جسور انٹرنیشنل کے زیراہتمام تقریب میں تنازعات کاشکار علاقوں میں غلط معلومات کے خطرے کو اجاگر کیا گیا

جنیوا، 9 مارچ، 2024 (وام) ۔۔ غیر سرکاری تنظیم، جسور انٹرنیشنل فار میڈیا اینڈ ڈویلپمنٹ نے انسانی حقوق کونسل کے 55ویں اجلاس کے موقع پر "شورش زدہ علاقوں میں غلط معلومات" کے عنوان سے ایک تقریب کا اہتمام کیا۔
مقررین نے اس رجحان کی سنگینی کو اجاگرکیاجو اس حد تک پہنچ چکی ہیں کہ غلط معلومات کمیونٹیز، لوگوں، افراد اور ان کی زندگیوں کو متاثر کررہی ہیں۔ انہوں نے اس کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے اس قسم کی خبروں کو پھیلانے والوں کو روکنے کے لئے خاص طور پر موجودہ تکنیکی ترقی اور میڈیا کے میدان میں استعمال ہونے پر مصنوعی ذہانت کے اثرات کی روشنی میں اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا۔
جسور انٹرنیشنل فار میڈیا اینڈ ڈویلپمنٹ کے صدر محمد الحمادی نے میڈیا میں غلط اور گمراہ کن معلومات کے بڑھتے ہوئے خطرے کا ذکر کرتے ہوئے اس مسئلے کا مقابلہ کرنے میں میڈیا، صحافیوں اور تنظیموں کے اہم کردار کو اجاگر کیا، خاص طور پر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی معلومات کی تصدیق کرنے میں تاکہ غلط معلومات کو حقائق کو مسخ کرنے اور ساکھ کو مجروح کرنے سے روکا جا سکے۔ الحمادی نے صحافت پر جھوٹی معلومات کے نقصان دہ اثرات کے بارے میں خبردار کیا۔
انسانی حقوق کی وکیل اور ماہر والیریا ایمیلیا نے مختلف شعبوں میں غلط معلومات کے وسیع اثرات پر روشنی ڈالی، خاص طور پر جب اسے نسلی طور پر یا نسلی تناظر میں استعمال کیا جائے۔ انہوں نے دوسری جنگ عظیم اور سرد جنگ کے دوران اس طرح کے جھوٹے پراپیگنڈہ کی تاریخی مثالوں کا حوالہ دیا جو نظریاتی ایجنڈوں سے چلائی جاتی تھیں ۔ ایمیلیا نے غلط معلومات کے پھیلاؤ کو بڑھانے میں ٹیکنالوجی اور اے آئی کے کردار کا ذکر کرتے کہا کہ ذرائع ابلاغ مستعدی سے خبروں اور معلومات کے ذرائع کی تصدیق کریں۔
ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت کے ماہر ڈاکٹر وائلا کریبس نے رائے عامہ کی تشکیل کے لیے غلط معلومات کے آن لائن پھیلاو کے خطرے کو اجاگر کیا کیوںکہ اے آئی کی ترقی کے ساتھ، اصلی اور ہیرا پھیری والے مواد کے درمیان فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ کریبس نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ غلط معلومات کی تصدیق اور انسداد کے لیے جدید پروگرام تیار کریں،خاص طور پر ان تنازعات والے علاقوں میں جہاں اے آئی کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔
جنیوا گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں انسانی حقوق کی تنظیموں، سول سوسائٹی کی تنظیموں، ماہرین تعلیم اور صحافی نمائندوں نے شرکت کی۔
ترجمہ۔تنویرملک