وزارت صنعت و جدید ٹیکنالوجی کی 2023 میں یواے ای جی ڈی پی میں متوقع شراکت 197 ارب درہم

ابوظہبی، 17 جنوری، 2024 (وام) ۔۔ وزارت صنعت و جدید ٹیکنالوجی (ایم او آئی اے ٹی) نے 2023 میں حاصلکردہ اپنی اہم کامیابیوں کا اعلان کیا ہے، جو2023 میں جی ڈی پی میں 197 ارب درہم کے ساتھ اس شعبے کی سرفہرست شراکت ہے۔

وزارت کی کامیابیاں چاراہم حوالوں کاروبار کے لیے دوستانہ ماحول کی فراہمی صنعتی شعبے میں اندرون ملک قدر میں اضافہ،پیداواری صلاحیت اور مسابقت کے لیے تکنیکی تبدیلیوں کو تیز کرنے اور پائیداری کو فروغ دینے سے حاصل کی گئیں جو قومی حکمت عملی برائے صنعت و جدید ٹیکنالوجی، آپریشن 300ارب کے مقاصد کے مطابق ہیں۔

صنعت اور جدید ٹیکنالوجی کے وزیر ڈاکٹر سلطان بن احمد الجابر نے کہا کہ وزارت صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کے وژن، اور نائب صدر، وزیراعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کی ہدایات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کوشاں ہے اور اس کی رہنمائی نائب صدر، نائب وزیراعظم اور صدارتی عدالت کے چیئرمین عزت مآب شیخ منصور بن زاید النہیان کررہے ہیں تاکہ صنعتی شعبے کی ترقی کو آگے بڑھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت صنعتی شعبے کی مسابقت اور جی ڈی پی میں شراکت کو بڑھانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا جاری رکھے ہوئے ہے۔ 2023 میں، وزارت نے کئی سنگ میل حاصل کیے، جن میں آپریشن 300ارب کے ہدف کا 30 فیصد مکمل کرنا اور 2023 میں جی ڈی پی میں اس شعبے کا حصہ 197 ارب درہم تک پہنچ گیاہے۔

ڈاکٹر الجابر نے بتایا کہ 2021 میں آپریشن 300ارب کے آغاز کے بعد سے، صنعتی برآمدات میں 17 فیصد اضافہ ہوا، شعبے نے پیداواری صلاحیت میں 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا۔ وزارت نے 9.3ارب درہم مالیت کے درآمدی متبادل منصوبوں کو بھی فعال کیا۔ 2023 میں، متحدہ عرب امارات اقوام متحدہ کی صنعتی ترقی کی تنظیم کے جاری کردہ مسابقتی صنعتی کارکردگی کے اشاریہ میں علاقائی طور پر پہلے اور عالمی سطح پر 29 ویں نمبر پر ہے۔

ڈاکٹر الجابر نے کہا کہ وزارت نے اپنے اسٹریٹجک پارٹنرز ای ڈی بی ، مشرق بینک اور ایف اے بی کے ساتھ مل کر، صنعتی شعبے کو مسابقتی فنانسنگ فراہم کیے جس کی مجموعی مالیت 5.3 ارب درہم تھی، جو 2022 سے 70 فیصد زیادہ ہے۔ جس کا مقصد صنعتی کمپنیوں کی ترقی اور مسابقت کی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔ مزید برآں، وزارت نے اتحاد کریڈٹ انشورنس کے ذریعے 2023 میں 1.4 ارب درہم کے کریڈٹ سلوشنز کو محفوظ کیا۔ اس کے علاوہ وزارت نے بائیو ٹیکنالوجی، ہائیڈروجن اور الیکٹرک گاڑیوں جیسی مستقبل کی صنعتوں میں صنعتی سرمایہ کاری میں 3.3 ارب درہم کی سہولت فراہم کی۔

