ڈیووس میں متحدہ عرب امارات کے پویلین میں غلط اطلاعات اور غلط معلومات سے متعلق مباحثہ میں سر مارٹن سورل اور ڈیوڈ ہیگ کی شرکت

ڈیووس، 16 جنوری، 2024 (وام) ۔۔ ورلڈ اکنامک فورم ڈبلیو ای ایف 2024 کے دوران یو اے ای پویلین میں منعقدہ ایک سیشن میں، میڈیا اور مارکیٹنگ کی قابل ذکر شخصیت، سر مارٹن سورل، اور برانڈ فنانس کے چیئرمین اور سی ای او ڈیوڈ ہیگ نے شرکت کی۔ ایک خصوصی فائر سائیڈ چیٹ میں "غلط اطلاعات اور غلط معلومات" کے فوری اور اہم مسئلے پر تبادلہ خیال کیا گیا ، جو ڈبلیو ای ایف کی طرف سے سب سے اہم قلیل مدتی خطرے کے طور پر نمایاں کردہ ایک رکاوٹ ہے۔

ون ٹو ون فائر سائیڈ چیٹ میں میڈیا اور کمیونیکیشن کے شعبے پر خصوصی توجہ دینے کے ساتھ سافٹ پاور پر تبادلہ خیال کیا گیا جو کہ برانڈ فنانس گلوبل سافٹ پاور انڈیکس کا ایک لازمی عنصر ہے۔

مارٹن سوریل اور ڈیوڈ ہیگ نے روایتی میڈیا کو درپیش اہم چیلنجز سے نمٹنے، بشمول آج کے متحرک معلوماتی منظر نامے کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔

انہوں نے صنعت کے ٹائٹنز کو درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے کے حوالے سے آگاہ کیا کیونکہ وہ مطابقت اور اعتبار کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مباحثے کے دوران، شرکاء نے ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کے کلیدی کردار پر روشنی ڈالی، انہوں نے اس کے خطرات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے تیز رفتار تکنیکی ترقی کے دور میں ڈیجیٹل لینڈ اسکیپ کو نیویگیٹ کرنے کی پیچیدگیوں کو اجاگر کیا۔ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کی دنیا ہمیشہ سے ترقی کر رہی ہے، طاقتور مواصلاتی ٹولز پیش کر رہی ہے جن کے ساتھ موروثی خطرات لاحق ہیں۔ ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کی دنیا ہمیشہ سے ترقی کر رہی ہے، جو مواصلاتی طاقتور ٹولز پیش کر رہی ہے۔

فائر سائیڈ چیٹ میں اس کے علاوہ غلط معلومات کے اثرات اور معاشروں اور عالمی امور پر اس کے گہرے اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے رائے عامہ، گورننس، اور بین الاقوامی تعلقات پر مسخ شدہ معلومات کے مضمرات کا جائزہ لیا گیا۔

غلط اطلاعات اور غلط معلومات سے لاحق خطرات کو کم کرتے ہوئے سوچ سمجھ کر قابل عمل حل کی تلاش کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔ مارٹن سورل اور ڈیوڈ ہائی کے درمیان تعاون عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اس شعبے کے رہنماؤں کو متحد کرنے کی اہمیت کو واضح کیا گیا۔ خصوصی فائر سائیڈ نے میڈیا کے منظر نامے کی پیچیدگیوں پر قیمتی نقطہ نظر فراہم کرتے ہوئے غلط معلومات سے دوچار دنیا کے لیے ٹھوس حل پیش کیا۔

ترجمہ۔تنویرملک