یورپ میں پرانی عمارتوں کی تزئین و آرائش سے50 فیصد توانائی کی بچت ہوگی:عہدیدار

  • kadri-simson
  • 01
ویڈیو تصویر

بنسال عبدالقادر سے ابوظہبی ، 30 جنوری ، 2020 (وام) ۔۔ یورپی یونین کی ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ پرانی عمارتوں کی تزئین و آرائش کے اقدام سے پورپ کے ہاؤسنگ شعبہ میں حرارت اور ٹھنڈک کے لئے استعمال ہونے والی 50 فیصد توانائی کی بچت میں مدد ملے گی۔ "ہاؤسنگ شعبہ میں بہت ساری توانائی ضائع ہوتی ہے کیونکہ پرانے مکانوں میں اس مقصد کے لئے نئے مکانوں میں کہیں زیادہ توانائی استعمال ہوتی ہے ۔ رہائشی منصوبوں کو اپ گریڈ کرنے سے ہم بہت زیادہ توانائی بچاسکیں گے۔"

ابو ظہبی کے حالیہ دورے کے دوران یورپی یونین کی کمشنر برائے توانائی کادرے سیمسن نے نیوز ایجنسی ، وام سے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ "ابھی ہماری 40 فیصد توانائی عمارتوں کو گرم یا ٹھنڈا رکھنے میں صرف ہوتی ہے ۔"

انہوں نے بتایا کہ مشرقی یورپ میں 1980 کی دہائی میں بنائے گئے مکانات نئے گھروں سے کہیں زیادہ توانائی استعمال کرتے ہیں۔ "ان کی تزئین و آرائش سے 50 فیصد توانائی کی بچت کی جاسکتی ہے۔"

انہوں نے وضاحت کی اس اقدام کی مخصوص اسکیمیں ہوں گی جن کی مدد یورپی یونین کے فنڈز اور قرضوں سے کی جائے گی۔ یکم دسمبر 2019 کو صدر یرسولا وان ڈیر لین کی سربراہی میں یورپی کمیشن کی نئی قیادت میں شامل ہونے والی سمسن نے کہا کہ یورپی یونین ممالک کے کاربن کاپچاسی فیصد اخراج توانائی کی پیداوار اور استعمال کی صورت میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہائشی شعبے سمیت صنعت ، زراعت اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں بھی اسی طرح کی اسکیمیں شروع کی جائیں گی ۔ اس مقصد کے لئے کمیشن نے’’ یورپی گرین ڈیل ‘‘ کا اعلان کیا ہے ، جو ان اقدامات پر مشتمل یورپی شہریوں اور کاروباری افراد کو پائیدار گرین منتقلی سے مستفید کرنے کاایک پیکیج ہے۔ سمسن نے کہاکہ"میں اس کے بارے میں پرامید ہوں۔ یقینی طور پر یہ قابل عمل ہے۔"ممبرممالک مختلف شعبوں میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لئے اپنے توانائی اور آب و ہوا کے منصوبوں کو یورپی یونین کے پاس پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ "ہمارے کچھ رکن ممالک 2030 تک گرین ہاؤس گیسوں کو 70 فیصد کم کردیں گے۔"

کمشنر نے عرب امارات کی فیصلہ سازی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ "آپ کے پاس پہلے سے ہی متنوع توانائی کا ذخیرہ موجود ہے۔ آپ ہائیڈروجن پر بھی تحقیق کررہےاور ہم اس شعبے میں اپنے تجربات کا تبادلہ کرسکتے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک قابل تجدید توانائی میں تحقیق ، جدت اور نئے تکنیکی حل تلاش کرنے میں تعاون کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ " قابل تجدید توانائی کے ذرائع ہمارا مستقبل ہیں ، لیکن ابھی سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ توانائی ذخیرہ کرنے کے معاملے کو کیسے حل کیا جائے۔" یورپی ہائیڈروجن اینڈ فیول سیل ایسوسی ایشن کے مطابق ، بیٹریاں زیادہ وقت کے لئے بڑی مقدار میں بجلی ذخیرہ کرنے کے لئے موزوں نہیں ہیں۔ سمسن نے کہا کہ مستقبل قریب میں یورپی یونین کے رکن ممالک نئے آف شور ونڈ پارکس کی تعمیر کے لئے تعاون کریں گے۔ "

توانائی کے شعبہ میں جاری تحقیقی منصوبوں سے نئے حل تلاش کئے جاسکتے ہیں۔ "ان میں سے ایک فرانس کا منصوبہ ہے۔۔"

جنوبی فرانس میں ، 35 ممالک دنیا کے سب سے بڑے، مقناطیسی فیوژن ڈیوائس ٹوکامک کی تعمیر کے لئے تعاون کر رہے ہیں جو کاربن سے پاک فیوژن فزیبلٹی سے توانائی کی بڑے پیمانے پر پیداوار کے لئےڈیزائن کیا گیا ہے سمسن نے کہا کہ "اس عمل سے پوری طرح سے توانائی کے شعبہ کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔"

تصویری کریڈٹ:یورپی یونین ویب سائٹ ترجمہ۔تنویر ملک http://wam.ae/en/details/1395302819948

WAM/Urdu