہم مل کر بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آرمینیا نے خلیجی ممالک کے ساتھ کئی شعبوں خاص طور پر سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعلقات کو بہت فروغ دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کئی ایسے موضوعات ہیں جن پر ہم سب فریقوں کے مفاد کے لئے بات چیت اور مل کر کام کرسکتے ہیں جن میں سیاحت، توانائی اور ماحولیاتی مسائل کے حل شامل ہیں۔ ترجمہ: ریاض خان .

http://wam.ae/en/details/1395302817697

WAM/Urdu