ابوظہبی، 2 مارچ، 2024 (وام) ۔۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کی 13ویں وزارتی کانفرنس (ایم سی13) ابوظہبی اعلامیہ کی منظوری کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی،جو اہم نئے تجارتی معاہدوں کے حوالے سے ایک تاریخی دستاویز ہے جس سے عالمی تجارتی نظام سے مزید ممالک کے لیے فوائد میں اضافہ ہو گا۔
ایک ہفتے تک جاری رہنے والے مذاکارت کے بعد ، متحدہ عرب امارات کے وزیرمملکت خارجہ تجارت اور ایم سی 13 کے چیئرمین ڈاکٹر ثانی الزیودی نےاعلامیہ کو نہ صرف ابوظہبی اور متحدہ عرب امارات کے لیے بلکہ مجموعی طور پر عالمی تجارت کے لیے ایک اہم ہفتہ" قرار دیا۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت اقتصادیات اور ابوظہبی ڈیپارٹمنٹ آف اکنامک ڈویلپمنٹ (اے ڈی ڈی ای ڈی) کی میزبانی میں، ایم سی 13 ابوظہبی کے قومی نمائشی مرکز میں 6 فروری سے دو مارچ پانچ روز تک جاری رہی ۔ ابوظہبی اعلامیہ اہم تجارتی اور ترقیاتی پالیسیوں کے سلسلے پر اتفاق رائے کی عکاسی ہے۔
اراکین نے سینیٹری اور فائیٹو سینیٹری اقدامات (ایس پی ایس) اور تجارت میں تکنیکی رکاوٹوں (ٹی بی ٹی) پر خصوصی و ترجیحی ٹرٹیمنٹ کے نفاذ پر اتفاق کیا، جو کم سے کم ترقی یافتہ ممالک میں پیداوارکنندگان کو عالمی سپلائی چین تک بہتر رسائی حاصل کرنے میں مدد فراہم کرے گا ۔ اس وقت ایس پی ایس اقدامات تجارت میں 90 فیصد نان ٹیرف رکاوٹوں کا باعث ہیں، جنہیں چھوٹی قوموں کے لیے امتیازی سمجھا جاتا ہے۔
ترقی پذیر ممالک کو فائدہ پہنچانے والے ایک اور اقدام میں، وزراء نے ایک وزارتی فیصلے کی منظوری دی جو ترقی پذیر اور کم ترقی یافتہ ممالک (ایل ڈی سیز) کے لیے خصوصی اور امتیازی سلوک (ایس اینڈ ڈی ٹی) دفعات کا جائزہ لینے کے لیے 23 سال پرانے مینڈیٹ کو دیکھے گا تاکہ انھیں مزید درست موثر اور آپریشنل بنایا جا سکے۔
ایم سی 12 مینڈیٹ کو پورا کرنے کے معاہدے کے ساتھ 2024 کے آخر تک ایک مکمل اور بہتر طرح سے کام کرنے والے تنازعات کے تصفیے کے نظام کو حاصل کرنے کے لیےتنازعات کے تصفیہ میں اہم پیش رفت ہوئی۔
ای کامرس پر، ممبران نے الیکٹرانک ٹرانسمیشنز پر کسٹم ڈیوٹی پر پابندی کو مزید دو سال کے لیے بڑھانے پر اتفاق کیا، یعنی کیمرون میں ایم سی 14 تک خالصتاً ڈیجیٹل مصنوعات اور خدمات کی تجارت ٹیرف سے پاک رہے گی۔ وزراء نے ایک وزارتی فیصلہ کی بھی منظوری دی جس کے تحت عدم خلاف ورزی اور صورتحال کی شکایات پر تجارت سے متعلقہ پہلوؤں سے متعلق انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس (ٹرپس) کے معاہدے کو ایم سی14 تک توسیع دی گئی۔
ایم سی 13 میں ڈبلیو ٹی او میں دو نئے ممبران کو رکنیت دی گئی اور کوموروس اور تیمور لیسٹے باڈی کے 165ویں اور 166ویں ممبر بن گئے۔ڈبلیو ٹی اوکے کل 45 ارکان میں سے ایل ڈی سیز کی تعداد 37 ہوگئی ہے۔
خدمات میں تجارت کو آسان بنانے کے لیے نئے قوانین کے نفاذ کا اعلان بھی ایم سی 13 کے دوران کیا گیا ۔ سروسز ڈومیسٹک ریگولیشن پر جوائنٹ انیشیٹو پر دستخط کرنے والے 72 ممبران خدمات میں دنیا کی تجارت کا 92 فیصد سے زیادہ حصہ لیتے ہیں۔
