اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسلامو فوبیا کے خلاف قرارداد منظور

نیویارک، 16 مارچ، 2024 (وام) ۔۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے عالمی دن کے موقع پر اسلامو فوبیا کے خلاف قرارداد منظور کی ہے۔

'اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے اقدامات' کے عنوان سے یہ قرارداد پاکستان نے اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے پیش کی تھی۔ قرار دادکے حق میں115 ممالک نے ووٹ دیا جب کہ 44 نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا، کسی بھی ملک نے قرارداد کے خلاف ووٹ نہیں دیا۔

قرارداد میں اقوام متحدہ کی طرف سے اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے لیے خصوصی ایلچی کی تقرری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ووٹنگ سے قبل، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے، منیر اکرم نے قرارداد کے مسودے کا جائزہ پیش کیا جس میں کہا گیا کہ اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے لیے دوسال قبل عالمی دن کے اعلان کے بعد یہ پہلی قرارداد ہے۔

قرارداد میں مذہبی منافرت، امتیازی سلوک پر اکسانے، مخاصمت یا مسلمانوں کے خلاف تشدد کی کسی بھی کال کی مذمت کی گئی ہے۔ جنرل اسمبلی نے اپنی قرارداد میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ مذہبی عدم برداشت، دقیانوسی تصورات، نفرت اور مسلمانوں کے خلاف تشدد پر اکسانے کے خلاف ضروری اقدامات کریں، اور مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر تشدد یا تشدد پر اکسانے کی قانون کے ذریعے روک تھام کریں۔
ووٹنگ کے بعد، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، انتونیو گوتریس نے اپنے خطاب میں سلامو فوبیا سے نمٹنے کے لیے عالمی دن کے موثر ہونے اوراسلام اور مسلمانوں اور ان کی ناقابل تردید خدمات کے مکمل انکار اورجہالت کی نمائندہ شیطانی قوتوں پر روشنی ڈالی۔

گوتریس نے کہاکہ "دنیا بھر میں، ہم مسلم مخالف نفرت اور تعصب کی بڑھتی ہوئی لہر کو دیکھ رہے ہیں۔ جو کئی شکلوں میں آ سکتی ہے جن میں ساختی اور نظامی امتیاز۔ سماجی اقتصادی اخراج۔ غیر مساوی امیگریشن پالیسیاں۔ غیر ضروری نگرانی اور پروفائلنگ۔ شہریت، تعلیم، روزگار اور انصاف تک رسائی پر پابندیاں شامل ہیں۔

سکریٹری جنرل نے خبردار کیا کہ ادارہ جاتی رکاوٹیں انسانی حقوق اور وقار کے لیے ہمارے مشترکہ عزم کی خلاف ورزی ہیں۔ یہ اخراج، غربت اور حق رائے دہی سے محرومی کے ایک شیطانی چکر کو بھی برقرار رکھتی ہیں جس کے اثرات نسلوں تک برقرار رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ تفرقہ انگیز بیان بازی اور غلط بیانی سے دقیانوسی تصورات کا پرچار اور کمیونٹیز کو بدنام کیا جارہا ہے جس سے غلط فہمی اور شکوک کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے۔

سیکرٹری جنرل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ یہ سب مسلمانوں کو ہراساں کرنے اور یہاں تک کہ واضح تشدد کا باعث بن سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نفرت ہمارے معاشروں کے تانے بانے کو تباہ کر دیتی ہے، مساوات، افہام و تفہیم اور انسانی حقوق کے احترام کو نقصان پہنچاتی ہے، جس پر ایک پرامن دنیا کا مستقبل منحصر ہے۔

سیکرٹری جنرل نے نفرت اور تعصب کی حمایت نہ کرنے پر زوردیتے کہا کہ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم مسلمانوں کے خلاف تعصب کی لعنت کا مقابلہ کریں اور اسے ختم کریں۔ .
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے تقریبا دو ارب مسلمانوں کے لیے اسلام ایمان اور عبادت کا ستون ہے جو دنیا کے کونے کونے میں لوگوں کو متحد کرتا ہے۔ اور "ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ہماری مشترکہ تاریخ کا ایک ستون بھی ہے۔

سکریٹری جنرل نے ثقافت، فلسفہ اور سائنس میں مسلم اسکالرز کی اہم خدمات پرروشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ مسلمان تمام ممالک، ثقافتوں اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ انسانی خاندان کے حیرت انگیز تنوع کی نمائندگی کرتے ہیں۔


ترجمہ۔تنویرملک