جنوری-ستمبر 2023 میں 3.3 فیصد جی ڈی پی نمو کے ساتھ دبئی کی معاشی ترقی کا سفر جاری

دبئی، 21 جنوری، 2024 (وام) ۔۔ دبئی کی حقیقی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 2023 کے پہلے نو ماہ میں 3.3 فیصد اضافہ ہوا جو اس کی معاشی طاقت، لچک اور مضبوط ترقی کی صلاحیت کا اظہار ہے۔

سیاحتی مراکز سے لے کر ٹیکنالوجی پر مبنی مواصلاتی نیٹ ورکس تک، دبئی کا معاشی منظر نامہ اس کے تنوع کی گہرائی اور وسیع نوعیت کی عکاسی کرتا ہے۔ رہائش اور کھانے پینے کی خدمات میں 11.1 فیصد کی غیر معمولی نمو ہوئی، جس نے سیاحت کے ایک عالمی رہنما کے طور پر دبئی کی پوزیشن کو مستحکم کیا۔ نقل و حمل اور سٹوریج کی خدمات میں 10.9 فیصد اضافہ ہوا۔ معلومات اور مواصلات کا شعبہ، 4.4 فیصد اضافے کے ساتھ، جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے اور فروغ پزیر علمی معیشت کو فروغ دینے کے لیے دبئی کے عزم کو واضح کرتا ہے۔
امارات کے حال ہی میں جاری کردہ معاشی اعداد و شمار کا جائزہ لیتے ہوئے دبئی کے ولی عہد اور دبئی ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین عزت مآب شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم نے دبئی کی مسلسل اقتصادی ترقی کو سراہا ہے۔
شیخ حمدان بن محمد نے کہا کہ دبئی کی پائیدار اقتصادی ترقی نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتومکے وژن اور حکمت عملی کی ہدایات کا ثبوت ہے۔ یہ کامیابی دبئی کے تمام معاشی اسٹیک ہولڈرز بشمول اس کے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹرز کے درمیان ہم آہنگ تعاون کا نتیجہ ہے۔ یہ دبئی کے سازگار معاشی ماحول، مضبوط عالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے، کاروبار کے حامی ضوابط اور گہرے ٹیلنٹ پول کا بھی عکاس ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ترقی کے تازہ ترین اعدادوشمار دبئی اکنامک ایجنڈا ڈی33 کے اہداف کی طرف پیش رفت کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں، جس کا مقصد شہر کی اقتصادی ترقی کو دوگنا کرنا اور اسے 2033 تک دنیا کی تین اعلیٰ شہری معیشتوں میں سے ایک بنانا ہے۔
شیخ حمدان نے مزید کہا کہ ترقی کی اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے، ہم اپنی سٹریٹجک شراکت داریوں کو تشیل دینے اور جدت، سرمایہ کاری اور انٹرپرائز کے لیے اپنے فریم ورک کو مزید بڑھانے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں، جس سے آنے والی دہائی میں ایک اہم عالمی اقتصادی مرکز کے طور پر دبئی کی پوزیشن کو تقویت ملے گی۔

دبئی کے معاشی انجن نے گزشتہ سال کے پہلے نو ماہ میں متحرک سرگرمی دیکھی، جیسا کہ دبئی ڈیٹا اینڈ سٹیٹسٹکس اسٹیبلشمنٹ کے تازہ ترین اعداد و شمار سے ظاہر ہوا ہے۔ رئیل اسٹیٹ میں 4 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ مالیاتی اور انشورنس سرگرمیوں میں 2.7 فیصد اضافہ ہوا۔ علمی معیشت نے تعلیم میں 2.6 فیصد اضافے کے ساتھ شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جب کہ بجلی، گیس، پانی اور فضلہ کو ٹھکانے لگانے کی سرگرمیوں میں 2.2 فیصد اضافہ ہوا۔ مینوفیکچرنگ میں 2.2 فیصد اضافہ دیکھا گیا، اور شہر کی پیشہ ورانہ خدمات میں 1.9 فیصد اضافہ ہوا۔

