عبداللہ بن زاید متحدہ عرب امارات اور کویت کی مشترکہ کمیٹی کے سربراہ، آٹھ مفاہمتی یادداشتوں اور ایگزیکٹو پروگراموں پر دستخط

ابوظہبی، 2 ستمبر 2024 (وام) -متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان کی صدارت میں متحدہ عرب امارات اور کویت کی مشترکہ اعلیٰ کمیٹی کے پانچویں اجلاس کا پیر کے روز ابوظہبی میں انعقاد ہوا۔ کمیٹی میں کویت کی نمائندگی وزیر خارجہ عبداللہ علی عبداللہ الیحیٰ نے کی۔

اس اہم اجلاس میں وزیر توانائی و بنیادی ڈھانچہ جناب سہیل بن محمد المزروعی؛ وزیر صنعت و جدید ٹیکنالوجی ڈاکٹر سلطان احمد الجابر؛ وزیر کھیل ڈاکٹر احمد بالہول الفلاسی؛ وزیر ثقافت شیخ سالم بن خالد القاسمی؛ وزیر تعلیم محترمہ سارہ بنت یوسف العامری؛ وزیر مملکت جناب خلیفہ شاہین المرر کے علاوہ دونوں ممالک کے متعدد اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اپنے افتتاحی بیان میں اماراتی وزیر خارجہ نے کویتی وزیر خارجہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ "مشترکہ کمیٹی کا یہ پانچواں اجلاس دونوں برادر ممالک کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، جس کی بنیاد مرحوم شیخ زاید بن سلطان النہیان نے اپنے بھائیوں، مرحوم شیخ صباح السلم الصباح اور مرحوم شیخ جابر الاحمد الصباح کے ساتھ مل کر رکھی تھی۔"

انہوں نے مزید کہاکہ، "ہم متحدہ عرب امارات کےصدر شیخ محمد بن زاید النہیان اور کویت کے امیر شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح کی قیادت اور رہنمائی میں تعاون اور مشترکہ کام کے سفر کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم اور مصمم ہیں۔"

انہوں نے کہاکہ، “متحدہ عرب امارات اور کویت کے تعلقات کی بنیاد، جو انہیں دوسرے ممالک سے ممتاز کرتی ہے، وہ گہرے سماجی اور ثقافتی تعلقات ہیں جو دونوں قوموں کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔ یہ تعلقات محض سفارتی معاہدوں سے بالاتر ہیں، یہ بھائی چارے، دوستی، مشترکہ تاریخ، ورثے اور اقدار پر مبنی ہیں۔ یہ وہ بنیاد ہے جس پر دونوں ممالک کے تعلقات مسلسل مضبوط اور مستحکم ہو رہے ہیں۔ ہم اس بات کے پختہ عزم رکھتے ہیں کہ ان گہرے رشتوں کو مزید تقویت دے کر مختلف شعبوں میں باہمی ترقی اور خوشحالی کی نئی منازل طے کریں گے۔”

عزت مآب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ متحدہ عرب امارات نے ہمیشہ کویت کو تمام شعبوں میں ایک اسٹریٹجک شراکت دار اور خلیج عرب اور پورے خطے میں ترقی اور خوشحالی کے سفر کا ایک لازمی حصہ سمجھا ہے۔

اجلاس کے دوران انہوں نے مزید کہاکہ، “ہماری دو طرفہ غیر تیل تجارت میں حالیہ برسوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو 2023 میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جس کی کل مالیت 12 بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔ہم کویت کے ساتھ اپنی شراکت داری کو وسعت دینے کے لیے مسلسل منتظر ہیں، جن میں صنعت، تجارت، قابل تجدید توانائی، نقل و حمل اور بنیادی ڈھانچے جیسے شعبے شامل ہیں۔"

شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ متحدہ عرب امارات مختلف بین الاقوامی تنظیموں اور کثیر الجہتی پلیٹ فارمز کے اندر "ہمارے بھائیوں اور کلیدی شراکت داروں" کے ساتھ تعاون کی اہمیت پر یقین رکھتا ہے۔ لہٰذا، ہم بین الاقوامی تنظیموں اور فورمز میں اپنے دونوں برادر ممالک کی نامزدگیوں کے لیے باہمی حمایت جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ کثیر الجہتی سطح پر اپنی شراکت داری کو بڑھانے کے منتظر ہیں۔

شیخ عبداللہ نے کہاکہ، "متحدہ عرب امارات الدرہ فیلڈ اور سعودی-کویتی تقسیم شدہ زون سے متصل تقسیم شدہ زیر آب علاقے میں قدرتی وسائل کی ملکیت کے بارے میں اپنے معاون موقف کی توثیق کرتا ہے، جس میں پورے الدرہ فیلڈشامل ہے۔ یہ وسائل خصوصی طور پر سعودی عرب اور کویت کی ملکیت ہیں، اور دونوں ممالک کو بین الاقوامی قانون کے مطابق اور ان کے درمیان طے شدہ اور نافذ العمل معاہدوں کی بنیاد پر اس علاقے میں قدرتی وسائل کو استعمال کرنے کے خصوصی حقوق حاصل ہیں۔"

اختتام میں، شیخ عبداللہ نے کمیٹی کے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا، اور کویتی وزیر خارجہ اور ان کے وفد کے متحدہ عرب امارات میں خوشگوار قیام کی خواہش کی۔

دو طرفہ ملاقات کے بعد، دونوں اعلیٰ سفارت کاروں نے مشترکہ اعلیٰ کمیٹی کے پانچویں اجلاس کے مذاکرات پر دستخط کیے۔ شیخ عبداللہ نے دونوں ممالک کے درمیان آٹھ مفاہمت کی یادداشتوں اور ایگزیکٹو پروگراموں پر دستخط کا بھی مشاہدہ کیا۔

متحدہ عرب امارات اور کویت نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کے لیے متعدد مفاہمت کی یادداشتوں اور ایگزیکٹو پروگراموں پر دستخط کیے ہیں۔ ان معاہدوں میں انفراسٹرکچر کی ترقی، معیاری کاری، ٹیلی کمیونیکیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، تعلیم، کھیل، ثقافت، سائبر سیکیورٹی، اور دفاعی خریداری اور صنعتوں کے شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

ان مفاہمت کی یادداشتوں پر دونوں ممالک کے مختلف وزراء اور حکام نے مشترکہ اعلیٰ کمیٹی کے اجلاس کے دوران دستخط کیے۔

اس سے قبل، متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ نے اپنے کویتی ہم منصب سے ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