ابوظبی، 24 مارچ، 2024 (وام) ۔۔ یو اے ای انٹرنیشنل انوسٹرز کونسل کے سیکرٹری جنرل جمال بن سیف الجروان نے کہا ہےکہ عالمی اقتصادی اتار چڑھاو کے باوجود بیرون ملک متحدہ عرب امارات کی سرمایہ کاری اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
متحدہ عرب امارات اپنے سرمایہ کاری کے پورٹ فولیو کو وسعت دے رہا ہے تاکہ مستقبل کی نسلوں کو قیمتی اور قابل عمل منصوبوں کے ساتھ محفوظ بنایا جا سکے جو مضبوط اقتصادی انتظام اور ترقی اور تعاون کے عزم کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ الجروان نے کہاکہ متحدہ عرب امارات نے عالمی معیشت میں اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے۔
2024 کے اوائل تک متحدہ عرب امارات کے بیرون ملک اثاثوں کی کل مالیت، خواہ سرکاری ہو یا نجی، کا تخمینہ 2.5 ٹریلین ڈالر لگایا گیا ہے۔ یہ عرب خطے اور مغربی ایشیا میں پہلے نمبر پر ہے اور عالمی سطح پر 15 واں اور نئے مواقع میں سرمایہ کاری کرنے میں عالمی سطح پر دوسراہے۔
امارات نیوز ایجنسی (وام) کو دیئے گئے بیان میں الجروان نے وضاحت کی کہ امریکہ سرفہرست ہے جس نے 65 ارب ڈالر کے بانڈز اور 50 ارب ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری کو راغب کیا ہے۔ مصر 65 ارب ڈالر کے ساتھ قریب سے آگے ہے جب کہ برطانیہ اور ہندوستان ہر ایک نے 40 ارب ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری کی ہے۔ مراکش 30 ارب ڈالر اور یورپ اپنی کرنسی کے استحکام کی وجہ سے مستقبل کی امید افزا منزل کے طور پر ابھر رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہم اس وقت 90 ممالک میں کام کر رہے ہیں اور امید ہے کہ ہندوستان، انڈونیشیا، آسیان ممالک، مصر، مراکش، وسطی ایشیائی ممالک، برطانیہ، فرانس، جرمنی، امریکہ، کینیڈا، اور کچھ مشرقی یورپی ممالک، خاص طور پر سربیا ، یونان اور ترکی، ہماری توجہ کا مرکز بننا ہے۔
ملکیت اور سرمایہ داروں کی تقسیم کے بارے میں کونسل کے سیکریٹری جنرل نے وضاحت کی کہ دنیا بھر میں اماراتی سرمایہ کاری کو خودمختار دولت کے فنڈز کے درمیان 72 فیصد تقسیم کیا جاتا ہے جس میں ابوظہبی انوسٹمنٹ اتھارٹی مبادلہ انویسٹمنٹ کمپنی انویسٹمنٹ کارپوریشن آف دبئی، ایمریٹس انویسٹمنٹ اتھارٹی اور ADQ کے ساتھ بنیادی کردار ادا کرتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے پاس دو ٹریلین ڈالر سے زیادہ کے اثاثوں کے ساتھ 7 خودمختار دولت کے فنڈز ہیں۔
اس کے بعد سرکاری اور نیم سرکاری کمپنیاں 18 فیصد، متحدہ عرب امارات کے بینکوں کی 2.5 فیصد اور خاندانی ملکیت اور نجی کمپنیوں کے لیے 7.5 فیصد ہیں۔ جمال الجروان نے کہاکہ سودوں کا ایک سلسلہ ہے جو مکمل ہو چکا ہے جن میں سب سے نمایاں امریکن اثاثہ جات کی انتظامی کمپنی اپولو گلوبل مینجمنٹ اور ابوظہبی انوسٹمنٹ اتھارٹی کے درمیان یونی وار سلوشنز کے حصول کے لیے جس کا صدر دفتر متحدہ عرب امارات میں ہےاور اس کے لیے 8.2 ارب ڈالر کامعاہدہ تھا۔
انہوں نے کینیڈین Caisse de dépôt et Placement du Québec کے معاہدے کا بھی ذکر کیا جس میں جبل علی فری زون اور نیشنل انڈسٹریز پارک اور جبل علی پورٹ دونوں میں ڈی پی ورلڈ کی ملکیت کا 22 فیصد حصہ 5 ارب ڈالر میں حاصل کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے 1991 سے 2000 کے دوران 1.9 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی اور 2001 سے 2010 تک مزید دس سالہ مدت کے دوران 53.6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ انہوں نے کہا کہ 2022 میں متحدہ عرب امارات کا بیرون ملک سرمایہ کاری کا بہاؤ بڑھ کر 24.833 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو کہ 2021 کے مقابلے میں 10 فیصد اضافے کی نمائندگی کرتا ہے جب یہ 22.546 ارب ڈالر تھا۔ مزید برآں اقوام متحدہ کی تجارت اور ترقی پر کانفرنس کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق یو اے ای 2022 میں دنیا کے ممالک میں سرمایہ کاری کے بہاؤ میں عالمی سطح پر 15 ویں نمبر پر تھا۔
ترجمہ: ریاض خان