محمد بن راشد نے مدرزانڈوومنٹ مہم کا افتتاح کردیا

دبئی، 4 مارچ، 2024 (وام) ۔۔ نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم مدرزانڈوومنٹ مہم کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد1 ارب درہم مالیت کا انڈومنٹ فنڈ قائم کرکے دنیا بھر کے لاکھوں افراد کی تعلیم کو پائیدار طریقے سے سپورٹ کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات میں ماؤں کی عزت افزائی کرنا ہے۔
یہ مہم، رمضان کے مقدس مہینے کے ساتھ، اس بنیادی حقیقت سے جنم لیتی ہے کہ مائیں اپنے بچوں کی پہلی استاد ہیں۔ وہ نسلوں کی پرورش کرتے ہوئے انہیں زندگی بھر درکار ضروری علم فراہم کرتی ہیں۔ یہ فنڈ متحدہ عرب امارات کی تمام ماؤں کی جانب سے جاری خیراتی ادارے کی نمائندگی کرے گا۔
اس مہم کا مقصد افراد کو اپنی ماؤں کے ناموں پر عطیات دینے کی ترغیب دے کر ماؤں کی عزت افزائی کرنا ہے۔ تعلیمی اور پیشہ ورانہ نظاموں کی حمایت کرتے ہوئے، مہم کا مقصد پسماندہ کمیونٹیز میں افراد کی تعلیم اور قابلیت کی حمایت کرنا بھی ہے اس سے معیار زندگی کو بلند کرنے اور انہیں روزگار مارکیٹ میں داخل ہونے کے لیے بااختیار بنانے کے پائیدار طریقے پیش کرنا ہے۔
تعلیم کی حمایت کے لیے مدرانڈوومنٹ مہم والدین کی عزت، مہربانی اور برادری میں یکجہتی کی اقدار کو بھی فروغ دیتی ہے، ساتھ ہی متحدہ عرب امارات میں ماؤں کے کردار کو بھی اجاگر کرتی ہے، جو اپنے خاندانوں کی پرورش کرتی ہیں اور اپنے بچوں کی تعلیم میں معاونت کرتی ہیں۔
پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں، عزت مآب شیخ محمد بن راشد نے کہاکہ میرے پیارے بھائیو اور بہنو... رمضان کا مقدس مہینہ قریب آ رہا ہے، اور جیسا کہ ہماری روایت ہے کہ متحدہ عرب امارات کے لوگوں سے لے کر دنیا بھر کےلیے انسانی ہمدردی کی مہم شروع کرنے کی ہماری روایت رہی ہے۔ آج ہم مدرانڈوومنٹ مہم کا آغاز کررہے ہیں جومتحدہ عرب امارات میں تمام ماؤں کے نام پر جاری صدقہ کے تحت 1ارب درہم مالیت کا تعلیمی انڈوومنٹ فنڈ ہے ۔
عزت مآب نے کہا کہ "ماں جنت کا مترادف ہے اور اس کا اطمینان جنت کا راستہ ہے۔ ہم جوان اور بوڑھے، مرد اور خواتین ہر ایک سے کہتے ہیں کہ اس وقف فنڈ کا حصہ بنیں۔ آئیے ہم اپنی ماؤں کو خوش کریں، اپنے خالق کو راضی کریں، اور برکتوں، محبتوں اور مہربانیوں کے درمیان اس رمضان کے روزے رکھنے کی مشق کریں۔ خدا متحدہ عرب امارات اور متحدہ عرب امارات کی ماؤں کی حفاظت کرے۔"
عزت مآب نے کہا کہ "علم امید ہے۔ یہ ایک بہتر زندگی کا دروازہ ہے کیونکہ یہ قابل انسانوں کی تعمیر کرتا ہے اور ممالک کو ترقی دیتا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں ہمارا کردار ہر جگہ لوگوں کو تعلیم، امید اور زندگی کو یقینی بنانے میں مدد فراہم کررہا ہے۔ ہمیں دنیا بھر میں ایک بہتر مستقبل بنانے میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔"
عزت مآب شیخ محمد بن راشد نے کہا کہ "تعلیمی معاونت کے لیے ماؤں کی وقف مہم اماراتی کمیونٹی میں یکجہتی کی عظیم قدر کی عکاسی ہے اور یہ متحدہ عرب امارات کی سخاوت کے کلچر کا عملی اطلاق ہے۔"
محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشیٹوز (ایم بی آر جی آئی) کے سیکرٹری جنرل محمد بن عبداللہ القرقاوی نے کہا کہ ماؤں کی وقت مہم برائے حمایت تعلیم عزت مآب شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کے عطیہ اور سخاوت کے پائیدار وژن کی عکاسی ہے۔ "ان کوششوں کا مقصد کمزور کمونیٹیز کو بنیادی ضروریات فراہم کرنا اور انہیں محفوظ طریقے سے رہنے، کام کرنے اور سیکھنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔"
انہوں نے کہاکہ"ماؤں کی وقف مہم یو اے ای کی کمیونٹی میں گہرائی سے جڑی ہوئی، سخاوت اور فراخدلی کی اقدار کا عملی نمونہ ہے۔ یہ ہماری قوم کی اپنے قیام کے بعد سے جاری کوششوں کی عکاسی کرتا ہے، تاکہ محروم کمیونٹیز کو امداد فراہم کی جائے، اور دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو معیاری تعلیم حاصل کرنے میں مدد کی جائے۔"
مدرزانڈوومنٹ مہم سے حاصل ہونے والی آمدنی دنیا بھر میں لاکھوں افراد کی تعلیم میں معاونت کے لیے جائے گی، جو انہیں آزاد، باوقار زندگی گزارنے کے لیے ضروری آلات اور مہارتیں فراہم کرے گی۔
مدرزانڈوومنٹ مہم برائے تعلیم محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشیٹوز کے تحت چلائی جائے گی، جو انسانی ہمدردی اور ترقیاتی کاموں کے میدان میں خطے کی سب سے بڑی بنیاد ہے۔ یہ گزشتہ 4 سالوں کے دوران عزت مآب شیخ محمد بن راشد کی ہدایت پر شروع کی گئی گزشتہ رمضان مہموں کی کامیابی پر استوار ہے، جس کا آغاز 2020 میں '10 ملین کھانے' مہم کے ساتھ کیا گیا تھا۔
منظم اور منظم خیراتی کاموں کے لیے، مدرزانڈوومنٹ مہم برائے تعلیم کی حمایت، اسلامی اقدار اور تعلیمات کے مطابق، پائیدار خیرات کے لیے ایک آسان، ہموار طریقہ پیش کرتی ہے۔ مہم نیکی کرنے کی فطری انسانی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہے، اور اس کا مقصد ایک وسیع تر انسانی تحریک کے حصے کے طور پر سماجی یکجہتی کو آگے بڑھانا ہے۔
قرآنی آیات اور ماؤں کی عزت اور علم کی قدر کی اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر، یہ مہم علاقائی اور عالمی سطح پر انسانی ہمدردی کے کام کے میدان میں متحدہ عرب امارات کی صف اول کی حیثیت کو مستحکم کرتی ہے۔
اقوام متحدہ کے 2030 ایجنڈے کے 17 پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے تیز رفتار عالمی کوششوں کے باوجود، معیاری تعلیم کے چوتھے ایس ڈی جی کو اہم چیلنجز کا سامنا ہے رپورٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ فوری اور پائیدار اقدامات پر عمل درآمد میں ناکامی کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ 84 ملین بچے اور نوجوان اسکولوں سے باہر رہیں گے۔ 2030 تک، 300 ملین بچے پڑھنے، لکھنے اور ریاضی کی بنیادی مہارتوں سے محروم ہو جائیں گے، جو ان کی ترقی اور تعلیم اور کام کے مستقبل کے امکانات کو مزید روک دیں گے۔
یونیسکو کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 263 ملین بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ اس میں پرائمری اسکول کی عمر (5 سے 11 سال) کے 61 ملین بچے، مڈل اسکول کی عمر کے 60 ملین بچے (11 سے 14 سال) اور 142 ملین ہائی اسکول کے طلباء (15 سے 19 سال کی عمر کے) شامل ہیں۔
عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کے زیر اہتمام مختلف اقدامات کو یکجا کرنے کے لیے 2015 میں قائم کیا گیا، ایم بی آر جی آئی کے تحت 35 سے زیادہ انسان دوست، سماجی اور ترقیاتی اقدامات اور ادارے کام کررہے ہیں جو بنیادی طور پر دنیا بھر میں کمزور اور پسماندہ کمیونٹیز پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
ایم بی آر جی آئی فوری طور پر انسانی ہمدردی اور ترقیاتی چیلنجوں کو حل کرنے کے لیے انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری کے ساتھ پوری عرب دنیا میں امید کی ثقافت کو فروغ دینے کی بھی کوشاں ہے۔
ترجمہ۔تنویرملک