دبئی، 22 جنوری، 2024 (وام) ۔۔ دبئی کسٹمز ویک کے نویں ایڈیشن کا آغاز "ڈیجیٹل ایمپاورمنٹ: اثر انگیز شراکت داری کی تعمیر" کے ساتھ شروع ہوگیا، جس میں شراکت داریوں اور ان کی ترقی کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
تقریب کا مقصد تجارت کو آسان بنانے، سرحدی تحفظ کو یقینی اور عالمی سپلائی چین کی لچک کو بڑھانے کے لیے نئے اتحاد کے قیام پر زور دینا ہے۔
دبئی کسٹمز نے جنوری کے بین الاقوامی کسٹمز ڈے کے موقع پر مسلسل نویں سال کسٹمز ویک کا انعقاد کیا۔ محکمے نے پورے ہفتے کے دوران 30 سے زیادہ متنوع کسٹم تقریبات کا اعلان کیا، جس میں شراکت دار، کلائنٹس، متعلقہ حکام اور کمیونٹی جیسے مختلف اسٹیک ہولڈرز شامل ہیں۔
دبئی کسٹمز ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں وفاقی اتھارٹی برائے شناخت و شہریت، کسٹمز اور پورٹ سیکیورٹی، مقامی کسٹم ڈائریکٹرز اور حکام نے شرکت کی،اس دوران دبئی کسٹمز نے "ایڈوانسڈ کسٹمز انسپیکشن پروگرام" کی نقاب کشائی کی۔ مقامی اور علاقائی کسٹم انسپکٹرز کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام کا مقصد معائنہ کے شعبے میں عالمی ترقی کے ساتھ رفتار برقرار رکھنے کے لیے دبئی کسٹمز کی مہارت سے فائدہ اٹھانا ہے۔
اس پروگرام میں دبئی کسٹمز کے جدید ترین معائنہ نظام، ذہین کسٹم امتحانی تکنیک، اور قائم شدہ طریقہ کار کو استعمال کرنے کے تجربے کی نمائش کی گئی۔ اس کا مقصد مقامی اور علاقائی دونوں سطحوں پر دبئی کسٹمز کے شراکت داروں کے لیے حفاظتی اقدامات کو مضبوط بنانا ہے، جس سے کسٹم معائنہ کے شعبے کی کارکردگی کو بڑھا کر کمیونٹی استحکام اور سلامتی اور صحت کے خطرات سے تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
ڈی پی ورلڈ گروپ کے چیئرمین اور سی ای او اور پورٹس، کسٹمز اور فری زون کارپوریشن کے چیئرمین سلطان بن سلیم نے متحدہ عرب امارات کے اقتصادی شراکت داری کے معاہدوں کے پروگرام کو مضبوط بنانے اور اس کی حمایت کی ضرورت پر زور دیتے کہا کہ یہ پروگرام تجارت اور سرمایہ کاری میں ایک قابل اعتماد عالمی شراکت دار کے طور پر متحدہ عرب امارات کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے، ملک کے معاشی وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اہم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے حکمت عملی کے ساتھ ڈیجیٹل تبدیلی کو اپنایا ہے، جو بغیر کسی رکاوٹ کے کاروباری آپریشنز اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد کے طور پر کام کر کررہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کا مجاز اکنامک آپریٹر پروگرام تجارت کے بہاؤ کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ یہ مخصوص ضوابط اور عمل کی پیروی کرتے ہوئے پابند کمپنیوں کے لیے کسٹم کلیئرنس کے طریقہ کار کو آسان بنا کر حاصل کیا جارہا ہے۔
دبئی کسٹمز کے ڈائریکٹر جنرل اور پورٹس، کسٹمز اور فری زون کارپوریشن کے سی ای او احمد محبوب مصبح نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے تجارتی اور اقتصادی شعبوں میں مستقبل کا تصورپیش کیا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی کسٹمز ڈے 2024 کے موقع پر اپنے پیغام میں عالمی کسٹمز آرگنائزیشن کے طویل مدتی شراکت داری کی اہمیت اور نئے اتحادوں کے قیام پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ ستمبر 2021 میں شروع ہونے کے بعد سے یو اے ای کے جامع اقتصادی شراکت کے معاہدوں کے پروگرام کی مسلسل کامیابی کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے، جس نے متعدد سنگ میل حاصل کیے ہیں۔ مزید برآں، برکس گروپ میں متحدہ عرب امارات کی شمولیت سے تعاون کے نئے افق کھلیں گے، شراکت داری کو فروغ ملے گا، اور باہمی اقتصادی، تجارتی اور سیاحتی فوائد حاصل ہوں گے۔ توقع ہے کہ متحدہ عرب امارات کی غیر تیل کی غیر ملکی تجارت کی مالیت 2023 میں25کھرب درہم تک پہنچ جائے گی۔
مصبح نے مزید کہا کہ دبئی کسٹمز شراکت داری کوبڑھانے،نئے اتحاد شروع کرنے اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ اس کا مقصد خدمات اور کسٹمز کے طریقہ کار کے لیے ڈیجیٹل بااختیار بنانے کو فروغ دینا ہے، جس کا مقصد دبئی کی غیر ملکی تجارت کی قدر میں اضافہ کرنا ہے۔
متحدہ عرب امارات حکومت کی سرکاری خدمات کے سربراہ محمد بن طليعہ نے متحدہ عرب امارات کی حکومت کے کاموں میں ڈیجیٹل بااختیار بنانے اور بامقصد شراکت داری کے مرکزی کردار پر زور دیا۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات کی حکومت کے اندر ڈیجیٹل تبدیلی کی پیشرفت ے حوالے سے اس بات پر زور دیا کہ حکومتی خدمات کی حکمت عملی کا مقصد کسی بھی وقت اور کہیں بھی قابل رسائی ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنا ہے۔
بن طليعہ نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے فعال خدمات میں نمایاں پیش رفت کی ہے، اس طرح کی 300 خدمات متعارف کرائی ہیں۔ مزید یہ کہ 4 ملین صارفین سمارٹ سرکاری خدمات تک رسائی کے لیے ڈیجیٹل شناختی ایپلی کیشن کا استعمال کررہے ہیں۔ مزید برآں، 90% صارفین حکومتی طریقہ کار کو مکمل کرنے کے لیے ڈیجیٹل چینلز کی سہولت کو ترجیح دیتے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر، سلطان احمد بن سلیم اور احمد محبوب مصبح نے نویں دبئی کسٹمز ویک کے آغاز میں مثبت کردار ادا کرنے پر محمد بن طليعہ کو دبئی کسٹمز کی جانب سے شیلڈ سے نوازا۔
ترجمہ۔تنویرملک