ہیوسٹن، 19 مارچ، 2024 (وام) ۔۔ کوپ28 کے صدر ڈاکٹرسلطان الجابر کو پائیدار توانائی میں کوششوں کے اعتراف میں دنیا کی سب سے بڑی توانائی کانفرنس،ایس اینڈ پی گلوبل کی جانب سے سیرا ویک ایوارڈ سے نوازاگیاہے۔
ڈاکٹر الجابر کو یہ ایوارڈ پائیدار توانائی کے مستقبل کے لیے یو اے ای اتفاق عالمی اتفاق کے حصول میں ان کی کوششوں اعتراف میں دیا گیا ہے جو گلوبل کلائمیٹ ایکشن کے حوالے سے واضح نقطہ کے طور پر سامنے آیا ، اس معاہدے میں ممالک کو واضح ہدایت دی گئی ہے کہ کس طرح 1.5ڈگری سینی گریڈ کو پہنچ کے اندر رکھا جاسکتا ہے۔
ڈاکٹر الجابر کو یہ ایوارڈ S&P گلوبل کے وائس چیئرمین ڈینیئل یرگن اور سیرا ویک کانفرنس چیئر نے کوپ28 پریڈینسی کی قیادت کرتے ہوئے غیر معمولی کوششوں کے اعتراف میں دیا۔
ڈینیل یرگن نے کہاکہ دبئی میں سامنے آنے والےمتحدہ عرب امارات اتفاق رائے نے ایسے راستوں کا خاکہ پیش کیا، جو کبھی بھی ٹھوس نہیں تھا۔ ڈاکٹر سلطان نے آب و ہوا کے حل کے لیے لازمی بنیاد کے طور پر شمولیت اور جامعیت پر زور دیا۔ اس پر عمل درآمد آسان نہیں تھا۔ لیکن ڈاکٹر سلطان نے مستقبل کے کوپس کے لیے ایک نیا لائحہ عمل دیا ہے۔
کانفرنس میں ورچوئل طور پر شرکت کرتے ہوئے ڈاکٹر الجابر نے کہا کہ ملکی قیادت اور متحدہ عرب امارات کے عوام کی جانب سے متحدہ عرب امارات اتفاق رائے کے لیے یہ ایوارڈ قبول کرنے پر انہیں بہت فخر ہے۔
گزشتہ دہائی کے دوران،S&P گلوبل کی جانب بسے سیرا ویک ایوارڈ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی،کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو اور میکسیکو کے سابق صدراینریک پینا نیتو کو مل چکا ہے۔
کوپ28 کانفرنس میں مرکزی اہمیت کے حامل کثیرالجہتی، شمولیت اور شراکت داری کے جذبے نے متحدہ عرب امارات اتفاق رائے حاصل کرنے کے لیے کلیدی کردار ادا کیا۔ متحدہ عرب امارات کے اتفاق رائے نے پہلی چیزوں کا ایک سلسلہ پیش کیا، جس میں تمام فریقوں کی جانب سے توانائی کے سسٹمز میں فوسل فیولز سے دور منتقلی کے لیے ایک منصفانہ، منظم اور مساوی انداز میں عالمی قابل تجدید توانائی کی صلاحیت کو تین گنا کرنے اور2030 تک صلاحیت توانائی کو دوگنا کرنے کے لیے اہداف بھی شامل ہیں۔
ڈاکٹر الجابر نے کہا کہ ایک ایسی دنیا میں جو اکثر تنازعات کی وجہ سے پیچھے ہے، متحدہ عرب امارات کے اتفاق رائے نے اقوام کو متحدہ کیا تاکہ موسمیاتی ترقی کے لیے ایک بڑا قدم اٹھایا جا سکے۔
ڈاکٹرالجابرنے موسمیاتی ایکشن اورامید کے جذبے کاسہرا کوپ 28 مں شریک ہر کریکٹر کے نام کیا، جس میں نجی اور سرکاری شعبوں،سول سوسائٹی اور مذہبی رہنماؤں، نوجوانوں اور مقامی لوگوں کی کوششوں سے نتائج فراہم کرنے میں مدد ملی۔انہوں نےکہا کہ مختصراً،کوپ28 اپنی مکمل شمولیت کی وجہ سے کامیاب رہی جس میں ہر ایک کی شراکت کا خیرمقدم کیا گیا۔
