متحدہ عرب امارات کے جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدوں نے 2023 میں تعاون کی نئی بنیاد رکھی

ابوظبی ، یکم جنوری ، 2024 (وام) ۔۔وزیر مملکت برائے خارجہ تجارت ڈاکٹر ثانی الزیودی نے کہا ہےکہ متحدہ عرب امارات کے جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے کے پروگرام (سی ای پی اے) پر2023 میں تیزی عملدرآمد ہوا اور اس کے تحت تین معاہدوں پرعملدرآمد ہوا، دو مزید دستخط شدہ اور عمل درآمد کے منتظر ہیں جبکہ چار پراتفاق کیا گیاہے۔ پروگرام کے آغاز کے بعد سے سی ای پی اے شراکت داروں کی کل تعداد چار براعظموں میں 10 ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ متحدہ عرب امارات کے غیر ملکی تجارتی نیٹ ورک کی خاطر خواہ توسیع کی نمائندگی کرتا ہے اور دنیا کی چند انتہائی متحرک معیشتوں میں ملک کے نجی شعبے کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔ تجارت کے لیے ایک اہم سال کے دوران ترکیہ، انڈونیشیا اور اسرائیل کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے سی ای پی اے معاہدوں پر عملدرآمد ہوا ، محصولات کو ختم یا کم کیا گیا، تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرکے برآمد کنندگان اور سرمایہ کاروں کے لیے مارکیٹ کے مواقع کھولے گئے۔

اس کے علاوہ کمبوڈیا اور جارجیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے ساتھ سی ای پی اے پر دستخط کیے گئے۔یہ دونوں معاہدے2024 کی پہلی ششماہی میں لاگو ہوں گے جبکہ جنوبی کوریا، کولمبیا، ماریشس اور کانگو،برازاویل کے ساتھ سی ای پی اے معاہدوں کے لیے شرائط پر بھی اتفاق کیا گیا۔ متحدہ عرب امارات نے سربیا، یوکرین، یوریشیا، آسٹریلیا، فلپائن، ملائیشیا، کوسٹا ریکا، کینیا، چلی اور ویت نام سمیت متعدد دیگر ممالک کے ساتھ سی ای پی اے مذاکرات کا آغاز کیا۔

سی ای پی اے پروگرام میں بھارت کے ساتھ شراکت داری بھی شامل ہے جو مئی 2022 میں نافذ کی گئی تھی۔ توقع ہے کہ متحدہ عرب امارات کی برآمدات میں 33% اضافہ ہو گا اور 2031 تک قومی جی ڈی پی میں 153 ارب درہم سے زیادہ کا حصہ ڈالے گا جو کہ 2022 میں تقریباً 10 فیصد کی ترقی کو ظاہرکرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی ای پی اے پروگرام نے ان منڈیوں تک رسائی حاصل کر لی ہے جن میں تقریباً 2 ارب لوگ ہیں جو دنیا کی آبادی کا ایک چوتھائی ہیں اور متحدہ عرب امارات کی معیشت کو طویل مدتی فوائد فراہم کرے گا۔

انکا کہنا ہے کہ تجارت متحدہ عرب امارات کے لیے ہمیشہ اہم رہی ہے۔ یہ ایک ایسا پل ہےجس نے ہماری مصنوعات، مہارتوں اور قدرتی وسائل کو دنیا سے جوڑا ہے اور ہماری معیشت کو اپنے جدید ترین آئیڈیاز اور اختراعات سے متاثر کیا ہے۔ گزشتہ 12 مہینوں میں تجارت ترقی کا ایک ریکارڈ قائم کرنے والا محرک، اقتصادی پالیسی کا ایک ستون، خارجہ تعلقات کا ایک اہم ستون اور حال ہی میں ختم ہونے والی کوپ28 میں موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ میں ایک نیا محاذ بن گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تجارت اب متحدہ عرب امارات کی مقامی کامیابی کا ایک مرکزی جزو ہے اور ہم فروری میں عالمی تجارتی تنظیم کی 13ویں وزارتی کانفرنس کی میزبانی کرنے کی تیاری کر رہے ہیں تو اس سے ملک کےبین الاقوامی اثر و رسوخ میں اضافہ ہوگا۔

ہمیں یقین ہے کہ متحدہ عرب امارات کے پاس عالمی تجارت کے لیے نئے مستقبل کی تشکیل میں مدد کے لیے یقین اور اعتبار ہے۔

الزیودی نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ 2023 کی پہلی ششماہی میں متحدہ عرب امارات کی غیر تیل کی غیر ملکی تجارت1.24 ٹریلین درہم کی اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جبکہ برآمدات بڑھ کر 205 ارب درہم تک پہنچ گئیں جو ایک ریکارڈ ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اپنے سی ای پی اے پروگرام کی کامیابی کے علاوہ 2023 میں کھلی اور جامع تجارت کے چیمپئن کے طور پر اپنی ساکھ کو مزید مستحکم کیا ہے جس کا مقصد تجارت کو آسان اور جدید بنانا ہے۔

جنوری میں متحدہ عرب امارات نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے ساتھ ٹریڈ ٹیک اقدام کا آغاز کیا جو بین الاقوامی سپلائی چینز کی ڈیجیٹلائزیشن کو تیز کرنے، کسٹم کے طریقہ کار کو بڑھانے اور عالمی تجارتی نظام تک ترقی پذیر ممالک کی رسائی کو بہتر بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے سروسز ایکسپورٹ کی ایک نئی حکمت عملی بھی نافذ کی ہے جو ملک کی خدمات کے شعبے میں تجارت کے لیے مارکیٹ کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے جو پہلے ہی خدمات میں کل عالمی تجارت کے 2.2فیصدکی نمائندگی کرتا ہے۔کوپ28 میں متحدہ عرب امارات نے پہلی بار ایک سرکاری یوم تجارتی دن کو شامل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس بات پر پورے دن کی بات چیت کی سہولت فراہم کی کہ کس طرح عوامی اور نجی شعبے ایک صاف ستھرا، بہتر اور زیادہ جامع تجارتی نظام فراہم کرنے کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں۔

فروری 2024 میں متحدہ عرب امارات عالمی تجارت کے اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (MC13) کی 13ویں وزارتی کانفرنس کی میزبانی کرے گا جس میں رکن ممالک، بین الاقوامی تجارتی تنظیمیں اور ادارے ابوظہبی میں ایک اہم اجلاس کے لیے جمع ہوں گے۔

ترجمہ: ریاض خان