جمعرات 20 جنوری 2022 - 8:53:54 شام

50 کےمنصوبوں کےبعد شروع ہونے والی سیریز کا تیسرا ورچوئل سیشن


دبئی، 14 اکتوبر، 2021 (وام) ۔۔ 50 کے منصوبوں کے اعلان کے بعد شروع ہونے والی سیریز کا تیسرا ورچوئل سیشن ہوا جس میں خلائی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجیز کی ترقی کو فروغ دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ سیشن متحدہ عرب امارات کی جانب سے 3.6 ارب کلومیٹر کے فاصلے پر گہرے خلا میں زہرہ اور ایسٹرائیڈ بیلٹ کو دریافت کرنے کے حالیہ اعلان کے ساتھ ہوا جو عالمی سطح پر شروع ہونے والا اپنی نوعیت کا چوتھا منصوبہ ہے۔ تازہ ترین خلائی مشن کو متحدہ عرب امارات کی حکومت نے 5 اکتوبر 2021 کو "50 کے منصوبوں" کے حصے کے طور پر لانچ کیا تھا۔ یہ نیا قومی ایجنڈا ہے جو متعدد معاشی شعبوں میں ایک نیا ترقیاتی سرکل قائم کرتا ہے۔ ورچوئل سیشن ان شاندار مواقع پر مرکوز تھا جو متحدہ عرب امارات سائنسی صلاحیتوں، ابھرتے ہوئے منصوبوں اور نجی شعبے کی کمپنیوں کو فراہم کرتا ہے جو خلائی ٹیکنالوجی ، صنعتوں اور تحقیق میں مہارت رکھتے ہیں۔ اس میں وزیر مملکت برائے ایڈوانس سائنسز اور امارات خلائی ایجنسی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی چیئر سارہ بنت یوسف الامیری نے شرکت کی۔ سیشن میں نئے اماراتی خلائی مشن کے بارے میں اہم تفصیلات فراہم کی گئیں۔ سیارے وینس تک پہنچنے کے علاوہ اس منصوبے میں زمین سے 560 ملین کلومیٹر دور واقع ایک بیلٹ پر اترنے کے ھوالے سے بھی غور کیا جائے گا۔ سیشن میں اہم اقتصادی شعبوں جیسے کہ مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ، چوتھے صنعتی انقلاب کی ایپلی کیشنز ، انٹرنیٹ آف تھنگز ، بڑے اعداد و شمار کا تجزیہ ، معلومات کا ذخیرہ اور قابل تجدید اور پائیدار توانائی ٹیکنالوجیز کی ترقی پر خلائی منصوبوں کے اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر مملکت برائے ایڈانسڈ ٹیکنالوجی اور متحدہ عرب امارات کی خلائی ایجنسی کی صدر سارہ بنت یوسف الامیری نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کا مشن زہرہ اور ایسٹرائیڈ بیلٹ کو دریافت کرنا ہے اور یہ متحدہ عرب امارات کے خلائی شعبے میں ایک سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے مقامی اور علاقائی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی اور خلائی صنعتوں میں مہارت رکھنے والے ہنر مندوں کو راغب کرنے میں مدد ملے گی۔ یہ خلائی ٹیکنالوجیز میں ابھرتے ہوئے منصوبوں کے لیے متحدہ عرب امارات کی پوزیشن کو ایک منزل کے طور پر مستحکم کرے گا۔ وزیر مملکت نے جی سی سی میں خلائی شعبے کی ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے نئے منصوبے کی اہمیت پر زور دیا جس نے مختلف اقتصادی شعبوں پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے خلائی مشنوں کے دوران انجینئرز ، سائنسدانوں اور جدت کاروں کے ذریعہ خلائی ٹیکنالوجیز اور سائنسیں ، مستقبل کے شہروں اور دنیا بھر کے معاشروں میں معیار زندگی کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں گی۔ انہوں نے خلائی شعبے کے لیے نوجوان ٹیلنٹ کو بااختیار بنانے اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ابھرتے ہوئے منصوبوں ، اور عرب گروپ فار اسپیس کوآپریشن میں شمولیت کے لیے بحرین کی کوششوں اور اقدامات کی تعریف کی جو کہ اس کی قیادت کی خلاء اور مستقبل میں سرمایہ کاری کی خواہش کی تصدیق کرتی ہے۔ بحرین کی نیشنل اسپیس سائنس اتھارٹی کے سی ای او ڈاکٹر محمد ابراہیم العسیری نے اس بات پر زور دیا کہ انکے ملک کا شاہی وژن پائیدار معاشی ترقی کو بڑھانے کے لیے خلا اور مستقبل کے علوم میں سرمایہ کاری پر مرکوز ہے۔ یہ خلائی شعبے میں مہارت اور امید افزا خیالات کو بااختیار بنانے ، نوجوانوں اور خواتین کی موجودگی کو ایسے شعبوں میں بڑھانے اور انسانیت کی خدمت کے لیے خلائی تحقیق اور متعلقہ ٹیکنالوجیز میں بین الاقوامی تعاون کے اصول کو مستحکم کرنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایس ایس اے بحرینی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اس میں خواتین 60 فیصد سے زائد افرادی قوت پر مشتمل ہیں جن میں سے 66 فیصد سے زیادہ قائدانہ کردار ادا کرتی ہیں۔ ڈاکٹر العسیری نے متحدہ عرب امارات کے خلائی شعبے پر توجہ دینے پر زور دیا جس نے پچھلے کچھ سالوں میں قابل ذکر کارنامے حاصل کیے ہیں اور یہ خطے کی خلائی صنعت میں ایک اہم اضافہ کی نمائندگی کرتا ہے جو مستقبل میں بہت سے معاشی اور سائنسی شعبوں کو فائدہ پہنچائے گا۔ ڈاکٹر العسیری نے نشاندہی کی کہ بحرین اعلی درجے کی سائنسی صلاحیتوں کا مالک ہے جو مملکت اور خطے میں خلائی شعبے کو بلند کر سکتا ہے اور خلائی صنعتوں ، ٹیکنالوجیز اور پروگراموں میں نمایاں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کر سکتا ہے۔ الیاہ سیٹلائٹ کمیونیکیشن کمپنی کے سی ای او علی الہاشمی نے کہاکہ متحدہ عرب امارات کے پاس اس وقت 17 سے زیادہ مصنوعی سیارے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دس دیگر مصنوعی سیارے تیار ہورہے ہیں اور اس میں 50 سے زیادہ کمپنیاں ، ادارے اور خلائی سہولیات موجود ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی یہ تعداد کئی گنا بڑھ جائے گی۔ ترجمہ: ریاض خان ۔ http://wam.ae/en/details/1395302980835

WAM/Urdu