متحدہ عرب امارات کا ناسا کے لونر گیٹ وے اسٹیشن میں اپنی شرکت کا اعلان

ابوظہبی، 7 جنوری، 2024 (وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان اور نائب صدر ، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کی موجودگی میں متحدہ عرب امارات نے امریکہ، جاپان، کینیڈا اور یورپی یونین کے ساتھ مل کر ناسا کے لونر گیٹ وے اسٹیشن کے ماڈیول کی تیاری میں اپنی شرکت اور اس منصوبے کے تحت پہلے اماراتی خلاباز کو قمری مدار میں بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

قمری گیٹ وے اسٹیشن پر کریو اور سائنس ایئرلاک ماڈیول کی ترقی میں ملکی تعاون کا مقصد خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اپنی عالمی حیثیت کو مضبوط بنانا ہے۔

صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان نے ابوظہبی کے قصر الوطن میں منعقدہ تقریب کے دوران کہا کہ اس بین الاقوامی منصوبے میں متحدہ عرب امارات کی شرکت دنیا کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دینے کے ہمارے عزم کی عکاسی ہے جو علم اور انسانیت کی ترقی کی ترقی میں معاون ہے۔

عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان نے قومی اداروں اور ٹیموں پر اپنے فخر کا اظہار کیا جو خلائی شعبے میں ملکی عزم اور اہداف کو حاصل کرنے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں، عزت مآبنے بین الاقوامی مشنز اور ایونٹس میں جاری شرکت کے لیے قیادت کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیاجو ملک اور عالمی برادری کی پائیدار ترقی کو آگے بڑھاتے ہیں۔

عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم نے کہا کہ ہمارے پاس خلائی شعبے میں طویل کامیابیاں ہے، ہماری ٹیم انتہائی ہنر مند پیشہ ور افراد پر مشتمل ہے جو انتہائی چیلنجنگ سائنسی مشنز کی قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جب ہمارے مستقبل کے اماراتی منصوبوں کی بات آتی ہے تو ہماری خواہش کی کوئی حد نہیں ۔

عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم نے مزید کہاکہ اس پروجیکٹ میں ایک اہم مشن ہمارا منتظر ہے جو چاند پر انسان کی واپسی، اس کی سطح پر اترنے اور اسے مریخ کی جانب مستقبل کے مشنز کے لیے ایک بنیاد کے طور پر قائم کرنے کے لیے ایک اہم اقدام کی نمائندگی ہے۔ اماراتی ٹیم دیگر بین الاقوامی ٹیموں کے ساتھ مل کر اس مشن کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ہم تمام ضروری وسائل فراہم کرکے ان کی مدد کریں گے۔

تقریب میں نائب صدر، نائب وزیراعظم اور صدارتی عدالت کے چیئرمین عزت مآب شیخ منصور بن زاید النہیان، دبئی کے ولی عہد اور دبئی ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین عزت مآب شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم،دبئی کے اول نائب حکمران اور نائب وزیر اعظم اور وزیر خزانہ عزت مآب شیخ مکتوم بن محمد بن راشد المکتوم نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ عزت مآب لیفٹیننٹ جنرل شیخ سیف بن زاید النہیان، وزیر خارجہ عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان،عزت مآب شیخ حمدان بن محمد بن زاید النہیان،صدارتی عدالت میں خصوصی امور کے مشیر شیخ محمد بن حمد بن طحنون النہیان،کابینہ کے امور کے وزیرمحمد بن عبداللہ القرقاوی متعدد وزراء اور اعلیٰ حکام موجود تھے۔

متحدہ عرب امارات اس منصوبے کا پانچواں بڑا شراکت دار ہے، جو 21ویں صدی کی سب سے اہم عالمی کامیابیوں میں سے ہو گا، اور خلائی شعبے میں متحدہ عرب امارات کی کامیابیوں میں سے ایک تاریخی کامیابی کی نمائندگی کرتا ہے۔
یہ شراکت نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (ناسا) کے تعاون سے حاصل کی گئی ہے۔ یہ پروجیکٹ پچاس سال سے زائد عرصے کی غیر موجودگی کے بعد چاند پر دوبارہ قدم رکھنے کی بنی نوع انسان کی خواہش کی تجدید ہے۔ اس اقدام میں مریخ کی طرف آنے والے مشنوں کی تیاری میں چاند کی سطح پر اترنا شامل ہے۔


ایئر لاک کی خصوصیات اور تفصیلات


یو اے ای قمری خلائی اسٹیشن کے کریو اور سائنس ایئرلاک کو تیار کرنے کا ذمہ دار ہوگا، جو خلابازوں کے لیے محفوظ ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم جزو ہے۔ یہ یونٹ سٹیشن کے پورٹل کے طور پر کام کرے گا، جو مشنز اور خلانوردوں کے لیے چاند کی سطح پر قمری گیٹ وے اسٹیشن سے داخلے اور خارجی مقام کے طور پر کام کرے گا۔

اسٹیشن کے ایئر لاک کا انتظام اور آپریشن بھی متحدہ عرب امارات کے پاس ہوگا۔ ایئر لاک کی لمبائی 10 میٹر، اس کی چوڑائی 4 میٹر، وزن 10 ٹن ہے، جب کہ پورے اسٹیشن کا سائز 1920 x 42x میٹر ہے۔
یہ سٹیشن ایک خلائی تجربہ گاہ کے طور پر دوگنا ہو جائے گا، جس سے سائنسی اور تکنیکی تجربات ممکن ہو ں گے، اور اس کی کم از کم عمر 15 سال ہو گی، جس میں توسیع ہو سکتی ہے۔
گیٹ وے کے پہلے حصے 2025 تک لانچ کیے جانے کی توقع ہے، جبکہ امارات ایئر لاک کو 2030 تک لانچ کیا جانا ہے۔


