ہفتہ 13 اگست 2022 - 4:14:24 شام

FCSC نے متحدہ عرب امارات کے 50سال کی معاشی ترقی کے اعدادوشمار جاری کردیئے


ابوظبی، 30 نومبر، 2021 (وام) ۔۔ گزشتہ 50 سالوں میں متحدہ عرب امارات نے متنوع اور پائیدار معیشت کے لیے ٹھوس بنیادیں قائم کی ہیں اور ملک 1950 کی دہائی میں خطے میں تیل کی دریافت کے بعداہم اقتصادی ترقی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے جدت کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اور کلیدی اقتصادی شعبوں کے ریگولیٹری فریم ورک کو بہتر بناتے ہوئے علم پر مبنی معیشت کی طرف منتقلی کے لیے بھی اہم کوششیں کی ہیں۔ وفاقی مسابقتی اور شماریاتی مرکز (FCSC) نے ملک کی گولڈن جوبلی کے موقع پر گزشتہ 50 سالوں کے دوران ملک کی اقتصادی ترقی کو نمایاں کرنے والے اہم حقائق اور اعداد و شمار کا انکشاف کیاہے۔ رپورٹ میں 1975 میں ملک کی جی ڈی پی میں 58.3ارب درہم سے 2020 تک 1.3 کھرب درہم کے نمایاں اضافے کو اجاگر کیا گیا ہے جبکہ GDP میں غیر تیل کے شعبوں کا حصہ 1975 میں 43 فیصد سے بڑھ کر 2020 میں 83 فیصد ہو گیا ہے۔ رپورٹ میں مجموعی غیر ملکی تجارت میں 1975 میں 11.5 ارب درہم سے 2020 میں 1.4 کھرب درہم تک کا اضافےکا انکشاف بھی کیا گیاہے۔ ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں 82 فیصد اضافہ ہوا ہےجو کہ2005 میں 40 ارب درہم کے مقابلے میں 2020 میں تقریباً 73 ارب درہم ہے۔ بیرون ممالک میں ملک کی FDI کی مالیت 2005 میں 14 ارب درہم سے بڑھ کر 2020 میں 69.5 ارب درہم ہو گئی۔رپورٹ میں حکومتی اخراجات 1975 میں 1.258 ارب درہم سے 2019 میں 442.386 ارب درہم تک کے اضافے کا بھی انکشاف کیاگیا ہے۔ ملک میں کمرشل بینکوں کی تعداد 1972 کے 20 سے بڑھ کر 2020 میں 59 ہو جانے کے بعد بینکنگ سیکٹر میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیاہےجب کہ بینک ڈپازٹس کی کل مالیت 1978 میں 19.5 ارب درہم سے بڑھ کر2020 میں تقریباً 1.9 کھرب درہم ہو گئی ہے۔ملک میں انشورنس کمپنیوں کی تعداد 1975 میں 62 تھی جو 2020 میں بڑھ کر 406 ہو گئی ہے۔ متحدہ عرب امارات کا سیاحت کا شعبہ بھی کامیابی کی کہانی سنا رہا ہے ۔یہ ایک اہم بین الاقوامی مرکز بن گیا ہے جہاں دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں۔ہوٹلوں کی تعداد 1978 میں 5,379 کمروں کے ساتھ 64 سے بڑھ کر 2020 میں 1,80,257 کمروں کے ساتھ 1,089 ہوگئی ہے۔ ملک کے ہوٹل انڈسٹری کی آپریشنل صلاحیت نے گزشتہ برسوں میں خا صی ترقی کی ہے۔ 1979 میں ہوٹل کے مہمانوں کی تعداد تقریباً 392,000 جن میں قیام کی کل تعداد 1.02 ملین تھی 2020 میں یہ تعداد 14.882 ملین مہمانوں سے تجاوز کر گئی جس میں ہوٹل میں قیام کی کل تعداد 54.3 ملین ہے۔2020 میں ہوٹل کی کل آمدنی 16.6 ارب درہم سے تجاوز کرگئی ہےجو کہ 2005کی کل آمدنی 1.5ارب درہم کے مقابلے میں ایک نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے ۔ متحدہ عرب امارات نے قابل تجدید توانائی کے حل کو اپنانے کے علاوہ اپنی بڑھتی ہوئی آبادی اور اس کی اقتصادی اور تجارتی نمو کی وجہ سے بجلی اور پانی کی بڑھتی ہوئی قومی طلب کو پورا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کوششیں کی ہیں۔ملک کے پاور پلانٹس کی کل صلاحیت 1975 میں 482 میگاواٹ سے بڑھ کر 2020 میں تقریباً 35,000 میگاواٹ ہو گئی ہے جب کہ 2020 میں پیدا ہونے والی بجلی 137,000 گیگا واٹ فی گھنٹہ سے تجاوز کر گئی جوکہ 1975 میں 1,467 گیگا واٹ فی گھنٹہ تھی۔ قابل تجدید توانائی کے پلانٹس سے پیدا ہونے والی بجلی میں 2009 کے مقابلے میں 2020 تک نمایاں اضافہ ہوا ہےجو 2009 میں 6 گیگا واٹ گھنٹے سے بڑھ کر 2020 میں 5,476 گیگا واٹ گھنٹے تک پہنچ گئی ہے۔ 2009 میں قابل تجدید توانائی کے پلانٹس کی کل نصب صلاحیت 10 میگاواٹ تھی جو کہ 2020 میں22,698 فیصد اضافے کے ساتھ2289 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔ رپورٹ میں 2020 میں پیدا ہونے والے صاف شدہ پانی کی مقدار میں اضافے پر روشنی ڈالی گئی جوکہ1983 کے 256 ملین مکعب میٹرکےمقابلے میں 2020 تک2 بلین ارب کیوبک میٹر تک پہنچ گئی ہے۔ 2011 میں ملک میں گندے پانی کو صاف کرنے والے پلانٹس کی کل تعداد 51 تھی جوکہ 2020 میں 145 فیصداضافے کے ساتھ125 تک پہنچ گئی ہے گندے پانی کے ٹریٹمنٹ کی مقدار2011 میں498 ملین کیوبک میٹرتھی جو کہ 2020 میں 55 فیصداضافے کے ساتھ 769 ملین کیوبک میٹر تک پہنچ گئی ہے۔ ترجمہ ریاض خان http://wam.ae/en/details/1395302998495

WAM/Urdu