ڈاکٹر الجابر نے کہا کہ سپلائی چینز کی لوکلائزیشن میں معاونت کرتے ہوئے، نیشنل آئی سی وی پروگرام نے سالانہ مقامی اخراجات میں 17 فیصد اضافہ حاصل کیا، جو 61 ارب درہم تک پہنچ گیا۔ مزید برآں، میک اٹ ان ایمریٹس فورم میں اعلان کردہ مقامی خریداری کے سودوں کی کل مالیت کا 28 فیصد رہی ، جو 31ارب درہم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صنعتی شعبے میں امارات کو آگے بڑھانے کی کوششوں کے تحت وزارت نے کئی اقدامات شروع کیے ہیں۔ اس نے قومی آئی سی وی پروگرام سے مصدقہ کمپنیوں میں مقامی ٹیلنٹ کے لیے کیریئر کی ترقی کو فروغ دیا ہے اور 7,000 سے زیادہ متحدہ عرب امارات کے شہریوں کو ملازمت دی ہے۔ مزید برآں، صنعتکاروں کا پروگرام 2023 میں اماراتیوں کو بااختیار بنانے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا، ملازمت کے متلاشی افراد کو صنعتی کمپنیوں سے منسلک کرکے500 ملازمتیں فراہم کی گئیں۔

انہوں نے یو اے ای کی پائیداری اور آب و ہوا کی کارروائی کی کوششوں کے ساتھ وزارت کی کوششوں کے حوالے سے بھی آگاہکیا۔ یہ کوششیں پوری صنعتی ویلیو چین میں جدید ٹیکنالوجی اور پائیداری کے بہترین طریقوں کو اپنانے پر مرکوز ہیں۔ انہوں نے وزارت کے صنعتی ڈیکاربونائزیشن روڈ میپ کے اعلان کی طرف اشارہ کیا، جس کا ہدف سال 2050 تک کاربن کے اخراج میں 93 فیصد کمی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قومی صنعتی شعبے میں کامیابیاں اس بات کی تصدیق ہیں کہ یہ صحیح راستے پر گامزن ہے اور قیادت کے وژن سے ہم آہنگ ہے۔ یہ شعبہ متحدہ عرب امارات کی پائیدار اقتصادی ترقی کا ایک کلیدی انجن ہے۔

مستقبل کی سمت

وزیر مملکت برائے پبلک ایجوکیشن و ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی سارہ الامیری نے کہاکہ "ہم قیادت کی ہدایات کے مطابق، وزارت نے 2023 میں قومی صنعتی شعبے کی ترقی میں معاونت کرتے ہوئے کئی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کامیابیوں نے خاص طور پر اسٹریٹجک صنعتوں اور ترجیحی شعبوں میں پیداواری صلاحیت، مسابقت اور سرمایہ کاری کو بڑھانے میں مدد کی ۔ ان میں سے کچھ کامیابیاں صنعتی شعبے میں ٹیکنالوجی کی تبدیلی کو فروغ دینے والے کئی نئے پروگراموں اور اقدامات کا نتیجہ تھیں، جس نے مختلف عالمی اشاریوں میں متحدہ عرب امارات کی مسابقت کو بڑھایا۔ ملک علاقائی طور پر پہلے نمبر پر ہے اور اقوام متحدہ کے فرنٹیئر ٹیکنالوجیز ریڈی نیس انڈیکس میں عالمی سطح پر پانچ پوزیشنوں پر آگیا ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ صنعت میں جدید ٹیکنالوجیز کو اپنانے کی کوششوں کے تحت وزارت نے 2023 میں انڈسٹریل ٹیکنالوجی ٹرانسفارمیشن انڈیکس (آئی ٹی ٹی آئی) کا آغاز کیا۔ آپریشن 300رب کا سنگ بنیاد، انڈیکس نے 153 کمپنیوں کے لیے ٹیکنالوجی کے روڈ میپ کا جائزہ اور تیار کیا۔ تشخیص کے نتیجے میں پائیداری کے طریقوں پر عمل درآمد کرنے والی کمپنیوں کی تعداد میں 70 فیصد تک اضافہ ہوا۔

