ہفتہ 28 مئی 2022 - 11:01:21 صبح

متحدہ عرب امارات کے صارفین اشیائے صرف اور خوراک کے انتخاب میں پائیداری کوترجیح دینے میں سب سے آگے ہیں:سروے

  • bord bia image 1
  • bord bia image 2

دبئی، 19 جنوری، 2022 (وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات کے صارفین کھانے پینے کی چیزوں کا انتخاب کرتے وقت پائیداری کو مدنظر رکھنے میں عالمی سطح پر آگے بڑھ رہے ہیں ۔ آئرش فوڈ بورڈ، بورڈ بیا کی جانب سے 13 ممالک میں خریداری عادات کے حوالے سے ایک سروے کیا گیا جس کا مقصد اس بات کو سمجھناتھاکہ مختلف مارکیٹوں کی جانب سے ان تبدیلیوں کے حوالے سے کیااقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔کووڈ19 کی وبا نے غیر شعوری طور پر دنیا بھر میں خریداری اور کھانے پینے کی عادات میں تبدیلی کو تیز کر دیا ہے، زیادہ صارفین اخلاقیات اور پائیداری کے عوامل سے متاثر ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات میں کھانے پینے کی چیزیں حاصل کرتے وقت پائیداری کو ترجیح دینے میں سب سے بہتر پیش رفت ہورہی ہے۔ متحدہ عرب امارات میں صارفین مختلف ممالک اور خطوں کے لوگوں پر مشتمل ہیں کیونکہ ملک کی 98لاکھ 90ہزار کی آبادی میں اکثریت غیر ملکیوں کی ہے جس میں چھٹے حصے سے بھی کم مقامی لوگ ہیں۔ بورڈ بیا کے سروے میں، متحدہ عرب امارات کے صارفین نے قدرتی کھانوں میں بڑھتی ہوئی دلچسپی ظاہر کی ۔ سروے میں شامل تقریباً 60 فیصد نے اس بات پر اتفاق کیا کہ قدرتی طور پر پیدا ہونے والی مصنوعات ان کے گروسری کے انتخاب کو متاثر کرتی ہے، جو تمام مارکیٹوں میں سب سے زیادہ ہے۔ بورڈ بیا مشرق وسطیٰ کے ریجنل ڈائریکٹر کیرن فٹزجیرالڈ کا کہنا ہے کہ سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ وباکے اثرات کی وجہ سے صارفین کے رویوں میں تبدیلی خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں اب وقتی رجحان نہیں سمجھا جا سکتا مشروبات کی صنعت کو اب پہلے سے کہیں زیادہ صارفین کے مطالبات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، اور یہ زیادہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ترقی کے خواہاں کھانے پینے کی مصنوعات بنانے والوں کے لیے یہ ایک ناقابل یقین موقع ہے کہ وہ اپنی کاروباری حکمت عملی کی بنیاد میں پائیداری کو اختیار کریں ۔ پائیداری سے منسلک، متحدہ عرب امارات کے صارفین کھانے کے معیار اوراس کے ماخذ کے بارے میں بھی تیزی سے آگاہی حاصل کر رہے ہیں، اور اس کے نتیجے میں کھانے اور مشروبات کی مصنوعات کے لیے غذائیت اور قدرتی ہونے کی کوالٹی کی یقین دہانی پرایک قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہیں ۔ متحدہ عرب امارات میں گائے کا گوشت خریدنے والے تقریباً ایک تہائی (29 فیصد) صارفین کوالٹی بیف کے لیے پریمیم ادا کرنے کو تیار ہیں۔ مزید برآں، متحدہ عرب امارات کے نصف شرکاء (47 فیصد) نے قدرتی ڈیری مصنوعات میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا۔ کیران نے مزید کہا کہ کھانے کے معیار میں یہ زیادہ دلچسپی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ متحدہ عرب امارات کی مارکیٹ ممکنہ طور پر غذائیت کی اقدار اور مصنوعات کی فطری حیثیت کی بنیاد پر چیزوں کا انتخاب کرے گی۔ اس سے اس حقیقت کو تقویت ملتی ہے کہ کاروباری اداروں کو ایک کامیاب کاروبار بنانے کے لیے اپنے صارفین کو ان کے پائیداری کے ایجنڈے اور خوراک کی پیداوار کے وسیع تر طریقوں کے بارے میں تعلیم دینے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کے 84 فیصد صارفین نے کہا کہ وہ گزشتہ 12 ماہ سے مصنوعی اجزا سے بنی اشیاء کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے کوشاں ہیں جو کہ عالمی اوسط 75 فیصد سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ اگر موجودہ غذائی عادات برقرار رہیں تو 2050 تک خوراک کی پیداوار تقریباً دوگنی ہو جائے گی، جس سے پانی اور حیاتیاتی تنوع جیسے قدرتی وسائل ختم ہو جائیں گے ۔ اس لیے یہ زیادہ ضروری ہے کہ پائیدار طریقوں کو ترجیح دی جائے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ بورڈ بیا سروے کاروباری اداروں کو پائیدار خوراک کے حوالے سے صارفین کی ترجیحات کا جائزہ لینے اور مختلف معاشروں میں مطلوبہ اجزاء کو سب سے زیادہ اہمیت دینے میں مدد کرتا ہے۔ ترجمہ۔تنویر ملک https://wam.ae/en/details/1395303012735

WAM/Urdu