دبئی کے محکمہ اقتصادیات و سیاحت کے ڈائریکٹر جنرل ہلال سعید المری نے اس حوالے سے کہا کہ دبئی کی اقتصادی کارکردگی مضبوط، پائیدار پالیسی اور کاروبار کے لیے پہلے اقدامات کی بنیاد پر جاری ہے جو شروع کی گئی طویل مدتی ترقیاتی حکمت عملی کے حصے کے تحت عمل میں آئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری کامیابی بھی سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان مسلسل، باہمی تعاون پر مبنی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ دبئی اکنامک ایجنڈا ڈی 33 کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے ہم مل کر ایک متحد فریم ورک کے اندر کام کر رہے ہیں۔
ڈیجیٹل دبئی کے ڈائریکٹر جنرل حمد عبید المنصوری نے کہاکہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق دبئی کا جامع اقتصادی نظام اعلیٰ سطح کی ہم آہنگی اور کارکردگی کے ساتھ کام کررہا ہے۔ یہ کامیابی ہماری قیادت کے وژن کی وجہ سے ہے، جو کہ ایک غیر معمولی میراث پر مبنی ہے۔

دبئی ڈیٹا اینڈ سٹیٹسٹکس اسٹیبلشمنٹ، ڈیجیٹل دبئی کے چیف ایگزیکٹویونس الناصر نے کہاکہ آج کی دنیا میں، حقیقی وقت کا ڈیٹا کسی بھی شہر یا ملک کی معاشی حقیقت کا حقیقی آئینہ ہے۔ ڈیٹاسے ہم دبئی کی کارکردگی کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ 2023 کے پہلے نو ماہ میں ایک ایسے معاشی ماحول میں بہتر مستقبل کی تلاش میں سرمایہ کاروں کو راغب کیا گیا جس سے ترقی کی رفتار کو برقرار رکھا گیا۔۔
دبئی ڈیپارٹمنٹ آف اکانومی اینڈ ٹورازم میں دبئی اکنامک ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہادی بدری نے کہا کہ دبئی کی اقتصادی کارکردگی ان موثر پالیسیوں اور اقدامات کی واضح عکاسی ہے جنہیں ہم نے اپنے طویل مدتی ترقیاتی روڈ میپ کے حصے کے طور پر نافذ کیا ہے۔ یہ حکمت عملی، جس کا تصور اور ہماری قیادت نے وضع کیا ہے، صرف ایک منصوبہ نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل کے ساتھ، ہم 2024 میں عالمی کاروباری فیصلہ سازوں کے لیے دبئی کی پوزیشن کو ایک اولین اسٹریٹجک ترجیح کے طور پر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ دبئی اقتصادی جدت طرازی میں سب سے آگے رہے اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کا مرکز بنے۔

رہائش اور خوراک کے شعبے میں 11.1 فیصد اضافہ ہوا۔

2023 کے پہلے نو ماہ میں رہائش اور کھانے کی خدمات کی سرگرمیوں میں 11.1 فیصد اضافہ ہوا، جو دبئی کی غیر معمولی سیاحت کو ظاہر کرتا ہے۔ 2022 کے پہلے نو ماہ میں ان سرگرمیوں سے 10 ارب درہم حاصل کیے گئے ، جو 2023 میں اسی مدت میں بڑھ کر 11ارب 10کروڑ درہم ہو گئی ہے۔ جی ڈی پی میں ان سرگرمیوں کا حصہ 2022 میں 3.1 فیصد اور 2023 میں اسی مدت کے لیے 3.4 فیصد تھا۔

