وزارت اقتصادیات کے بریفنگ سیشن میں صارفین کے تحفظ کے نئے قانون کا جائزہ لیاگیا

ابوظہبی، 11 جنوری، 2024 (وام) ۔۔ وزارت اقتصادیات نے آج ایک بریفنگ سیشن کا انعقاد کیا، جس کے دوران متحدہ عرب امارات کے صارفین کے تحفظ کے نظام کی بہتری کے لیے قانون سازی اور پالیسیوں سے متعلق اہم پیش رفت کا جائزہ لیاگیا۔ ان میں 2023 کے وفاقی حکم نامے کے قانون نمبر 5 میں صارفین کے تحفظ سے متعلق 2020 کے وفاقی قانون نمبر 15 میں ترمیم ، اور کابینہ کے 2023 کے فیصلے نمبر 66 کے ذریعے جاری کردہ اس کا ایگزیکٹو ریگولیشن شامل تھے۔

وزارت اقتصادیات کے سیکرٹری عبداللہ الصالح نے کہاکہ نیا کنزیومر پروٹیکشن قانون اور اس کا ایگزیکٹو ریگولیشن بہترین طریقوں کے مطابق ملک کے صارفین کے تحفظ کے نظام کی تیاری کی کوششوں میں ایک سنگ میل ہے۔ اس کی دو جہتیں ہیں: پہلا یہ ہے کہ صارفین کے تحفظ کے نظام کو مضبوط کرنا۔ صارفین کے تحفظ کے قانون کے نفاذ میں مقامی اداروں کو ضروری قانون سازی کے اختیارات دے کر انہیں زیادہ مؤثر طریقے سے نافذ کیا گیا ہے۔

انہیں صارفین کی شکایات وصول کرنے ،پیروی کرنے اور ان پر کارروائی کرنے میں قانونی لحاظ سے اختیارات دیے گئے ہیں(ii) انتظامی پابندیاں اور جرمانے عائد کرنا قانون کی دفعات اور اس کے ایگزیکٹو ریگولیشن کی خلاف ورزی کرنے والے امور اور( iii) تعزیری اقدامات کے فیصلوں کے خلاف پیش کردہ شکایات پر عمل کرناشامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوسرا فوکس ایریا روک تھام کے اقدامات کو مضبوط بنانا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ تاجراور خوردہ فروش، تاجر اور پروڈیوسرز اپنی قانونی ذمہ داریوں کو پورا کریں ، تاکہ ان کے اور صارفین کے درمیان معاہدہ کے تعلقات کو دوبارہ متوازن بنایا جا سکے۔

الصالح نے بتایا کہ نئے قانون اور ضابطے کے تحت تاجروں کی زیادہ تر ذمہ داریاں سابقہ ​​قانون سازی میں موجود نہیں تھیں۔ اس سے ملک میں صارفین کے تحفظ اور صارفین کے تمام حقوق کی ضمانت فراہم کرنے والی قانون سازی میں معیاری تبدیلی کی گئی ہے۔ یہ ملک کے شہریوں اور رہائشیوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے اور "We the UAE 2031" کے وژن کے مطابق اعلیٰ ترین معیار کے مطابق خدمات یا اشیاء کی فراہمی میں مزید تعاون کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی قیادت کی بصیرت انگیز ہدایات کی بدولت، آج ملک بہترین عالمی طریقوں کے مطابق صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک جدید ترین قانونی فریم ورک کا حامل ہے۔

انہوں نے وزارت اقتصادیات اور اس کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرز کے درمیان صارفین کے تحفظ کے قومی ضوابط کے نفاذ کو بڑھانے، اخلاقی کاروباری طرز عمل کو فروغ دینے، مارکیٹ کی نگرانی کو مضبوط اور اعلیٰ درجے کی خدمات اور مصنوعات کی فراہمی کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے جاری باہمی تعاون پر زور دیا۔

انہوں ںے کہا کہ وزارت اقتصادیات اس وقت مقامی حکومتی اداروں کے ساتھ تعاون کر رہی ہے تاکہ موثر طریقے سے انتظام اور شکایات کو فوری طور پر حل کرنے کے لیے ایک جامع نظام تیار کیا جا سکے۔

الصالح نے بتایا کہ 2023 کے نئے صارف تحفظ قانون نمبر 5 میں صارفین کے تحفظ سے متعلق وفاقی قانون نمبر 15 کے 2020 کی بعض دفعات میں متعدد ترامیم شامل ہیں۔ ان ترامیم سے مقامی اداروں کے کردار میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
پہلی بار، ضروری اسپیئر پارٹس اور سامان کی مرمت کے حوالے سے سپلائر کی ذمہ داریاں کسٹمر کی طلب کی نوعیت کے مطابق تفصیل سے دی گئی ہیں ۔پہلی بار سات سے 30 دن کی ونڈو کا تعین کیا گیا ہے تاکہ فراہم کردہ سامان میں اگر کوئی خرابی پائی جاتی ہے تو سپلائی کرنے والے کی اسپیئر پارٹس یا متبادل سامان فراہم کرنے کی ذمہ داری کو یقینی بنایا جائے۔

الصالح نے صارفین کے تحفظ کی خلاف ورزیوں پر انتظامی جرمانے اور جرمانے کی نئی تفصیلی فہرست پر تبادلہ خیال کیا۔ اس میں مجموعی طور پر 46 قسم کی خلاف ورزیاں شامل ہیں، جن میں ایک لاکھ درہم سے لے کر 10لاکھ درہم تک جرمانہ ہے۔

مثال کے طور پر، مرمت، دیکھ بھال، فروخت کے بعد کی خدمات فراہم کرنے، سامان واپس کرنے یا خرابی کا پتہ چلنے کے بعد ایک مقررہ مدت کے اندر رقم کی واپسی میں ناکامی کی صورت میں سپلائر پرڈھائی لاکھ درہم جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

اس حوالے سے الصالح نے وضاحت کی کہ وارننگ سے لے کر جرمانے تک جرمانے لاگو کیے جائیں گے۔ بعض صورتوں میں، بار بار ہونے والے جرائم کی صورت میں لائسنس کی منسوخی یا رجسٹریشن ختم کی جائے گی۔۔ یہ سزائیں ملک میں صارفین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے صارفین کے تحفظ کے لیے قانونی چارہ جوئی کے عمل کو آسان کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نئے قانون کے مطابق، ایک نئی شق داخل کی گئی ہے، جو بنیادی طور پر اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ تاجر نہ صرف اشیا پر فروخت کی قیمت تحریر کریں گے، بلکہ یونٹ کے لحاظ سے مصنوعات کی قیمتیں مقرر کریں گے۔ اس سے قیمتوں کے تعین میں شفافیت کی اعلیٰ ترین سطح کو یقینی بنایا گیاہے۔


ترجمہ۔تنویرملک