ون بلین فالوورز سمٹ میں انفلوئنسرز کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم'ایکس' کے حوالے سے دلچسپ اظہارخیال

دبئی، 11 جنوری، 2024 (وام) ۔۔ دبئی میں 1 بلین فالورز سمٹ کے دوسرے دن سوشل میڈیا پاور ہاؤس "ایکس" کے بارے میں ایک دلچسپ پینل ڈسکشن کا انعقاد کیا گیا۔ میوزیم آف دی فیوچر اسٹیج میں منعقدہ اس مباحثے میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔اياد الحمود، ڈاکٹر عادل سجوانی، ڈاکٹر عبدالخالق عبداللہ نے الفاظ کی طاقت، ذمہ دارانہ مواد کی تخلیق اور معاشرے پر سوشل میڈیا کے اثرات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس بحث کے میزبان تخلیقی رہنما، اسٹریٹجک منصوبہ ساز، اور انفلوئنسر محمد الجابری تھے۔

ایکس پر51لاکھ فالوورز کے ساتھ سعودی سوشل میڈیا انفلوئنسر الحمود نے اتنے طاقتور پلیٹ فارم پر شیئر کیے گئے مواد کو ذہن میں رکھنے کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ آزاد تقریر کے ساتھ درست اور ذہن سازی کی معلومات ہونی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ ایکس پلیٹ فارم لفظ کے وسط میں طاقتور ہے۔ یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ آپ سچ پیش کررہے ہویں اور ایک قابل اعتماد ذریعہ کے طور پر آپ کو ذمہ دار ہونا چاہئے۔

پروفیسر آف پولیٹیکل سائنس ڈاکٹر عبدالخالق عبداللہ نے اس ذمہ داری کے بارے میں اپنے نقطہ نظر کا اظہار کیا جو سوشل میڈیا پر سیاست جیسے حساس موضوعات پر گفتگو کے ساتھ ہوبی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بحیثیت انسان ہمیں آپس میں بحث کرنی چاہیے اور تنازعہ ہمیشہ بری چیز نہیں ہوتی، لیکن ایکس جیسے بڑے پلیٹ فارمز پر حقائق پر مبنی اور باشعور ہونا ضروری ہے۔ سیاست خود حساس ہو سکتی ہے کیونکہ یہ اس کا براہ راست تعلق ممالک،عالمی امور وغیرہ سے ہے۔

ڈاکٹر عبداللہ نے مزید کہا ک وہ الفاظ سے محبت کرتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ الفاظ بہت سے طریقوں سےمنظر نامے سے زیادہ اثر انگیز ہو سکتے ہیں۔ "لفظ" ایک پیغام ہےاوراس کو استعمال کرنے والوں کے لیے ایک بڑی ذمہ داری ہے۔

معروف اماراتی فیملی ڈاکٹر اور طبی اثر و رسوخ رکھنے والے ڈاکٹر عادل سجوانی نے سوشل میڈیا میں اپنے غیر متوقع داخلے اور صبر کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے بتایا کہ اتفاق سے وہ سوشل میڈیا پر اس وقت آئے جب ان کے بہت سے ساتھیوں اور خاندان والوں کی طرف سے کہا گیا کہ مجھے اپنی مہارت اور آراء کا اشتراک کرنا چاہیے کیونکہ میرے پاس معلومات فراہم کرنے کا ہنر ہے کہ لوگ اس سے متعلق اور سمجھ سکیں۔ ایکس جیسی عوامی جگہ میں بہت زیادہ صبر کرنا پڑتا ہے اور ہمیں دوسروں کے لیے احترام اور خیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔


ترجمہ۔تنویرملک