اتوار 29 مئی 2022 - 11:58:07 صبح

COP28میں ہونے والی بات چیت میں تیل،گیس کےماہرین کی آرا ء شامل ہونی چاہیئے:سلطان الجابر


ابوظبی، 19 جنوری،2022 (وام)۔۔ وزیر صنعت اور جدید ٹیکنالوجی اور ابوظبی نیشنل آئل کمپنی (ادنوک) کے منیجنگ ڈائریکٹر اور گروپ سی ای او ڈاکٹر سلطان بن احمد الجابر نے کہا ہے کہ 2023 میں متحدہ عرب امارات میں منعقد ہونے والی COP28 کے دوران ہونے والی بات چیت میں تیل اور گیس کے ماہرین کیا آرا ء کو شامل کیا جانا چاہیے کیونکہ دنیا موجودہ توانائی کے نظام سے اچانک الگ نہیں ہو سکتی ہے۔ اوپیک کا تیسرا سب سے بڑا پروڈیوسر متحدہ عرب امارات ایک ایسے وقت میں COP28 کی میزبانی کر رہا ہے جب ملک کی سب سے زیادہ توانائی پیدا کرنے والی کمپنی ابوظبی نیشنل آئل کمپنی 2030 تک اپنی تیل کی پیداواری صلاحیت کو تقریباً 4 ملین بیرل روزانہ سے بڑھا کر 5 ملین کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ادنوک کا کہنا ہے کہ دنیا کو اس کے تیل کی ضرورت ہوگی کیونکہ یہ کم قیمت اور کم کاربن ہے ۔ ڈاکٹر الجابر جو متحدہ عرب امارات کے خصوصی ایلچی برائے موسمیاتی تبدیلی بھی ہیں نے اٹلانٹک کونسل کے ایک ورچوئل ایونٹ کو بتایاکہ ہم کل کے توانائی کے نظام میں کامیابی کے ساتھ منتقلی چاہتے ہیں۔ ہم آج کے توانائی کے نظام سے سوئچ دبا کرالگ نہیں ہو سکتے ہیں۔ ہمیں مشاورت اور بات چیت میں توانائی کے ماہرین کو شامل کرنے کی ضرورت ہے اور ہمیں اقتصادی نظام کو مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ متحدہ عرب امارات نے 2050 تک کاربن کے اخراج کو صفر کرنے کا مشرق وسطیٰ کا پہلا ملک بننے کا عزم کررکھا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے حکام نے دلیل دی ہے کہ کم سے کم کاربن انتہائی توانائی پیدا کرنا اخراج کو کم کرنے اور قابل تجدید توانائی اور صاف ہائیڈروجن کی ترقی کے متوازی طور پر جا سکتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے 2050 کے وعدے کے بعد سعودی عرب اور بحرین کی جانب سے 2060 تک اخراج صفر تک لانے کے لیے اسی طرح کے وعدے کیے گئے تھے۔ ڈاکٹرالجابر نے کہاکہ ان سرگرمیوں اور اقدامات کو شروع کرنے سے ہمارا مقصد اخراج کو روکنا ہے نہ کہ ترقی یا معاشی ترقی کو روکنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب تک دنیا تیل اور گیس پر انحصار کرتی رہے گی ہم کم سے کم کاربن والے تیل اور گیس کی قابل اعتماد سپلائی کو یقینی بنانے میں مدد کرنے میں بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ یہ مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ ایس اینڈ پی گلوبل آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر الجابر کے تبصرے سعودی حکام بشمول وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان السعودکے ان بیانات کے مطابق ہیں جنہوں نے کہا تھا کہ توانائی کی منتقلی دنیا کے لیے خلل ڈالنے والی نہیں ہونی چاہیے۔ سعودی شہزادے نے وضاحت کی کہ اگر یہ معیشت کے لیے خلل ڈالنے والا ہے، اگر یہ پائیداری کے لیے خلل ڈالنے والا ہے، اگر یہ یہاں اور وہاں اور دوسری جگہوں پر شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے خلل ڈالنے والا ہے تو اس پر دوبارہ غور کیا جانا چاہیے۔ شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان السعودنے کہا کہ توانائی کی حفاظت دنیا کے لیے اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اس میں اخراج کو کم کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور توانائی کے مختلف ذرائع کو خارج نہیں کرنا چاہیے۔ ترجمہ: ریاض خان ۔ https://wam.ae/en/details/1395303012854

WAM/Urdu