ٹرانسپورٹیشن اور سٹوریج سیکٹر میں 10.9 فیصد اضافہ ہوا۔

2022 کے پہلے نو ماہ میں، دبئی کے ٹرانسپورٹ اور اسٹوریج سیکٹر کی ویلیو 38ارب 70کروڑ درہم تھی ، جو 2023 کے پہلے نو ماہ میں 10.9 فیصد اضافے کے ساتھ 42ارب90کروڑ درہم تک پہنچ گئی۔ جی ڈی پی میں نقل و حمل اور اسٹوریج سرگرمیوں کا حصہ 2022 کے پہلے نو ماہ کے 12.2 فیصد سے بڑھ کر 2023 کی اسی مدت میں 13.1 فیصد ہو گیا۔

آئی سی ٹی سرگرمیوں میں 4.4 فیصد اضافہ ۔

انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کی سرگرمیوں کی مالیت 2022 کے پہلے نو ماہ میں تقریباً 14ارب 30کروڑ درہم تھی، یہ 2023 کی اسی مدت میں 4.4 فیصد اضافے کے ساتھ بڑھ کر 15 ارب درہم ہو گئی۔

رئیل اسٹیٹ کی سرگرمیوں میں 4 فیصد اضافہ ہوا۔

دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ عروج پر ہے، 2023 کے پہلے نو ماہ میں اضافی قدر میں 4.0 فیصد اضافے کے ساتھ اس شعبے کا حجم
26ارب80کروڑ درہم تک پہنچ گیا، جو کہ رہائشی اور سرمایہ کاری کے مواقع دونوں کی مسلسل مانگ کو ظاہر کرتا ہے۔

فنانس اور انشورنس سیکٹر میں 2.7 فیصد اضافہ ہوا۔

دبئی کے مالیاتی اور انشورنس کے شعبے میں2.7 فیصد کی ترقی ہوئی ، جو 2023 کے پہلے نو ماہ میں 37ارب 30کروڑ درہم تک پہنچ گئی۔ یہ رفتار ایک متحرک اور متنوع مالیاتی ماحولیاتی نظام کی تعمیر کے لیے دبئی کے عزم کی تصدیق کرتی ہے۔

تعلیم کے شعبے میں 2.6 فیصد توسیع

2022 کے پہلے نو ماہ میں تعلیم کے شعبے کی طرف سے5ارب70کروڑ درہم کی مالیت کا اضافہ ہوا، جو 2023 کی اسی مدت میں 5.8 بلین درہم تک بڑھ گیا، جو کہ 2.6 فیصد اضافہ ہے۔ تعلیم ان اہم سرگرمیوں میں سے ایک ہے جو سماجی اور اقتصادی ترقی کا پیمانہ فراہم کرتی ہے۔

مینوفیکچرنگ سیکٹر میں 2.2 فیصد اضافہ ہوا۔

دبئی کے مینوفیکچرنگ سیکٹر نے 2.2 فیصد اضافے کے ساتھ لچک کا مظاہرہ کیا، 2023 کے پہلے نو ماہ میں اس کی مالیت27ارب 40کروڑ درہم تک پہنچ گئی۔

بجلی، پانی اور ویسٹ مینجمنٹ کی سرگرمیوں میں 2.2 فیصد اضافہ۔

دبئی کی لائف لائن انڈسٹریز - بجلی، پانی اور ویسٹ مینجمنٹ - 2023 کے پہلے نو ماہ میں 2.2 فیصد بڑھ کر10ارب90کروڑ درہم تک پہنچ گئی۔ یہ اضافہ اس شعبے میں خدمات کی بڑھتی ہوئی مانگ کو ظاہر کرتا ہے۔

دیگر سرگرمیوں کی ترقی

دبئی کے اعداد و شمار اورادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق، بہت سی دوسری سرگرمیوں میں اضافہ ہوا۔ ان میں پیشہ ورانہ، سائنسی و تکنیکی سرگرمیاں شامل ہیں، جن میں 1.9 فیصد اضافہ ہوا، تعمیراتی سرگرمیوں میں 1.6 فیصد اور ہول سیل اینڈ ریٹیل تجارتی سرگرمیوں میں 1.5 فیصد اضافہ ہوا۔
ترجمہ۔تنویرملک