زخمی فلسطینی بچوں اور کینسر کے مریضوں کا 13ویں گروپ متحدہ عرب امارات پہنچ گیا

ابوظہبی، 16 مارچ، 2024 (وام) ۔۔ صدرعزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی غزہ کی پٹی سے 1ہزارزخمی بچوں اورکینسرکے1ہزارمریضوں کے یو اے ای کے اسپتالوں میں علاج کی ہدایت کی روشنی میں زخمی فلسطینی بچوں اورکینسرکے مریضوں کا 13 واں گروپ ہفتہ کو متحدہ عرب امارات پہنچ گیا۔

یہ اقدام متحدہ عرب امارات کے اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہنے اور مختلف حالات میں ان کے لیے مدد کا ہاتھ بڑھانے کے لیے ثابت قدم انسانی ہمدردی کا واضح نمونہ ہے۔

العریش بین الاقوامی ہوائی اڈے سے40 بچوں سمیت 98 فلسطینیوں کو زاید بین الاقوامی ہوائی اڈے پرپہنچایا گیا۔جنہیں شدید زخموں اورجھلسنے کی وجہ سے فوری طبی امداد اورکینسر کے مریضوں کو فوری علاج کی ضرورت ہے۔خاندان کے 58 افراد بھی ان کے ہمراہ پہنچے ہیں۔

اس نئے گروپ کی آمد کے بعد متحدہ عرب امارات کے ہسپتالوں مین غزہ سے آنے والے زخمی بچوں اورمریضوں کی کل تعداد 1,154 ہو گئی ہے۔ اس میں 585 زخمی بچے اورکینسر کے مریضوں کے ساتھ ساتھ ان کے خاندان کے 569 افراد بھی شامل ہیں۔

یہ اقدام برادر فلسطینی عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور غزہ کی پٹی میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کے جواب میں امدادی کارروائیوں کومضبوط بنانے کے لیے متحدہ عرب امارات کی جاری کثیر سطحی کوششوں کا حصہ ہے۔

وزارت خارجہ میں معاون وزیربرائے طبی امور و لائف سائنسز مها تيسير بركات نے کہا کہ متحدہ عرب امارات غزہ میں فلسطینی عوام کے انسانی مصائب کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔اس تناظر میں ڈاکٹر برکات نے کہا کہ دانشمند قیادت نے ہدایت کی ہے کہ صحت کے شعبے میں ہر قسم کی مدد فراہم کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات نے غزہ میں ایک فیلڈ اسپتال اور مصری شہرالعریش میں ایک فلوٹنگ اسپتال قائم کیا ہے،اس کے علاوہ غزہ کی پٹی کے اسپتالوں کوایمبولینسیں،آلات ادویات اور طبی سامان فراہم کیا گیاہے۔

انہوں نے غزہ کے فیلڈ اسپتال،العریش کے فلوٹنگ اسپتال اورمتحدہ عرب امارات کے اسپتالوں میں فلسطینی بھائیوں کے علاج اور دیکھ بھال میں کام کرنے والی ورک ٹیموں، طبی پیشہ ور افراد اور رضاکاروں کی کاوشوں کو سراہا۔

انہوں نے مریضوں اور زخمی بچوں کو غزہ سے متحدہ عرب امارات منتقل کرنے پر مامور طبی ٹیم کی بھی تعریف کی اورطبی پروٹوکول کے مطابق طبی انخلاء کی کارروائیوں میں شامل تمام افراد کی پیشہ ورانہ مہارت اور لگن کو سراہا۔

ڈاکٹر برکات نے مصری حکام کے تعاون کو بھی سراہا جنہوں نے متحدہ عرب امارات کے انسانی ہمدردی کے اقدامات کے لیے ہر ممکن مدد اورسہولت فراہم کی ہے۔

طیارے کی آمد پر طبی ٹیموں نے زخمیوں اور مریضوں کو منتقل کرنے کا عمل شروع کردیا جن کے کیسز کو طبی امداد کے لیے فوری طور پر اسپتالوں میں منتقل کرنا ضروری تھا۔ باقی مریضوں اور ان کے ہمراہ انے والے خاندان کے افراد کو ایمریٹس ہیومینٹیرین سٹی منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ قیام پذیر ہوں گے۔

