ایم سی13 متنازعہ اصلاحات و ترقی کے فیصلوں اور مذاکرات جاری رکھنے کے عزم کے ساتھ اختتام پزیر ہوگئی

ابوظہبی، 2 مارچ، 2024 (وام) ۔۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کے اراکین نے 2 مارچ کو ابوظہبی میں 13ویں وزارتی کانفرنس (ایم سی13) کا اختتام ایک وزارتی اعلامیہ کی منظوری کے ساتھ کیا جس میں مستقبل کے حوالے سے اصلاحات کا ایجنڈا طے کیا گیا ۔ وزراء نے متعدد وزارتی فیصلے بھی کیے،جن میں 2024 تک تنازعات کے تصفیہ کے نظام کو مکمل اور اچھی طرح سے کام کرنے کے عزم کی تجدید کرنا اور ترقی پذیر اور کم ترقی یافتہ ممالک (ایک ڈی سیز) کے لیے خصوصی اور امتیازی سلوک( ایس اینڈ ڈی ٹی) کے استعمال کو بہتر بنانا شامل ہے۔وزار نے ان تمام شعبوں میں بات چیت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیاجہاں ایم سی13 میں کنورجنسی نہیں تھی۔
وزارتی کانفرنس میں تقریباً 4ہزار وزراء، سینئر تجارتی حکام اور ڈبلیو ٹی او کے 164 ممبران اور مبصرین کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی، کاروبار اور عالمی میڈیا کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ ابتدائی طور پر 26سے 29 فروری تک شیڈول کانفرنس کو مختلف مسائل پرنتائج تک پہنچنے کے لیے آخری کوشش کے طورپر بڑھایا گیا۔
اراکین نے ابوظہبی کے وزارتی اعلامیہ کی منظوری دی، جہاں انہوں نے موجودہ تجارتی چیلنجوں سے نمٹنے کے ڈبلیو ٹی او کے ساتھ مل کر کثیر جہتی تجارتی نظام کی صلاحیت کو برقرار رکھنے اور مضبوط کرنے کا عہد کیا۔
وزارتی اعلامیہ ڈبلیو ٹی او کے امورمیں ترقیاتی جہت کی مرکزیت پر روشنی ڈالتا ہے، اس کردار کو تسلیم کرتا ہے جو کثیر الجہتی تجارتی نظام اقوام متحدہ کے 2030 کے ایجنڈے اور اس کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ اعلامیہ میں اقتصادی ترقی اور پائیدار ترقی کے لیے خواتین کو معاشی بااختیار بنانے اور تجارت میں خواتین کی شرکت کو بھی تسلیم کیاگیا۔
ممبران نے عالمی معیشت کے لیے خدمات کے کردار اور اہمیت کو تسلیم کیا کیونکہ یہ عالمی اقتصادی پیداوار کا دو تہائی سے زیادہ پیدا کرتا اور تمام ملازمتوں میں سے نصف سے زیادہ کا حصہ ہے۔
وزیر مملکت برائے خارجہ تجارت اور ایم سی13 چیئرڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے کانفرنس کے دوران فعال شرکت پر اراکین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ظاہر کردہ عزم کثیر الجہتی تجارتی نظام کو مزید مضبوط کرے گا۔
تنازعات کے تصفیہ میں اصلاحات کے بارے میں، اراکین نے ایک وزارتی فیصلے کی منظوری دی جس میں پیش رفت کو تسلیم کیا گیا تاکہ 2024 تک تمام اراکین کے لیے ایک مکمل اور اچھی طرح سے کام کرنے والے تنازعات کے تصفیے کے نظام تک رسائی ممکن ہو۔ ڈبلیو ٹی او کی ڈائریکٹر جنرل نگوزی آکونجو آوئیویلا نے اراکین کے تعاون سے ہونے والی پیش رفت پر زور دیا۔ انہوں نے کہاکہ "آئیے اس اصلاحات کو آگے بڑھانے اور 2024 تک ڈیلیور کرنے کے لیے اپنی آستینیں چڑھانا جاری رکھیں،"
وزراء نے ایک وزارتی فیصلہ کی منظوری دی جو ترقی پذیر اور کم ترقی یافتہ ممالک (ایل ڈی سیز) کے لیے خصوصی اور امتیازی سلوک کی دفعات کا جائزہ لینے کے 23 سال پرانے مینڈیٹ کی اصلاح کرے گا تاکہ انہیں زیادہ درست، موثر اور فعال بنایا جا سکے۔ آوئیویلانے کہاکہ یہ ترقی کے لیے ایک جیت ہے، جو ترقی پذیر ممالک، خاص طور پر ایل ڈی سیز کو ڈبلیو ٹی او کے اپنے وعدوں کو پورا کرنے، اپنے حقوق کا استعمال اور عالمی تجارت میں بہتر طور پر ضم ہونے میں مدد کرے گی۔
