نیروبی، 3 مارچ، 2024 (وام) ۔۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) کے زیر اہتمام انٹرنیشنل ریسورس پینل کی طرف سے شائع رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2060 تک زمین کے معدنی ذخائر کی دریافت کےلیے کھدائی میں 60 فیصد اضافہ متوقع ہے جس سے نہ صرف عالمی آب و ہوا، حیاتیاتی تنوع اور آلودگی کے اہداف حاصل کرنے کی کوششیں ڈی ریل ہوسکتی ہیں بلکہ اقتصادی خوشحالی اور انسانی بہبود بھی متاثر ہوگی۔
گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران زمین کے قدرتی وسائل کے حصول کے لیت کھدائی میں تین گنا اضافہ ہوا ہے، جس کا تعلق دنیا کے کئی حصوں خاص طور پر اعلیٰ متوسط اور زیادہ آمدنی والے ممالک میں بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور مادی استعمال زوروں پر رہا ہے۔
بین الاقوامی ریسورس پینل کی جانب سے دنیا بھرکے مصنفین کی کوششوں سے تیار کردہ اور اقوام متحدہ کی ماحولیاتی اسمبلی کے چھٹے اجلاس کے دوران جاری 2024 گلوبل ریسورس آؤٹ لک، میں وسیع پیمانے پر پالیسی تبدیلی کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ انسانیت کو اس کے ذرائع کے اندر رہنے اور وسائل میں متوقع نمو کو کم کیا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق وسائل کے استعمال میں 1970 سے 30 سے 106 ارب ٹن تک اضافہ ہوا یا اوسطاً فی شخص یومیہ 23 سے 39 کلوگرام مواد استعمال کیا گیا جس کے ڈرامائی ماحولیاتی اثرات مرتب ہوئے۔ مجموعی طور پر، وسائل کا اخراج اورپروسیسنگ سیارے کی گرمی کے اخراج میں 60 فیصد اور فضائی آلودگی کے صحت سے متعلق 40 فیصد اثرات کا ذمہ دار ہے۔
بائیو ماس (مثلاً، زرعی فصلوں اور جنگلات) کی ایکسٹریکشن اورپروسیسنگ زمین سے متعلق حیاتیاتی تنوع کو پہنچنے والے نقصان اور پانی کی کمی کا90فیصد ذمہ دارہے اس کے ساتھ ساتھ یہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا ایک تہائی حصہ کی وجہ ہے۔اسی طرح،معدنی ایندھن، دھاتیں اور غیر دھاتی معدنیات(مثلاًریت،بجری،مٹی)کو نکالنے اورپروسیسنگ گرین ہاؤس گیسوں کےعالمی اخراج کا 35 فیصد وجہ ہے۔
یو این ای پی کےایگزیکٹو ڈائریکٹرانگر اینڈرسن نے کہاکہ موسمیاتی تبدیلی، فطرت کے نقصان اور آلودگی سیارے کا ٹرپل بحران غیر پائیدار کھپت اور پیداوار کے بحران سے ہوا ہے۔ ہمیں فطرت کے ساتھ کام کرنا چاہیے، بجائے اس کے کہ اس کا محض استحصال کیا جائے حرکت، رہائش، خوراک اور توانائی کے نظام کے وسائل کی شدت کو کم کرنا ہی واحد راستہ ہے جس سے ہم پائیدار ترقی کے اہداف اور بالآخر سب کے لیے ایک منصفانہ اور قابل رہائش سیارہ کو حاصل کر سکتے ہیں۔
عالمی وسائل کے استعمال کے مرکز میں بنیادی عدم مساوات ہیں: کم آمدنی والے ممالک اعلی آمدنی والے ممالک میں رہنے والوں کے مقابلے میں چھ گنا کم مواد استعمال کرتے ہیں اور 10 گنا کم موسمیاتی اثرات پیدا کرتے ہیں۔ اعلیٰ متوسط آمدنی والے ممالک نے گزشتہ 50 سالوں میں بنیادی ڈھانچے میں اپنی ترقی اور اعلیٰ آمدنی والے ممالک سے وسائل کے وسیع عمل کی منتقلی کی وجہ سے وسائل کا استعمال دوگنا سے زیادہ کیا ہے۔ ایک ہی وقت میں، کم آمدنی والے ممالک میں فی کس وسائل کا استعمال اور متعلقہ ماحولیاتی اثرات 1995 سے نسبتاً کم اور تقریباً بدلے نہیں رہے۔
انٹرنیشنل ریسورس پینل کے شریک چیئر جینز پوٹونک نے کہا کہ ہمیں اس بات کو قبول نہیں کرنا چاہیے کہ انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ضروری وسائل کا ہونا ضروری ہے، اور ہمیں زمین کی کھدائی پر مبنی معاشی کامیابی کو تحریک دینابندکرنا چاہیے۔ سیاست دانوں اور نجی شعبے کی طرف سے فیصلہ کن کارروائی کے ساتھ، زمین کی قیمت ادا کیے بغیر سب کے لیے ایک باوقار زندگی ممکن ہے۔
ترجمہ۔تنویرملک