محکمہ صحت ابوظہبی کی انڈر سیکرٹری ڈاکٹر نورہ خميس الغيثی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اپنے بانیان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، سخاوت، رواداری اور خیرات کے اصولوں پر مبنی اپنا انسانی ہمدردی کا کردار جاری رکھے ہوئے ہے۔

غزہ کو درپیش حالات کی روشنی میں اور دانشمند قیادت کی ہدایات پر عمل درآمد کرتے ہوئے، اسپتالوں میں گذشتہ سال نومبر میں پہلے گروپ کی آمد کے بعد سے غزہ سے آنے والے مریضوں کی بھرپور دیکھ بھال اور خصوصی طبی اور صحت کی خدمات فراہم کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امارات میں صحت کا شعبہ اس سلسلے میں دانشمند قیادت کی ہدایات پر عمل درآمد کے لیے مریضوں کو وصول کرنے اور ان کے علاج کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

ڈاکٹر الغیثی نے طبی سہولیات میں اس وقت زیر علاج مریضوں کی صحت کی حالت میں بہتری کے حوالے سے بتایا جو علاج کے بہترین ذرائع فراہم کرنے اور صحت یابی کی طرف سفر میں ان کی مدد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سے فلسطینی مریضوں کی دیکھ بھال پر مثبت اثر پڑا ہے۔

امارات ہیومینٹیرین سٹی کے سرکاری ترجمان، مبارک القحطانی نے کہاکہ غزہ کی پٹی سے آنے والے مریضوں کی درجہ بندی کے عمل کے تحت شہر میں ایسے مریضوں کے لیے سہولیات مختص کی گئی ہیں جن کے لیے ہسپتال میں داخلے کی ضرورت نہیں ہے اور ان کے ساتھی انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہیومینٹیرین سٹی متحدہ عرب امارات کے مہمانوں کے لیے زیادہ سے زیادہ آرام کو یقینی بنانے کے لیے سیکورٹی اور حفاظت کے اعلیٰ ترین معیارات پرعمل پیرا ہے۔

القحطانی نے مزید کہا کہ ہیومینٹیرین سٹی میں جدید ترین طبی آلات سے لیس ایک صحت کا مرکز شامل ہے۔ اسے پرائیویسی کو مدنظر رکھتے ہوئے اور مہمانوں کو راحت اور نفسیاتی مدد فراہم کرتے ہوئے اعلیٰ ترین معیار کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ شہری انتظامیہ نے بچوں کے لیے نرسری اور اسکول اور یونیورسٹی کی تعلیم کے لیے خصوصی پروگرام فراہم کیے ہیں تاکہ فلسطینی طلبہ اپنی تعلیمی تعلیم جاری رکھ سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہیومینٹیرین سٹی تمام عمر کے گروپوں کے لیے بیرونی سہولیات اور جدید تفریحی سہولیات سے آراستہ انڈور ہالز میں مختلف تفریحی پروگرام مہیا کرتا ہے۔ یہ شہر نفسیاتی مدد کے حصے کے طور پر اپنے شراکت داروں کے تعاون سے اور ایک ایسا ماحول اور کمیونٹی فراہم کرنے کے لیے باقاعدگی سے سماجی رابطوں کی سرگرمیوں کا بھی اہتمام کررہا ہے۔

بحران کے آغاز کے بعد سے، متحدہ عرب امارات غزہ کی پٹی میں فوری طور پر انسانی بنیادوں پر، امدادی سامان فراہم کرنے کے لیے تیزی سے کام کر رہا ہے۔ یہ اقدامات متحدہ عرب امارات کی جانب سے غزہ کی پٹی کے شہریوں کے مصائب کے خاتمے کے لیے تیز رفتار اور مربوط رفتار سے بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کے جواب میں اور اس کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے کام کرنے کی کوششوں کا تسلسل ہیں۔


ترجمہ۔تنویرملک