ایئر لاک پروجیکٹ کے مراحل

ایئر لاک کی تیاری پانچ اہم مراحل منصوبہ بندی ؛ ڈیزائن ؛ اہلیت ؛ پرواز کی تیاری؛ اور آپریشن پر مشتمل ہے۔
منصوبہ بندی کا مرحلہ ائیر لاک ماڈیول کی تیاری کے مقاصد، حکمت عملی اور پراجیکٹ پارٹنرز پر مشتمل ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں ائیر لاک یونٹ کے اجزاء کے لیے تفصیلی ڈیزائن اور ضوابط تیار کرنا شامل ہے۔
قابلیت کے مرحلے میں ایئرلاک یونٹ کے اجزاء کی جانچ اور اہلیت شامل ہے تاکہ خلائی حالات اور ضروریات کے لیے ان کی ساکھ اور حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ایئرلاک کی تیاری کے چوتھے مرحلے میں خلائی آلات کی تیاری اور لانچنگ، اور انہیں قمری گیٹ وے اسٹیشن میں جوڑتا شامل ہوگا۔
محمد بن راشد خلائی مرکز (ایم بی آر ایس سی) ایئر لاک کے انتظام، دیکھ بھال اور آپریٹ کرنے کا ذمہ دار ہو گا، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ یہ گیٹ وے کے حصے کے طور پر مؤثر طریقے سے کام کرے۔

آرٹیمس کیا ہے؟

ناسا کا اہم مشن "آرٹیمس" انسانوں کو چاند پر دوبارہ بھیجنے اور پائیدار طویل مدتی قمری مشن کے قیام پر مرکوز ہے۔ آرٹیمس مشنز سے توقع ہے کہ وہ چاند کے وسائل، ٹیکنالوجیز، اور کسی دوسرے آسمانی جسم پر رہنے اور کام کرنے کے بارے میں منفرد معلومات فراہم کریں گے، جو چاند، مریخ اور کائنات کی وسعت کے بارے میں ہماری سمجھ کو نمایاں طور پر آگے بڑھاتے ہیں۔
قمری گیٹ وے اسٹیشن اس کوشش کا ایک کلیدی حصہ ہے، کیونکہ انسان کا پہلا خلائی اسٹیشن چاند کے گرد چکر لگائے گا یہ اسٹیشن، بین الاقوامی اورو تجارتی شراکت داروں کے تعاون سے بنایااور خلابازوں کی صحت اور مشن کے مقاصد میں معاونت کے لیے ضروری کام فراہم کرے گا۔
یہ گیٹ وے طویل مدت کے لیے خلابازوں کے قیام، چاند کی سطح کے ساتھ بہتر مواصلت اور شمسی اور کائناتی تابکاری کے مطالعے میں سہولت فراہم کرے گا۔

متحدہ عرب امارات کا اہم ان پٹ

گیٹ وے میں متحدہ عرب امارات کی شمولیت بین الاقوامی خلائی تعاون میں ایک اہم پیشرفت ہے۔ یہ مستقبل کی عالمی خلائی برادری میں ملک کی حیثیت کو ایک اہم رہنما کے طور پر مستحکم کرے گی۔

متحدہ عرب امارات مستقل نشست رکھے گا اور چاند اور خلائی تحقیق کے سب سے بڑے پروگرام میں سائنسی طور پر حصہ ڈالے گا۔ یہ ان پہلے ممالک میں شامل ہو گا جو کسی خلاباز کو چاند پر بھیجیں گے، اسٹیشن کے ذریعے جمع کیے گئے جدید سائنسی اور انجینئرنگ ڈیٹا تک ترجیحی رسائی کے ساتھ، اس کے علم میں اضافہ ہوگا۔

گیٹ وے گہری خلا میں پائیدار دریافتوں اور تحقیق میں مدد کرے گا ، بشمول مختلف قسم کے دورے کرنے والے خلائی جہازوں کے لیے پورٹ ڈاکنگ؛ عملے کے رہنے، کام کرنے، اور چاند کی سطح کے مشن کے لیے 90 دن تک کی مدت کے لیے تیار کرنے کی جگہ؛ اور دیگر شعبوں کے علاوہ ہیلیو فزکس، ہیومن ہیلتھ اور لائف سائنسز کا مطالعہ کرنے کے لیے آن بورڈ سائنس تحقیقات میں معاونت فراہم کے گا۔
محمد بن راشد خلائی مرکز (ایم بی آر ایس سی) کے چیئرمین حمد عبید المنصوری نے کہا کہ اس پروجیکٹ میں ہماری شرکت متحدہ عرب امارات کے خلائی تحقیق کے سفر میں ایک نئے باب کی نشاندہی ہے۔ ہماری قیادت کے عزائم کی رہنمائی میں، ہم خلائی تحقیق کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔
محمد بن راشد خلائی مرکز کے ڈائریکٹر جنرل سالم حمید المری نے کہا کہ ہم اپنی دانشمند قیادت کے غیر متزلزل عزم اور پرجوش وژن کے شکر گزار ہیں، جس نے خلا کو جدت اور سائنسی ترقی کے میدان میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس منصوبے میں متحدہ عرب امارات کا تعاون صرف ایک قومی فتح نہیں بلکہ عالمی کامیابی ہے۔ یہ خلائی تحقیق میں فعال طور پر حصہ لینے کی ہماری صلاحیت کا ثبوت ہے۔ یہ منصوبہ اس شعبے میں بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر زور اور چاند پر انسان کو دوبارہ بھیجنے اور مریخ کی طرف خلائی مشنوں کو آگے بڑھانے میں حصہ لینے کی ہماری خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔


ترجمہ۔تنویرملک