دبئی،25 جنوری ، 2024 (وام) ۔۔ عالمی مسابقتی رپورٹ 023، جو ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کی طرف سے جاری کی گئی ہے نےانفراسٹرکچر کے معیار میں متحدہ عرب امارات کو عالمی سطح پر چوتھے نمبر پر رکھا ہے۔
وزیر توانائی اور انفراسٹرکچر سہیل بن محمد المزروئی نے کہاکہ یہ اعتراف ملک کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے حکومت کی جانب سے جاری کوششوں، منصوبہ بندی اور خاطر خواہ سرمایہ کاری کا ثبوت ہے۔
گزشتہ دس سالوں میں وزارت توانائی اور انفراسٹرکچر نے 258 منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے 13 ارب درہم کی سرمایہ کاری کی۔ اگلے پانچ سالوں کے لیے ہمارے منصوبے میں متحدہ عرب امارات کے مختلف علاقوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 9 ارب درہم کی لاگت سے 127 سیکیورٹی، تعلیمی، سروس اور سڑک کے منصوبوں کی تعمیر شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف 2023 میں، ہم نے 1.5 ارب درہم سے زیادہ کی لاگت سے سرکاری خدمات کی عمارتوں کی تعمیر، دیکھ بھال اور کارکردگی میں اضافہ کیا۔
انہوں نے کہاکہ ہماری دانشمندانہ قیادت کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے وزارت ایسے اقدامات اور منصوبے شروع کرنے کی خواہشمند ہے جو متحدہ عرب امارات کی ترقی اور مسابقت میں معاون ہوں۔ وزارت کی یہ ایک سٹریٹجک ترجیح ہے کہ وہ جدید انفراسٹرکچر اور آرٹیریل سڑکیں فراہم کرے جو ہمارے لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنائے اور قومی معیشت کو بہتر بنائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس کامیابی میں تعاون کیا۔ متحدہ عرب امارات مختلف شعبوں میں مزید کامیابیاں حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم وزارت کے شراکت داروں کی کوششوں کی قدر کرتے ہیں جنہوں نے شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں جو کہ مختلف سرکاری ایجنسیوں، وفاقی اور مقامی دونوں کے درمیان مشترکہ مربوط کام کا نتیجہ تھیں۔
وفاقی مسابقت اور شماریات کے مرکز کے ڈائریکٹر حنان منصور اہلی نے کہاکہ متحدہ عرب امارات میں انفراسٹرکچر کو ایک معروف عالمی ماڈل سمجھا جاتا ہے۔ ملک نے اپنے بنیادی ڈھانچے کو بہترین بین الاقوامی معیارات اور تصریحات کے مطابق تیار کیا ہے جس نے اسے مختصر عرصے میں بڑے ممالک کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری دانشمند حکومت نے بنیادی ڈھانچے کے معیار پر بہت توجہ دی ہے، ہوائی اڈوں، بندرگاہوں، شہری سڑکوں کے نیٹ ورک، سیاحتی مقامات، ہوٹلوں اور ہر قسم کی نقل و حمل کے لیے مربوط تکنیکی مہارت کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ بجلی کے معیار پر بھی توجہ دی ہے۔
یہ امرقابل ذکر ہے کہ متحدہ عرب امارات کے جدید انفراسٹرکچر نے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا ہے اور ملک کی جی ڈی پی میں اضافہ کیا ہے۔
ترجمہ: ریاض خان