مراعات اور قابل بنانے والے

آپریشن 300ارب کے اہداف کے مطابق وزارت نے 2023 میں نئی ​​ترغیبات، مالیاتی حل اور لچکدار قانون سازی کے فریم ورک کی فراہمی جاری رکھی۔
ان اقدامات میں صنعتی ضابطے اور ترقی سے متعلق نئے قوانین کا اجراء بھی شامل تھا۔ مزید برآں، 5.3 ارب درہم کے نئے مالیاتی حل فراہم کیے گئے، جو کہ 2022 کے مقابلے میں 70 فیصد اضافہ ہے۔
وزارت نے صنعتی پر مینوفیکچررز کے لیےبشمول مشینری، آلات اور خام مال پر3ارب درہم کی کسٹم چھوٹ بھی فراہم کی ۔ مزید برآں، اتحاد کریڈٹ انشورنس کے ساتھ تعاون کے طور پر برآمدات کو بڑھانے کے لیے 1.4 ارب درہم کریڈٹ سلوشنز پیش کیے گئے۔ مزید برآں، 2022 کے مقابلے میں 2023 میں صنعتی خدمات کی فیسوں میں 52 فیصد کمی کی گئی، جو کہ 29.5 ملین درہم کے برابر ہے۔
میک اِٹ اِن ایمریٹس ایوارڈز کا افتتاحی ایڈیشن میک اِٹ اِن ایمریٹس فورم کے دوسرے ایڈیشن کے دوران ہوا، جس میں مقامی خریداری کے نئے مواقع، سرمایہ کاری کے منصوبوں اور فنانسنگ پیکجز کا اعلان کیا گیا۔
فورم نے ایمریٹس اسٹارٹ اپ مقابلے میں میک اٹ کے نتائج کی بھی نقاب کشائی کی، جس کا مقصد پائیدار تکنیکی تبدیلی کو فروغ دینے اور مستقبل کی صنعتوں کو سپورٹ کرنے والے کاروباری آئیڈیاز اور ماڈلز کی نمائش کرنا تھا۔

نیشنل ان کنٹری ویلیو پروگرام

قومی آئی سی وی پروگرام نے 2023 میں کئی سنگ میل حاصل کیے۔ مقامی مصنوعات اور خدمات پر قومی آئی سی وی اداروں کی طرف سے خرچ کی جانے والی مالیت 17 فیصد بڑھ کر 61 ارب درہم ہو گئی، جب کہ گرین آف ٹیک کے مواقع کی مالیت 200 ملین درہم تک پہنچ گئی۔ اس پروگرام میں سرکاری اداروں اور بڑے کاروباری اداروں کے شرکاء کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا، جس سے قومی آئی سی وی شراکت داروں کی کل تعداد 28 ہو گئی۔
قومی آئی سی وی سے تصدیق شدہ کمپنیوں کی تعداد بڑھ کر 5,500 ہو گئی، جو 2022 کے مقابلے میں 22 فیصد اضافہ ہے۔ پروگرام سے تصدیق شدہ کمپنیوں میں ملازمت کرنے والے اماراتیوں کی تعداد میں 80 فیصد اضافہ ہوا جو 2022 میں تقریباً 9,000 سے بڑھ کر تقریباً 16,20023 تک پہنچ گئی ہیں۔
انڈسٹریلسٹ پروگرام کے تحت ’انڈسٹریلسٹ کیریئر فیئر‘ کا آغاز کیا گیا۔ نمائش میں صنعتی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں پر توجہ دی گئی اور مقامی ہنرمندوں کو ملازمت اور تربیت کے 500 مواقع فراہم کئے گئے ہے، جس میں 400 سے زیادہ اماراتیوں نے ملازمت حاصل کی۔

