یورپی پارلیمنٹ نے مصنوعی ذہانت کے قانون کی منظوری دے دی۔

برسلز، 13 مارچ، 2024 (وام)۔۔ یورپی پارلیمنٹ نےمصنوعی ذہانت ( اے آئی) ایکٹ کی منظوری دی ہے جو جدت کو فروغ دیتے ہوئے بنیادی حقوق کے تحفظ اوراصولوں کی پاسداری کو یقینی بناتا ہے۔
دسمبر 2023 میں رکن ممالک کے ساتھ مذاکرات میں اس ضابطے پر اتفاق کیا گیا تھا، جس کے حق میں523 یورپی پارلیمنٹ کے ارکان نے ووٹ دیا تھا، مخالفت میں 46 اور 49 ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تھا۔
اس کا مقصد بنیادی حقوق، جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور انتہائی خطرے والے اے آئی سے ماحولیاتی پائیداری کا تحفظ کرنا ہے، جبکہ جدت کو فروغ دینا اور یورپ کو اس شعبے میں ایک سرکردہ رہنما بنانا ہے ۔
نئے قوانین سےشہریوں کے حقوق کےلئے خطرے کے باعث بعض اے آئی ایپلی کیشنز پر پابندی عائد کردی گئی ہے جن میں حساس خصوصیات پر مبنی بائیو میٹرک درجہ بندی کا نظام اور چہرے کی شناخت کے ڈیٹا بیس کے لیے انٹرنیٹ یا سی سی ٹی وی فوٹیج سے چہرے کی تصاویر کی غیر ہدفی سکریپنگ،کام کی جگہوں اور اسکولوں میں جذبات کی شناخت، سماجی اسکورنگ، پیش گوئی کرنے والی پولیسنگ اور انسانی رویوں میں جعل سازی یا لوگوں کی کمزوریوں کا استحصال کےلئے اے آئی کے استعمال پر پابندی ہوگی۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے سوائے مکمل اندراج شدہ اور مختصربیان کردہ حالات کے بائیو میٹرک شناختی نظام (آر بی آئی) کا استعمال اصولی طور پر ممنوع ہے۔ حقیقی وقت میں آر بی آئی کو صرف اس صورت میں اسعتمال کیا جا سکتا ہے جب سخت حفاظتی اقدامات پورے کیے جائیں ۔ اس کا استعمال وقت اور جغرافیائی دائرہ کار میں محدود ہے اور مخصوص پیشگی عدالتی یا انتظامی اجازت سے مشروط ہے۔
منگل کو مکمل بحث کے دوران، اندرونی مارکیٹ کمیٹی کے شریک نمائندے برانڈو بینیفائی نے کہا کہ آخر کار ہمارے پاس مصنوعی ذہانت سے متعلق دنیا کا پہلا قانون آگیا ہے، جو خطرات کو کم کرنے، مواقع پیدا کرنے، امتیازی سلوک سے نمٹنے اور شفافیت لانے کے لیے ہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعے یورپ میں ناقابل قبول اے آئی طریقوں پر پابندی لگا دی جائے گی اور کارکنوں اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔ اب اے آئی آفس قائم کیا جائے گا تاکہ کمپنیاں ان کے نافذ ہونے سے پہلے قوانین کی تعمیل شروع کر سکیں۔
ترجمہ۔تنویرملک