ڈاکٹر الجابر نے اس بات پر زور دیا کہ تیل اور گیس کا شعبہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں اہمیت کا حامل ہے۔ کوپ28 کے دوران پریذیڈنسی نے آئل اینڈ گیس ڈیکاربونائزیشن چارٹر کا آغاز کیا جس پردستخط کرنے والے 2050 تک یا اس سے پہلے خالص صفر اخراج کے حصول کے قریب تر ہوں گے، 2030 تک صفر میتھین اخراج کو حاصل کریں گے۔
اب تک 52 کمپنیاں،جو تیل کی عالمی پیداوار کا تقریباً 40 فیصد پیدا کرتی ہیں،سائن اپ کر چکی ہیں۔جن میں نیشنل آئل کمپنیوں کا تناسب 60 فیصد سے زیادہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال کے سیرا ویک میں انہوں نے تیل اور گیس کو تیز کرنے کے لیے ایک واضح مطالبہ کیا تھا۔میں نے اس وقت ایک مسئلے کی نشاندہی کی تھی آج، مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ دبئی میں کوپ28 میں اس صنعت نے ثابت کیا کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے ضروری ہیں۔
ڈاکٹر الجابر نے چائنا نیشنل پیٹرولیم کارپوریشن کے جلد او جی ڈی سی میں شمولیت کا خیر مقدم کیا ، جس سے تیل کی پیداوار کا تناسب 44 فیصد ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑی پیش رفت ہے - لیکن یہ کافی نہیں دگر آئی او سیز اور این او سیزکے لیے میرا پیغام ہے، آپ کو کیا روک رہا ہے؟ یہ وقت ہے کہ قدم بڑھائیں، سائن اپ کریں اور اس اہم سفر میں ہمارے ساتھ شامل ہوں۔
انہوں نے مزید کہاکہ اگر دنیا اپنے آب و ہوا اور ترقی کے اہداف کو پورا کرنے جا رہی ہے، تو ہر اسٹیک ہولڈر کو ایک اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔
ڈاکٹرالجابر نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات اتفاق رائے کے روڈ میپ کو "صاف ٹیکنالوجیز کو تجارتی بنانے کے لیے سمارٹ پالیسیوں" کے ساتھ پورا کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوپ28پریذیڈنسی کی بنیادی ترجیح موسمیاتی فنانس کو بڑھانا اور فنانس کو مزید قابل رسائی،دستیاب اورسستی بنانے کے لیے درکار وسائل کو متحرک کرنا ہے،ہمیں ہر سطح پر فنانس کی ضرورت ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ قابل تجدید توانائی کی صلاحیت 2030 تک تین گنا بڑھ جائے اور کہ گلوبل ساؤتھ بھی پیچھے نہیں ہے۔
کوپ28 کے صدر نے کہا کہ کوششوں کو کم نہیں سمجھا جانا چاہئے آئیے اس توانائی نظام کے سائز کو ذہن میں رکھیں جسے ہم تبدیل کر رہے ہیں - 260 ملین مساوی بیرل تیل، گیس اور کوئلہ روزانہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس حقیقت سے گریز نہیں کیا جاسکتا کہ توانائی کی منتقلی میں وقت لگے گا۔ یہ مختلف جگہوں پر مختلف رفتار سے ہوگا۔
ڈاکٹرالجابر نے اس بات پر زور دیا کہ توانائی کی منتقلی بہت بڑے مواقع پیش کرتی ہے انہوں نے کہاکہ کام بہت بڑا ہے۔ لیکن موقع بھی ایسا ہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اتفاق رائے روڈ میپ فراہم کرتا ہے۔ ایک ساتھ مل کر، ہمیں نتائج پیدا کرنا ہوں گے۔ آئیے اس ذہنیت کو تبدیل کریں جس میں کلائمیٹ ایکشن کو ایک بوجھ سمجھا جاتا ہے بلکہ اسے ایک بہت بڑے سماجی و اقتصادی موقع کے طورپر دیکھیں۔
ترجمہ۔تنویرملک