محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشیٹوز کی جانب سے غزہ میں خوراک کی امداد کےلیے4کروڑ30لاکھ درہم کا عطیہ

دبئی، 16 جنوری، 2024 (وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کی ہدایات کے تحت محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشیٹوز (ایم بی آر جی آئی) نے اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے تعاون سے غزہ کے لیے براہ راست خوراک کی امداد کے لئے 4کروڑ30لاکھ درہم(1کروڑ17لاکھ ڈالر) دینے کا اعلان کیاہے،جس سے ایم بی آر جی آئی کی طرف سے ڈبلیو ایف پی کواب تک فراہم کردہ امدادی رقم 23کروڑ درہم(6کروڑ26لاکھ ڈالر سے زیادہ) تک پہنچ گئی ہے۔

اس حوالے سے ڈیووس میں جاری ورلڈ اکنامک فورم( ڈبلیو ای ایف) کے موقع پرایم بی آر جی آئی نے ڈبلیو ایف پی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سنڈی مکین کی موجودگی میں ڈبلیو ایف پی کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے۔

معاہدے کے مطابق، ایم بی آر جی آئی غزہ کے 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو براہ راست خوراک کی امداد کے لیے، ڈبلیو ایف پی کو امداد فراہم کرے گی۔

ایم بی آر جی آئی نے ڈبلیو ایف پی کے ساتھ پائیدار خوراک کے منصوبوں پر عملدرآمد کرنے اورمستحق افراد تک خوراک کی امداد پہنچانے کے لیے ایک اور معاہدے پر بھی دستخط کیے ۔ دونوں معاہدوں پر محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشیٹوز کے سیکرٹری جنرل محمد القرقاوی اور ڈبلیو ایف پی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سنڈی میک کین نے دستخط کیے۔

ایم بی آر جی آئی کے وفد نے، محمد القرقاوی کی سربراہی میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے وفد کے ساتھ فورم کی سائیڈ لائن پر ملاقات کی، جہاں انہوں نے عالمی سطح پر پسماندہ آبادیوں کی مدد کے مشترکہ مقاصد کو پورا کرنے کے لیے تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا ۔

ملاقات کے دوران القرقاوی غزہ کی پٹی میں متحدہ عرب امارات کی قیادت میں کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا، جن کا مقصد فلسطینیوں کی موجودہ حالات کی وجہ سے مشکل حالات میں مدد کرنا تھا۔

اس موقع پر القرقاوی نے کہا کہ نائب صدر،وزیراعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے، ایم بی آر جی آئی غزہ میں فلسطینیوں کی حمایت میں خوراک کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ تعاون فلسطینیوں کی حمایت اور غزہ میں متاثرہ افراد کی مدد کے لیے متحدہ عرب امارات کی جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ ڈبلیو ایف پی کے ساتھ معاہدے سے غزہ میں 10 لاکھ افراد تک خوراک کی براہ راست امداد کی رسائی کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔

القرقاوی نے کہا کہ خوراک کے پائیدار منصوبوں کو شروع کرنے کے لیے ڈبلیو ایف پی کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ مشترکہ وژن کی تکمیل کی طرف دوطرفہ تعاون کے طویل سفر میں شامل ایک اہم قدم ہے جس کا مقصد پسماندہ آبادیوں کی مدد کے لیے غذائی تحفظ کے لیے طویل مدتی حل فراہم کرنا ہے۔

ڈبلیو ایف پی میں فلسطین کے نمائندے اور کنٹری ڈائریکٹر سامر عبدالجابر نے کہا کہ یہ امداد متاثرہ فلسطینیوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی غذائی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد کرنے کے لیے ایک اہم وقت پر ہے۔

تازہ ترین انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی اینڈ نیوٹریشن فیز کلاسیفیکیشن (آئی پی سی) رپورٹ کےمطابق غزہ میں غذائی عدم تحفظ خطرناک سطح پر پہنچ گیا ہے، جس میں پوری آبادی کو بحران یا شدید غذائی عدم تحفظ کی بدترین سطح کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں موجودہ حالات برقرار رہنے کی صورت میں ممکنہ قحط سے خبردار کیا گیا ہے۔

ترجمہ۔تنویرملک