ایم سی 13 میں متحدہ عرب امارات نے ڈبلیو ٹی او کے تین اہم ترقیاتی فنڈز کے لیے 10 ملین ڈالر کا وعدہ کیا۔ شراکت کو ڈیجیٹل اکانومی فنڈ میں خواتین کے برآمد کنندگان کے درمیان تقسیم کیا جائے گا، جس کو 5 ملین ڈالر، انہینسڈ انٹیگریٹڈ فریم ورک کو 4 ملین ڈالر ملیں گے، اور فشریز فنڈنگ میکانزم کو1ملین ڈالر دئے جائیں گے۔
گرانٹس اقتصادی ترقی کے محرک کے طور پر تجارت پر متحدہ عرب امارات کے یقین اور عزم کو واضح کرتی ہیں۔ اس کا اعلان وزیر خارجہ عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے ایم سی13 کے موقع پرکیا۔ متحدہ عرب امارات نے وزارتی اجلاس میں شرکت کے لیے کم ترقی یافتہ ممالک کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے 1 ملین ڈالر بھی فراہم کیے ہیں۔
ایم سی 13 میں نجی شعبے کی توسیع میں بھی سہولت فراہم کی۔ اس فورم نے کاروباری، غیر سرکاری تنظیموں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کے ساتھ وسیع تر تعاون اور شراکت کو تلاش کرنے کا موقع فراہم کیا تاکہ ضمنی واقعات کی ایک سیریز کےذریعے تجارتی پالیسیوں اور پروگراموں کی تاثیر کو بڑھایا جا سکے۔
وزارتی کانفرنسز ڈبلیو ٹی او کا اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارہ اور اس کے اراکین کے لیے تجارتی چیلنجوں سے نمٹنے، تجارتی قوانین کو بہتر بنانے اور عالمی تجارتی پالیسی کے لیے ایجنڈا طے کرنے کے لیے اہم فورمز ہیں۔
وزیر برائے خارجہ تجارت اور ایم سی 13 کے چیئرمین ڈاکٹرثانی الزیودی نے کہاکہ یہ ابوظہبی، متحدہ عرب امارات اور عالمی تجارت کے لیے ایک اہم ہفتہ رہا۔عالمی تجارتی نظام کو مزید مضبوط، زیادہ موثر اور سب سے زیادہ قابل رسائی بنانے میں مسلسل کوششوں کے لیے ہر رکن کے وفود کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔
انہوں نے کہا کہ "ابوظہبی اعلامیہ کے نتائج ایک حقیقی ثبوت ہے جسے ممبران ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے ساتھ منسلک کرتے رہتے ہیں اور تجارتی قوانین کے ایک منظم عالمی نظام کو یقینی بنانے میں اس کا اہم کردار ہے۔ ابوظہبی کے منظور کردہ اعلامیہ کے ساتھ ہم نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہم اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ عالمی تجارتی نظام دنیا بھر کی قوموں کے لیے ترقی اور ترقی کا ایک اہم انجن بنے رہے۔
ڈبلیو ٹی او کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر نگوزی اکونجا آئیویلا نے کہاکہ ڈبلیو ٹی او غیر یقینی صورتحال اور مشکلات سے بھرے معاشی اورجغرافیائی سیاسی منظر نامے میں استحکام اور لچک کا ذریعہ ہے۔
ایم سی 13 کی میزبانی متحدہ عرب امارات کی وزارت اقتصادیات اور ابوظہبی ڈیپارٹمنٹ آف اکنامک ڈویلپمنٹ نے اسٹریٹجک پارٹنرز ابوظہبی ڈیپارٹمنٹ آف ٹورازم اینڈ کلچر ،انٹیگریٹڈ ٹرانسپورٹ سینٹر ،ایدنیک سروسز، انور قرقاش ڈپلومیٹک اکیڈمی اور ایمریٹس سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کے تعاون سے کی۔
ترجمہ۔تنویرملک
ڈبلیو ٹی او کی 13ویں وزارتی کانفرنس ابوظہبی اعلامیہ کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی