ابوظہبی، 7 مارچ، 2024 (وام) ۔۔ جنرل ویمن یونین کی صدر، سپریم کونسل برائے زچہ بچہ کی صدراور فیملی ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کی سپریم چیئر وومن ، مدر آف نیشن عزت مآب شیخہ فاطمہ بنت مبارک نے گزشتہ 20 سالوں میں سپریم کونسل برائے زچہ بچہ کے پروگراموں اور اقدامات کی کامیابیوں کا جائزہ لینے کے لیے سپریم کونسل کا دورہ کیا۔
دورہ کے دوران،عزت مآب کو فاطمہ بنت مبارک فورم برائے زچہ بچہ کی تیاریوں اور انتظامات کے بارے میں بتایا گیا، جو 7 مارچ 2024 کو اپنی سرگرمیوں اور تقریبات کا آغاز کرے گا، اس کے علاوہ 10 اکتوبر 2024 کو اس کا باضابطہ اجلاس متوقع ہے۔ عزت مآب کو 15 مارچ کو "بچوں کا حق تحفظ" کے موضوع کے تحت اماراتی یوم اطفال کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیاگیا۔
عزت مآب نے فورم کے لیے تیار کیے گئے پروگراموں اور منصوبوں کا بھی جائزہ لیا تاکہ ماں، بچے، نوعمرافراد اور خاندان کی ذہنی صحت کے جامع اور موثر پروگرام کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
فاطمہ بنت مبارک فورم برائے زچہ بچہ کا مقصد ذہنی صحت پر ایک جامع مکالمہ قائم کرنا ہے، جس میں خاص طور پر متحدہ عرب امارات میں زچہ بچہ پر اس کے اثرات پر توجہ دی جاسکے۔
اس فورم کا مقصد آگاہی کو بڑھانا، امدادکی فراہمی اور دماغی صحت سے متعلق چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے موثر حل پیش کرنا ہے، جو مہارت کے تبادلے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔
اس فورم کا مقصد ذہنی صحت پر مکالمے کو مزید گہرا اور افزودہ کرنا بھی ہے، جس میں کمیونٹی کے نقطہ نظر کو متحرک کرنا، سیکھنے اور بیداری کو فروغ دینا، اور شرکاء کے درمیان تجربات کے تبادلے کو آسان بنانے کے لیے مضبوط سپورٹ سسٹم فراہم کرنا شامل ہے۔
یہ فورم پالیسیوں اور حکمت عملیوں پر بھی تعمیری بحث فراہم کرے گا، جدت اور تحقیق کی اہمیت پر زور دینے کے ساتھ، شمولیت اور رسائی میں اضافہ کرے گا، اور ذاتی بیانیے کے ذریعے افراد کو بااختیار بنائے گا۔ اس سے ماؤں اور بچوں کے لیے ذہنی صحت کے شعبے میں ترقی کے مواقع پیدا ہوں گے۔
عزت مآب شیخہ فاطمہ بنت مبارک نے متحدہ عرب امارات میں ماؤں اور ان کے بچوں کی ضروری دیکھ بھال اور مدد کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
شیخہ فاطمہ نے اس بات پر زور دیا کہ متحدہ عرب امارات، صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی قیادت میں، ملک کے اندر ماؤں اور ان کے بچوں کی ضروری دیکھ بھال اور مدد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
عزت مآب شیخہ فاطمہ نے کہا کہ ہم اپنے بچوں اور ان کی ماؤں کے حوالے سے ایک اہم ذمہ داری ادا کررہے ہیں، ان کے لیے تمام ضروری مدد اور دیکھ بھال کے لیے پوری تندہی سے کوشش کرتے ہیں۔اس مقصد کے حصول کی طرف ہمارے سفر میں فاطمہ بنت مبارک فورم برائے زچہ بچہ اور اماراتی چلڈرن ڈے دو اہم اقدامات کی نمائندگی کرتے ہیں۔
عزت مآب شیخہ فاطمہ نے کہا کہ ہم پوری طرح تسلیم کرتے ہیں کہ بچوں پر سرمایہ کاری پوری قوم کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ اس لیے، ہم ایسے پروگراموں اور اقدامات اور ان پر عمل درآمد پر توجہ مرکوز کرتے ہیں جو خاص طور پر ہمارے بچوں کی ذہنی صحت، تعلیم اور سماجی ترقی کے حوالے سے مخصوص ہیں، ان بنیادوں پر غور کرتے ہوئے ایک جامع اور ہم آہنگ معاشرے کے حصول کے لیے سنگ بنیاد ہے۔ ہم ایک معاون ماحول فراہم کرتے ہوئے ان کوششوں کو بڑھانے کے لیے کام کررہے ہیں جو ہر بچے اور ماں کی خصوصی ضروریات کو پورا کرنے کو یقینی بناتے ہوئے تخلیقی صلاحیتوں اور اختراع کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
عزت مآب نے ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ملک کے مختلف شعبوں اور اداروں کے درمیان شراکت داری اور تعاون کی اہمیت پر زوردیتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مشترکہ کوششیں اور یکجہتی بچوں کے لیے بہترین مواقع فراہم کرنے اور ماؤں کی ترقی کے ہمارے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اہم ہے۔
فورم ملک کے اندر اور باہر سے زچہ بچہ شعبے کے ماہرین کے درمیان مہارت اور علم کے تبادلے کی حوصلہ افزائی کرے گا تاکہ پیش کردہ پروگراموں اور اقدامات کی سطح کو بڑھایااور صحت کی دیکھ بھال، تعلیمی، اور نفسیاتی شعبوں میں ترقی اور اختراع کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔
عزت مآب شیخہ فاطمہ بنت مبارک نے کہاکہ ماں اور بچے کی فلاح و بہبود کا حصول صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے جس میں معاشرے کے ہر فرد کی فعال شرکت کی ضرورت ہے۔ مل کر کام کرکے، ہم ایک ایسا مستقبل بنا سکتے ہیں جو ہر بچے کے لیے یقینی بنائے کہ وہ متحدہ عرب امارات کے ایک صحت مند اور محفوظ ماحول میں پرورش پائے ، محبت اور دیکھ بھال کے ساتھ اسے اپنی پوری صلاحیت تک پہنچنے کے لیے تمام ضروری سہولیات میسر آئیں۔
عزت مآب کو فورم کے انعقاد سے قبل تیاریوں اور ورکشاپس کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا جس کا مقصد شرکاء کو مختلف سماجی طبقات میں ذہنی صحت کے لیے ایک فعال، ہمدرد، اور جامع نقطہ نظر کے لیے عملی مہارتوں سے آراستہ کرنا تھا۔
یہ ورکشاپس معلومات کو مؤثر طریقے سے فروغ دینے، ذہنی صحت سے وابستہ مسائل کو کم کرنے، اور اس کے بارے میں عوامی بیداری کو بڑھانے کے لیے سماجی اور طرز عمل میں تبدیلی کی مہمات کو فروغ دے گی۔
اس فورم سے ماؤں، بچوں اور بوڑھوں کی ذہنی صحت کو درپیش چیلنجوں کی سمجھ میں اضافہ، کمیونٹی سپورٹ سسٹم کو بہتر بنانے اور دماغی صحت کی دیکھ بھال کو بہتر بنانے کے لیے مختلف شعبوں کے درمیان تعاون میں اضافے کی توقع ہے۔
مزید برآں، ورکشاپس تدارک کے لیے ثقافتی طور پر مناسب حکمت عملی اور فریم ورک تیار کرنے، ذہنی صحت میں سیکھنے اور تربیت کے ذریعے افراد اور کمیونٹیز کو بااختیار بنانے، اس طرح کے مسائل کم کرنے اور ذہنی صحت کے لیے کھلے اور قبول کرنے والے کمیونٹی کے نقطہ نظر کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوں گی۔
عزت مآب کا دورہ اور فورم کی تیاریوں کا جائزہ یو اے ای کی ذہنی صحت اور سماجی بہبود کو بڑھانے کے عالمی رجحانات کے مطابق کمیونٹی کے تمام اراکین کے لیے صحت مند اور معاون ماحول فراہم کرنے کے عزم کی عکاسی ہے۔
فاطمہ بنت مبارک فورم برائے زچہ بچہ ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر کام کررہا ہے، جو ذہنی صحت اور تندرستی کی حمایت میں خاندانوں اور کمیونٹیز کے اہم کردار کو اجاگر اور چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مختلف اداروں کے درمیان شراکت اور تعاون کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
شیخہ فاطمہ نے دورے کے دوران اماراتی یوم اطفال کے لیے بھرپور تیاریوں کا بھی جائزہ لیا، یہ ایک ایسا موقع ہے جو بچوں کے حقوق کے لیے نگہداشت کو اجاگر کرتے ہوئے امارات میں بچوں کی نفسیاتی اور جسمانی تندرستی کو بڑھانے کے لیے جاری کوششوں کی تصدیق کرتا ہے۔
اس سال کا اماراتی یوم اطفال بچوں کی صحت مند و مربوط نشوونما کے لیے ایک معاون اور حوصلہ افزا ماحول پیدا کرنے کے حوالے سے پیش رفت اور مسلسل کوششوں پر غور کرنے کا ایک موقع ہوگا ۔
یہ اقدام امارات کے مستقبل میں مؤثر طریقے سے حصہ ڈالنے کے قابل ایک نئی نسل کی پرورش کے لیے ضروری ہر چیز فراہم کرنے کے لیے ریاست کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
عزت مآب کو اس دن کے لیے پروگراموں اور تقریبات کے بارے میں تفصیلی پریزنٹیشن دی گی ، جس میں تعلیمی اور تفریحی سرگرمیوں سے لے کر آگاہی کے اقدامات شامل ہیں جن کا مقصد بچوں کو تحفظ اور مدد فراہم کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور سپریم کونسل برائے زچہ بچہ کے فاتحین کو اعزازات دینا ہے۔
سپریم کونسل برائےزچہ بچہ کی سکریٹری جنرل ریم بنت عبداللہ الفلاسی نے بچے اور ماں کے حقوق کو بڑھانے اور ایک بہتر مستقبل کے وژن کو عملی جامہ پہنانے میں عزت مآب شیخہ فاطمہ بنت مبارک کی مسلسل حمایت اور اسٹریٹجک وژن کو سراہا۔
الفلاسی نے کہاکہ مدر آف دی نیشن نے بصیرت انگیز وژن اور مسلسل کوششوں کے ذریعے بچے اور ماں کے حقوق کو ملک کی ترجیحات میں بنیادی حیثیت دی ہے، جو کہ ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کے لیے ہمارے پختہ عزم کی عکاسی کرتی ہے جو ہر فرد کو اپنائے اور ہر فرد کو سہولیات فراہم کرے۔
ان کوششوں کے تحت فاطمہ بنت مبارک فورم برائے زچہ بچہ اس وژن کو عملی جامہ پہنانے کی طرف ایک اہم قدم کی نمائندگی کرتا ہے۔یہ فورم ہمارے بچوں کو صحت مند اور حوصلہ افزا ماحول میں بڑھنے کے تمام مواقع فراہم کرنے کے ہمارے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عزت مآب شیخہ فاطمہ بنت مبارک نے ان اہداف کو حاصل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اور ان کی مسلسل حمایت ہمیں امارات میں تمام بچوں اور ماؤں کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کے حامل مستقبل کے لیے اپنے وژن کو پورا کرنے کے لیے اعتماد کے ساتھ اپنا کام جاری رکھنے کے قابل بناتی ہے۔
انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مشترکہ امور اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا تاکہ مستقبل کو یقینی بنایا جا سکے جہاں متحدہ عرب امارات میں ہر بچے اور ماں کو اعلیٰ سطح کی دیکھ بھال اور مدد حاصل ہو۔
ترجمہ۔تنویرملک
فاطمہ بنت مبارک کا ابوظہبی میں سپریم کونسل برائے زچہ بچہ کے ہیڈکوارٹر کا دورہ