جمعہ 03 دسمبر 2021 - 1:07:14 صبح

متحدہ عرب امارات کا گھروںمیں تقریبات اور بزنس چارٹر فلائٹس سے متعلق پروٹوکول اپ ڈیٹ کرنے کا اعلان

ویڈیو تصویر

ابوظبی، 19 اکتوبر، 2021 (وام) ۔۔ نیشنل ایمرجنسی کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سرکاری ترجمان ڈاکٹر طاہر الامیری نے گھروں میں تقریبات، اجتماعات، شادیوں اور جنازوں کی میزبانی اور برنس چارٹر فلائٹس پر پابندیوں سے متعلق پروٹوکول کو اپ ڈیٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کوویڈ 19 وبائی امراض پر متحدہ عرب امارات کی حکومت کی میڈیا بریفنگ کے دوران ڈاکٹر الامیری نے کہا کہ وباء کے دو سالوں کے دوران پیدا ہونے والے تمام چیلنجوں کو متحدہ عرب امارات نے مواقع میں تبدیل کرنے میں کامیابی حاصل کی اور بدترین حالات کو سنبھالنے کے لیے اپنی تیاری کو ثابت کیا۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کا کرائسز مینجمنٹ ماڈل ایک مثال بن گیا ہے اور اسے خطرات سے بچنے کے لیے فعال اقدامات کرنے کا ایک منفرد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر الامیری نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کا نقطہ نظر اور اس کی کامیابی نے قومی حکام کے ایکشن ماڈل کو اجاگر کیا جو کہ ایک لچک کے ساتھ چیلنجوں اور خطرات کے انتظام کے لیے ایک مربوط ماحولیاتی نظام کو استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کا صحت کا شعبہ حاصل شدہ استثنیٰ حاصل کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ 96.45 فیصد آبادی کو پہلی خوراک مل چکی ہے جبکہ 86.45 فیصد آبادی کو مکمل طور پر ویکسین دی گئی ہے۔ ڈاکٹر الامیری نے کہا کہ ہمیں قومی کوششوں کی حمایت میں کمیونٹی کے کردار خاص طور پر متحدہ عرب امارات کی جانچ کی حکمت عملی کی کامیابی میں اس کی شراکت پر فخر ہے کیونکہ ہم ملک بھر میں 90 ملین ٹیسٹوں کا ہدف حاصل کرنے کے قریب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات وبائی امراض کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے جس کا مقصد حاصل شدہ استثنیٰ کو بڑھانا اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ ڈاکٹر الامیری نے کہا کہ گھروں میں اجتماعات، شادیوں اور آخری رسومات کے نئے پروٹوکول میں اس طرح کی سرگرمیوں کے لیے 80 فیصد کی گنجائش اور 60 افراد سے زیادہ کی حاضری کی حد مقرر کرنا شامل ہے۔ جنہوں نے 14 دن سے زیادہ پہلے ویکسین حاصل کی ہے انہیں شرکت کی اجازت ہے بشرطیکہ وہ الحسن ایپلی کیشن کے ذریعے گرین پاس کی ضروریات اور تیسری خوراک اور دیگر متعلقہ پروٹوکول کو پورا کرتے ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ تمام شرکاء کو ایونٹ کی تاریخ سے 48 گھنٹے سے بھی کم عرصے پہلے کیے گئے پی سی آر ٹیسٹوں کے منفی نتائج فراہم کرنا ہوں گے۔ پروٹوکول میں متعدد حفاظتی اقدامات بشمول بخار چیک کرنا، ماسک پہننا اور صفائی ستھرائی بھی شامل ہیں جن کا مقصد حاضرین کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے ۔ بھیڑ سے بچنے کے لیے داخلے کے عمل کو باقاعدہ بنایا جائے گا اورساتھ ہی داخلے اور خارجی سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے رکاوٹوں کا استعمال کیا جائے گا۔ ڈاکٹر الامری نے کہا کہ ہم حاضرین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مصافحہ نہ کریں اور ہر وقت 1.5 میٹر کا جسمانی فاصلہ رکھیں جبکہ ایک ہی میز پر زیادہ سے زیادہ 10 افراد بیٹ سکتے ہیں۔ اگر کسی کو سانس کی کوئی علامات یا بخار ہوں تو وہ اس طرح کے اجتماعات میں جانے سے گریز کرے۔ انہوں نے کہا کہ آہستہ آہستہ معمول پر آنے اور این سی ای ایم اے اور جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی (جی سی اے اے) کے ساتھ ہم آہنگی میں برنس چارٹر فلائٹس کیلئے بھی نئے پروٹوکول کا اعلان کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پروٹوکول رہائشی اور آنے والے تاجروں پر محیط ہے اور آئی سی اے کی ویب سائٹ کے ذریعے متعلقہ جمع کراتے ہوئے انہیں اپنی آمد کا اندراج کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں لازمی طور پر وفاقی اتھارٹی برائے شناخت، شہریت، کسٹمز اور بندرگاہوں کی سیکورٹی اور ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کی ایک کاپی بھی پیش کرنی ہوگی۔ متحدہ عرب امارات پہنچنے والے کاروباری افراد کو پی سی آر ٹیسٹ کا منفی نتیجہ بھی پیش کرنا ہوگا جو روانگی سے 48 گھنٹوں سے بھی کم پہلے کے کیو آر کوڈ کے ساتھ ساتھ روانگی کے وقت کے چھ گھنٹے کے اندر ہوائی اڈے پر ریپڈ پی سی آر ٹیسٹ کا منفی نتیجہ بھی پیش کرے گا۔ مزید یہ کہ متحدہ عرب امارات پہنچنے پر پی سی آر ٹیسٹ کیا جائے گا۔ چوتھے اور آٹھویں دن دو مزید ٹیسٹ لیے جائیں گے۔ پروٹوکول میں کاروباری چارٹر پروازوں کی زیادہ سے زیادہ گنجائش کو منسوخ کرنا بھی شامل ہے جس سے تمام ویکسین شدہ کاروباری افراد کو مقررہ ہدایات کے مطابق متحدہ عرب امارات میں داخل ہونے کی اجازت ملتی ہے۔ ڈاکٹر الامیری نے کہا کہ ہم تمام قومی کوششوں کو سراہتے ہیں جس کا مقصد کووڈ 19 وبائی مرض سے بحالی کو یقینی بنانا ہے اور ہم متعلقہ پروٹوکول پر عمل کرنے کے لیے کمیونٹی کے تمام طبقات کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ قابل اطلاق ہدایات پر عمل پیرا رہیں جس سے بحالی کا عمل تیز ہوگا اور انفیکشن میں مزید کمی آئے گی۔ ترجمہ: ریاض خان ۔ http://wam.ae/en/details/1395302982722

WAM/Urdu