تکنیکی تبدیلی

صنعتی شعبے میں تکنیکی تبدیلی کو آگے بڑھانے کے لیے، وزارت نے ابوظہبی ڈیپارٹمنٹ آف اکنامک ڈیولپمنٹ کے تعاون سے فروری 2023 میں آئی ٹی ٹی آئی کا آغاز کیا۔
ٹی ٹی پی کے تحت اور Industry 4.0 Enablement Centers اقدام کے تحت یو اےای یونیورسٹی کے تعاون سے ایک نئی سہولت کا آغاز کیا گیا۔ مراکز کمپنیوں اور افراد کو ڈیجیٹل حکمت عملی تیار کرنے اور تکنیکی تبدیلی کے منصوبوں کو نافذ کرنے میں مدد کی گئی۔
انڈسٹری 4.0 فعال کرنے والے مرکز نے لیڈرشپ 4.0، ٹورز 4.0 اور پائنیئرز 4.0 جیسے کئی اقدامات شوع کیے ، جہاں 150 سے زیادہ صنعت کے رہنماؤں نے شرکت کی۔
ٹی ٹی پی کے تحت، وزارت نے صنعتی شعبے میں تکنیکی تبدیلی کو تیز کرنے کے لیے کئی مراعات متعارف کرائی ہیں۔ ان میں قومی آئی سی وی کمپنیوں کے لیے 5 فیصد بونس، چوتھے صنعتی انقلاب کے ٹیلنٹ کے لیے گولڈن ویزا، اور ADDED کی طرف سے فراہم کردہ گرانٹس شامل ہیں۔

پائیدار صنعتیں

پائیدار اقتصادی ترقی کے حصول کے لیے ملکی مقاصد کے مطابق، وزارت نے 2023 میں کئی ایک پروگرام اور اقدامات شروع کئے تاکہ صنعتی ویلیو چین میں بہترین طریقوں کے نفاذ میں مدد ملے۔ سب سے اہم اقدامات میں سے ایک گرین آئی سی وی ترغیب ہے، جو ان کمپنیوں کو اضافی 3 فیصد بونس سکور فراہم کرتا ہے جو پروگرام کے پائیداری کے معیارات پر پورا اترتے ہیں۔
ملک کے صنعتی ماحولیاتی نظام کو آگے بڑھانے کے لیے وزارت کی کوششوں کے تحت وزارت نے پلاسٹک ری سائیکلنگ کے شعبے میں 380 ملین درہم کی صنعتی سرمایہ کاری کو راغب کرتے ہوئے معیاری انفراسٹرکچر کوفروغ دیا۔
پائیدار ترقی کی حمایت کرنے والی ٹیکنالوجیز اور اختراعات کو تیز کرنے کے مقصد کے ساتھ، وزارت نے ادنوک اور مصدر کے ساتھ مل کر، کلائمیٹ ٹیک فورم کے پہلے ایڈیشن کا اہتمام کیا۔

کوپ28

کوپ28 کے ساتھ ساتھ 2050 تک یو اےای نیٹ زیرو کے لیے اس کی حمایت کے مطابق، وزارت نے ایونٹ کے دوران کئی سنگ میل حاصل کیے، بشمول The Industrial Decarbonisation Roadmap کا اعلان ، جو 2050 تک 93 فیصد کمی کے لیے مرحلہ وار طریقہ کار اختیارکررہا ہے۔
کوپ28 میں اپنی شرکت کے دوران، وزارت نے ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن ہب اور اسٹارٹ اپ ولیج میں 43 کلائمیٹ ٹیک اسٹارٹ اپس کی میزبانی کی۔ مزید برآں، وزارت نے UNIDO کے ساتھ مل کر جدت، تحقیق اور تکنیکی ترقی کو تحریک دینے کے لیے پانچ خصوصی سیشنز کا انعقاد کیا۔
وزارت نے مصر، اردن اور بحرین کے ساتھ صنعتی شراکت داریوں میں بھی پیش رفت کی، جس کا مقصد صنعتی شعبے کی پائیدار ترقی کو آگے بڑھانا ہے۔ یہ اقدام ترجیحی اور اہم صنعتوں کی ویلیو چینز کو مربوط کرتے ہوئے خود کفالت کے ساتھ ساتھ خوراک اور صحت کی حفاظت کے حصول کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔2023 کے آخر تک، شراکت داری کے تحت شروع کیے گئے مشترکہ صنعتی سرمایہ کاری منصوبے 3.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

ترجمہ،تنویرملک