شارجہ، 2 مارچ، 2024 (وام) ۔۔ امریکی فوٹو جرنلسٹ اور وائٹ ہاؤس کے سابق آفیشل فوٹوگرافر پیٹ سوزا نے ایکسپوزر انٹرنیشنل فوٹوگرافی فیسٹیول کے جاری 8ویں ایڈیشن میں ڈاکیومینٹنگ فارہسٹری کے عنوان سے سیشن میں شرکا سے گفتگو کی۔
سیشن کے دوران سوزا کے شاندار کیریئر اور اہم تاریخی واقعات کو سمجھنے کے لیے فوٹو گرافی کےاہم کردار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
کنساس کے مقامی اخبارات کے لیے کام کرنے سے لے کر امریکی صدور رونالڈ ریگن اور براک اوباما کے سرکاری فوٹوگرافر کے طور پر کام کرنے تک، سوزا کے پاس تاریخ، ان ادوار کے لمحات کی وسیع کہانیاں ہیں۔
سوزا کی پریزنٹیشن نے دو مشہورصدور کی زندگیوں میں فتح کے لمحات سے لے کر گہرے جذبات کے مناظر ک بہت سی پس پردہ جھلکیاں پیش کی ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے فوٹوگرافر کے طور پر اپنی دوسری مدت کے لیے خدمات انجام دینے کے بارے میں، سوزا نےکہا کہ "مجھے صدراوباما کی تقریب حلف بردادی سے تقریباً دو ہفتے قبل ایک کال موصول ہوئی تھی… میں نے محسوس کیا کہ میں ایسا کرنے کے لیے صحیح شخص ہوں۔ میں اسے چار سال سے جانتا تھا اور صدر ریگن کے ساتھ سابقہ تجربہ بھی تھا۔ میں خود کو ایک تجربہ کار فوٹو جرنلسٹ سمجھتا ہوں۔ میں نے بلا روک ٹوک رسائی مانگی اور جو تصویریں میں نے بنائی ہیں وہ اس کے بغیر ممکن نہیں تھیں۔
اس گفتگو کی ایک خاص بات سوزا کی اپنے تجربے کے بارے میں گفتگو تھی جس میں 9/11 کے حملوں سمیت اہم تاریخی واقعات کا احاطہ کیا گیا ۔
سوزا نے اپنی تصویروں میں انسانی عنصر کو کھینچنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہاکہ "میں ہمیشہ ان چھوٹے لمحات کی تلاش میں رہتا تھا، صرف انسانیت کو کیپچر کی کوشش کرتا تھا۔
پہلے افریقی نژاد امریکی صدر کے طور پر اوباما کے کردار نے سوزا کی فوٹو گرافی کے پس پردہ سوچ کو متاثر کیا،اس سوچ کے نتیجے میں ایک چھوٹے سیاہ فام بچے، جیکب فلاڈیلفیا کی جانب سے اوباما کے سر کو چھونے؛ اور اوباما کا اسی بس میں بیٹھنے کی مشہور تصاویر سامنے آئیں جس میں شہری حقوق کی کارکن روزا پارکس نے سب سے پہلے احتجاج کیا تھا۔
سوزا نے کہا کہ فوٹوگرافی میں دنیا کے بارے میں نہ صرف ہماری سمجھ کو ظاہر کرنےبلکہ اسے شکل دینے کی صلاحیت بھی ہے۔
ترجمہ۔تنویرملک
ایکسپوزر 2024 میں وائٹ ہاؤس کے سابق فوٹوگرافرکا اہم تاریخی واقعات سے متعلق اظہار خیال