یو اے ای فوڈ بینک کے اقدامات اور پروگرامز سے2023 میں18.6 ملین سے زیادہ لوگ مستفید ہوئے

دبئی، 22 جنوری، 2024 (وام) ۔۔ محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشیٹوز کے تحت متحدہ عرب امارات کے فوڈ بینک نے 2023 کےسالانہ نتائج کا اعلان کیاہے جس میں مؤثر پروگراموں اور اقدامات سے دنیا بھر میں 18.6 ملین سے زیادہ افراد مستفید ہوئے۔

ضرورت مندوں میں اضافی خوراک کی تقسیم اور خوراک کے ضیاع کو کم کرنے کے مقصد کے ساتھ قائم کردہ یو اے ای فوڈ بینک نے 2023 میں 800 عطیہ دہندگان سے تعاون حاصل کیا، جس میں مقامی اور بین الاقوامی خیراتی ادارے اور خوراک کے ادارے شامل ہیں۔ مذکورہ سال کے دوران بینک نے 105 آگاہی پروگرام منعقد کیے، جن میں تقریباً 9,843 شرکاء اور 1,800 رضاکار شریک ہوئے۔

مزید برآں، یو اے ای فوڈ بینک کے سالانہ نتائج کے مطابق اسے تقریباً 14.7 ملین درہم فنڈز کی مد میں ملےاور اس نے کچا کنڈیوں سے 6,000 ٹن خوراک کوہٹا کرماحول پر مثبت اثرات مرتب کیے۔

یو اے ای فوڈ بینک کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے ڈپٹی چیئرمین داود الهاجري نے کہا کہ بینک کے 2023 کے نتائج متحدہ عرب امارات کے نائب صدر ، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشدالمکتوم کی اہلیہ،اور یو اے ای فوڈ بینک کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئرپرسن عزت مآب شیخہ ہند بنت مکتوم بن جمعہ المکتوم کی ہدایات پر عملدرآمد کا ثبوت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بینک کا مشن مستفید افراد کے لیے اضافی خوراک کی مؤثر فراہمی اور فضلہ کو کم کرنے، منظم اور پائیدار اصولوں پر عمل کرتے ہوئے دنیا بھر میں مستفید ہونے والوں کو اعلیٰ ترین معیار کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یو اے ای فوڈ بینک ایک طویل المدتی منصوبے کے تحت کام کررہا ہے جو انسانی بنیادوں پر اقدامات اور پروگراموں کے ذریعے مستحقین کو خوراک فراہم کرنا چاہتا ہے۔ یہ عزم پائیداری اور اعلیٰ معیار کے کھانے کی فراہمی دونوں کو یقینی بنارہا ہے۔

یو اے ای فوڈ بینک کی ایگزیکٹو ٹیم کے سربراہ منال بن يعروف نے کہاکہ 2023 کے نتائج نے مقررہ اہداف کے 100 فیصد کارکردگی کے اشاریوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ بینک نے 12 ملین کھانے کے ہدف سے زیادہ 18.6 ملین کھانے تقسیم کیے ہیں۔ مزید برآں، 1,800 رضاکاروں کی شمولیت کے ساتھ، بینک کے اقدامات اور سرگرمیوں میں حصہ لینے والے رضاکاروں کی تعداد 100 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔

پورے سال کے دوران، فوڈ بینک نے کھانے کی اشیاء کی متنوع رینج جمع کی، جس میں پھل اور سبزیاں، تیار شدہ کھانے، چاول، گندم اور اس سے مشتقات، پاستا، گوشت، دودھ کی مصنوعات، پنیر کی مصنوعات، دیگر گروسری آئٹمز، چاکلیٹ اور پانی شامل ہیں۔

سال کے دوران، فوڈ بینک نے انسانی ہمدردی کے کاموں، خیراتی کاموں، پائیداری اور ماحولیات پر توجہ دینے کے ساتھ مقامی اور بین الاقوامی تقریبات کی ایک رینج میں حصہ لیا۔ بینک نے گریس پریزرویشن فرسٹ گلوبل کانفرنس میں پارٹنر کے طور پر خدمات انجام دیں اور اقوام متحدہ کی کلائمیٹ چینج کانفرنس آف دی پارٹیز (کوپ28)، گلف فوڈ ایگزیبیشن (گلف فوڈ)، دبئی انٹرنیشنل فوڈ سیفٹی کانفرنس اور فوڈ انڈسٹری فورم جیسی اہم تقریبات میں حصہ لیا۔

یو اے ای فوڈ بینک کے اقدامات اور پروگراموں سے وہ عالمی سطح پر انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں میں ایک نمایاں شراکت داربن گیا ہے۔

۔ شراکت داروں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے، بینک نے دنیا بھر میں ضرورت مند افراد کو ریلیف اور مدد فراہم کرنے کے مقصد سے متعدد انسانی منصوبوں اور اقدامات میں سرگرم عمل ہے۔
ترکیہ اور شام میں آنے والے زلزلے کے بعد امدادی مہمات کے تحت متحدہ عرب امارات کے فوڈ بینک نے امارات ہلال احمر کو تقریباً 293 ٹن خوراک فراہم کی۔ مزید برآں، سیلاب کے بعد لیبیا کو 54 ٹن غذائی اشیاء کی شکل میں امداد فراہم کی، اور غزہ کے لیے تراحم مہم کے میں مزید 60 ٹن امداد فراہم کی۔

2023 میں، UAE فوڈ بینک نے سرکاری اور نجی شعبے کے اداروں، انسانی ہمدردی کی تنظیموں، خیراتی اداروں اور خوراک کے اداروں کے ساتھ 32 سے زیادہ اسٹریٹجک شراکت داریاں کیں۔ ان شراکتوں میں 25 معاہدے شامل ہیں جن پر فوکس فوڈ کی فراہمی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

2023-2027 کے اسٹریٹجک پلان کے ساتھ ، فوڈ بینک اقدامات اور انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں پر عملدرآمد جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ شراکت داری کے ذریعے خوراک کے ضیاع میں کمی لائی جارہی ہے جس کا مقصد اضافی خوراک مؤثر طریقے سے جمع کرنا ہے۔ مزید برآں، یہ مقامی کسانوں کی مدد کرنے اور عالمی سطح پر بینک کی کوششوں کو بڑھا کر قومی غذائی تحفظ کی حکمت عملی 2051 میں تعاون کررہا ہے۔

2017 میں اپنے آغاز سے لے کر 2023 کے آخر تک، یو اے ای فوڈ بینک نے 68 ملین سے زیادہ کھانے تقسیم کیے ہیں، جو کہ تقسیم کیے گئے 60,000 ٹن اضافی خوراک کے برابر ہے۔ مزید برآں، اس نے 367 تقریبات، ورکشاپس اور مہمات کا اہتمام کیا، 232 اسٹریٹجک شراکت داروں کے ساتھ تعاون کیا اور علاقائی فوڈ بینکوں کے ساتھ مفاہمت کی پانچ یادداشتوں (ایم او یوز) کو حتمی شکل دی۔


ترجمہ۔تنویرملک