وزراء نے اس بات پر بات چیت کی کہ کس طرح تجارت کا تعلق پائیدار ترقی اور سماجی اقتصادی شمولیت کے دو اہم مسائل سے ہے جو موجودہ سیاسی، اقتصادی اور ماحولیاتی چیلنجوں کے مرکز میں ہیں۔آوئیویلا نے خواتین کو بااختیار بنانے، مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے مواقع کو بڑھانے اور اس کی تین جہتوں میں پائیدار ترقی کے حصول میں تجارت اور ڈبلیو ٹی اوکے کردار کو تسلیم کرنے پر زور دیا ۔
اس سے پہلے کانفرنس میں، وزراء نے کوموروس اور تیمور لیسٹے کی ڈبلیو ٹی او کی رکنیت کی شرائط کو باضابطہ طور پر منظور کیا،جو تقریباً آٹھ سالوں میں پہلے نئے اراکین ہیں۔
الیکٹرانک کامرس پر، وزراء نے ایک وزارتی فیصلہ کی منظوری دی جس میں جنرل کونسل کو ای کامرس ورک پروگرام پر وقتاً فوقتاً جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی تاکہ وزارتی کانفرنس میں کارروائی کے لیے سفارشات پیش کی جاسکیں۔ اراکین نے الیکٹرانک ٹرانسمیشنز پر کسٹم ڈیوٹی نہ لگانے کی موجودہ روایت کو وزارتی کانفرنس (ایم سی14) تک برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
وزراء نے ایک وزارتی فیصلہ کی منظوری دی جس کے تحت عدم خلاف ورزی اور صورتحال کی شکایات پرتجارت سے متعلقہ پہلوؤں سے متعلق انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کے معاہدے کو ایم سی14 تک توسیع دی گئی ۔
اس سے قبل کانفرنس میں، ڈبلیو ٹی او کے دس اراکین برونائی دارالسلام، چاڈ، ملائیشیا، ناروے، فلپائن، روانڈا، سعودی عرب، جنوبی افریقہ، ٹوگو، اور ترکیہ نے ماہی گیری کے معاہدے کی منظوری سے متعلق اپنے دستاویزات جمع کرائے، جس سے ڈبلیو ٹی او کی کل تعداد میں اضافہ ہوا۔
زراعت کے حوالے سے، ایم سی 13 کے دوران گفت و شنید کے باوجود،اراکین اتفاق رائے حاصل نہیں کرسکے۔ فوڈ سیکیورٹی کے مقاصد کے لیے پبلک اسٹاک ہولڈنگ اور ٹائم لائنز، متوقع نتائج اور برآمدی پابندیوں سے سب سے زیادہ کمزور ممالک کی جانب سے خوراک کی درآمدات کو فراہم کی جانے والی لچک کے دائرہ کار کے حوالے سے اختلافات برقرار رہے۔
ڈائریکٹر جنرل نے یاد دلایا کہ یہ کام دو دہائیوں سے جاری ہے۔ ایم سی 12 میں، ہم ایک متن پر بھی متفق نہیں ہو سکے۔ اگرچہ چیلنجز ہیں، پہلی بار ہمارے پاس ایک متن ہے۔ ہم یہاں اس پر کام ختم نہیں کر سکے۔ تو آئیے ہم جنیوا واپس جائیں اور ڈیلیور کریں! "
ڈائریکٹر جنرل نے مشکل مسائل پر ہم آہنگی حاصل کرنے کی کوششوں کے لیے اراکین کا شکریہ ادا کیا، خاص طور پر جب یہ کانفرنس معاشی اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے عالمی پس منظر میں منعقد ہوئی ہے۔

دیگر مسائل

ایم سی 13 میں سروسز ڈومیسٹک ریگولیشن پر نئے ڈسپلن کا نفاذکیا گیا، جس سے دنیا بھر میں تجارتی لاگت125 ارب ڈالر سے کم ہونے کی امید ہے۔ڈبلیو ٹی او کے 72 ممبران کے تعاون سے اس مشترکہ اقدام کو ریگولیٹری طریقہ کارکو بہتربنا کر خدمات کی تجارت کو آسان بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
ڈبلیو ٹی او کے 123اراکین کے نمائندہ وزراء نے 25 فروری کوایک مشترکہ وزارتی اعلامیہ جاری کیا جس میں سرمایہ کاری کی سہولت برائے ترقی معاہدے کو حتمی شکل دی گئی ۔
اس حوالے سے ڈائریکٹرجنرل نے کہا کہ ڈبلیو ٹی او غیر یقینی صورتحال اور خارجی جھٹکوں سے بھرے معاشی اور جغرافیائی سیاسی منظر نامے میں استحکام اور لچک کا ایک ذریعہ ہے۔ تجارت لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے، اور کاروباروں اور ممالک کی مدد کرنے کے لیے ایک اہم قوت ہے۔
ترجمہ۔تنویرملک