جمعرات 20 جنوری 2022 - 10:04:51 شام

متحدہ عرب امارات ،اردن اور اسرائیل پائیدارمنصوبوں کے ذریعے مل کر موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کریں گے


دبئی، 22 نومبر، 2021 (وام) ۔۔ اردن، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے قابل تجدید بجلی اور پانی کو صاف کرنے کی صلاحیت کو بڑھانے اور خطے میں توانائی اور پانی کے تحفظ کو موسمیاتی تبدیلی سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے ارادے کے تحت ایک تاریخی اعلان پر دستخط کیے ہیں۔ دستخطوں کی تقریب دبئی ایکسپو میں یو اے ای لیڈرشپ پویلین میں ہوئی، اس موقع پر وزیرصنعت و جدید ٹیکنالوجی اور خصوصی ایلچی برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر سلطان بن احمد الجابر اور امریکی صدر کے خصوصی ایلچی برائے موسمیاتی تبدیلی جان کیری بھی موجود تھے۔ اعلامیے پر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات کی وزیر مریم بنت محمد المهيري ، اردن کے وزیر برائے پانی و آبپاشی محمد النجار اور اسرائیل کی وزیر توانائی کرین الہارار نے دستخط کیے ۔ یہ اعلامیہ دو باہم منحصر اور امکانی حصوں پر مشتمل ہے۔ جن میں سے ایک اردن میں 600 میگاواٹ کی پیداواری صلاحیت کے شمسی فوٹو وولٹک پلانٹس، پراسپریٹی گرین، کا منصوبہ شامل ہے، جس سے پیدا ہونے والی تمام صاف توانائی اسرائیل کو برآمد کی جائے گی۔ دوسراجزوپانی کو صاف کرنے کا پائیدار پروگرام پراسپریٹی بلیو ہے جو اسرائیل میں اردن کو 20کروڑ کیوبک میٹر تک صاف پانی کی فراہمی کے لیے قائم کیا جائے گا۔ منصوبے کے لیے فزیبلٹی اسٹڈیز 2022 میں شروع ہوگی۔ اس اعلامیے پر تبصرہ کرتے ہوئے، خارجہ امور و بین الاقوامی تعاون کے وزیر شیخ عبداللہ بن زاید آلنھیان نے کہاکہ موسمیاتی تبدیلی کا مشرق وسطیٰ کے ممالک اور معاشروں پر پہلے ہی بڑا اثر پڑ رہا ہے۔ اسیے موقع پر جب 2023 میں متحدہ عرب امارات میں سی اوپی 28 کے انعقاد کی تیاریاں کی جارہی ہیں ، یہ اعلامیہ اس بات کا اظہار ہے کہ تمام ممالک توانائی کی منتقلی کو آگے بڑھانے کے لیے مل کر کام کرتے ہوئے سب کے لیے زیادہ پائیدار مستقبل کی تعمیر کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ متحدہ عرب امارات اسرائیل اور اردن کو ایک ایسے منصوبے میں ایک ساتھ شریک کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے پر خوش ہے جس سے دونوں ممالک کے ماحولیاتی تحفظ اور مشترکہ مفادات کو تقویت ملے۔ یہ اعلان ابراہیمی معاہدے کے مثبت نتائج میں سے ایک ہے جو خطے کے تمام لوگوں کی زندگیوں اور مستقبل کے امکانات کو بہتر بناتے ہوئے امن، استحکام ، خوشحالی اورعلاقائی سلامتی کو مستحکم بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ محمد النجار نے کہاکہ موسمیاتی تبدیلی اور پناہ گزینوں کی آمد نے اردن کی پانی کی دستیابی کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے، تاہم، اس شعبے میں پائیداری کو فروغ دینے میں مدد کے لیے علاقائی تعاون کے بہت سے مواقع موجود ہیں۔ کرین الہارار نے کہاکہ آج ہم جس اعلامیہ پر دستخط کر رہے ہیں، وہ نہ صرف اسرائیل اور اردن کے لیے بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے اور یہ دنیا بھر کے لیے ایک مضبوط پیغام ہو گا کہ ممالک موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے کیسے مل کر کام کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹر سلطان الجابر نے کہاکہ آج کی یہ کامیابی اس بات کا طاقتور مظاہرہ ہے کہ کس طرح ترقی پسند کلائمیٹ ایکشن نہ صرف وسائل کے تحفظ کو بہتر بناسکتا ہے، بلکہ لوگوں کے درمیان پُل بنانے اور علاقائی استحکام کو تقویت دینے میں بھی کام کر سکتا ہے۔ پینے کے صاف پانی تک اردن کی رسائی کو بہتر بناتے ہوئے اسرائیل اپنے صاف توانائی کے اہداف کو حاصل کرے گا ۔ یہ اس قسم کا جامع کلائمیٹ ایکشن ہے جس میں بہتر پالیسی، تخلیقی سوچ اور حقیقی شراکت داری کا جذبہ شامل ہے ۔ اس موقع پر جان کیری نے کہاکہ مشرق وسطیٰ موسمیاتی بحران کی فرنٹ لائن پر ہے۔ صرف مل کر کام کرنے سے ہی خطے کے ممالک چیلنج پر قابو پاسکتے ہیں۔ آج کا اقدام اس بات کی ایک خوش آئند مثال ہے کہ کس طرح باہمی تعاون توانائی کی منتقلی کو تیز کر سکتا ہے ۔ انہون نے کہا کہ امریکہ ان ممالک کے جرات مندانہ اور تخلیقی اقدامات سے متاثر ہے جنہوں نے اس اعلامیہ کو ممکن بنایا، اور وہ فریقین کے ساتھ ساتھ خطے اور دنیا بھر کے دیگر لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔ ترجمہ۔تنویر ملک http://wam.ae/en/details/1395302995503

WAM/Urdu