2006 سے2023 تک سڑکوں ،ٹرانسپورٹ میں سرمایہ کاری سے 262 ارب درہم کی بچت ہوئی: مطر الطائر

دبئی، 18جنوری ، 2024 (وام) ۔۔روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کے ڈائریکٹر جنرل اور چیئرمین مطرالطائر نے بتایا ہے کہ 2006 سے 2023 تک سڑکوں اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں دبئی حکومت کی خاطر خواہ سرکاری سرمایہ کاری سے مجموعی بچت 262 ارب درہم رہی۔

یہ بچت بنیادی طور اس مدت کے دوران سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کے نظام کی ترقی کے لیے حکومت کی طرف سے مختص کیے گئے 140 ارب درہم کے مقابلے میں پر ٹریفک کے ہجوم اور ایندھن کے ٖضیاع میں کمی سے ہوتی ہے۔ اتھارٹی کی رپورٹ کردہ آمدنی 2022 میں 8.9 ارب درہم تھی۔

دبئی انٹرنیشنل پروجیکٹ مینجمنٹ فورم میں "لیڈنگ میگا پروجیکٹس اور اسٹریٹجک ٹرانسفارمیشنز" کے عنوان سے کلیدی تقریر میں مطر الطائر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس طرح کی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ عوامی اور مشترکہ نقل و حمل کے ذرائع کے استعمال میں سواروں کی تعداد 2006 میں 95 ملین سے بڑھ کر 2022 میں تقریباً نصف ارب تک پہنچ گئی۔

سڑک حادثات میں ہونے والی اموات میں ڈرامائی طور پر 90 فیصد کمی 2006 میں 21.9 فی 100,000 آبادی سے 2022 میں صرف 1.9 رہ گئی۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی اے نے بڑے منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے میں نمایاں کامیابیاں دیکھی ہیں۔ ان میں قابل ذکر دبئی میٹرو کی ریڈ اور گرین لائنز، دبئی ٹرام، دبئی میٹرو کا روٹ 020، اور دبئی واٹر کینال ہیں۔ بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری دنیا بھر میں ہر شہر کی اقتصادی ترقی کا ایک اہم محرک ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہمارے کچھ سڑک منصوبوں میں بینیفٹ۔کاسٹ ریشو (بی سی آر) کے 2030 تک 8.8 درہم تک پہنچنے کی توقع ہے یعنی سرمایہ کاری کیے گئے ہر درہم کی اقتصادی واپسی 8.8 درہم تک پہنچنے کی امید ہے۔ اسی طرح دبئی میٹرو نے 2016 میں فوائد اور لاگت کے درمیان وقفے کا مقام حاصل کر کے 2030 تک خرچ کیے گئے ہر درہم پر 4.3 درہم کی واپسی کا تخمینہ لگایا ہے۔ مزید برآں اتھارٹی کے منصوبوں اور پروگراموں کے نتیجے میں کاربن میں خاطر خواہ کمی آئی اور 2014 سے 2023 کے دوران اخراج میں کمی کی وجہ سے نصف ارب درہم کی بچت ہوئی۔

ترجمہ: ریاض خان