متحدہ عرب امارات کے استغاثہ کامنظم بھیک مانگنے کے جرم پر سزاؤں کا اعلان

ابوظہبی، 24 مارچ، 2024 (وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات کے سرکاری استغاثہ (پی پی) نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایک پوسٹ کے ذریعے منظم طور پربھیک مانگنے کے جرم کی سزاؤں کی وضاحت کی۔

سرکاری استغاثہ نے بتایا کہ 2021 کے جرائم اور تعزیرات سے متعلق وفاقی حکم نامے کے قانون نمبر31 کے آرٹیکل 476 اور477 کے مطابق کوئی بھی شخص جو دو یا دو سے زیادہ افراد کے منظم گروپ کے ساتھ بھیک مانگنے کا اہتمام کرتا ہے،اسے کم سے کم چھ ماہ قید کی سزا اور کم سےکم 1لاکھ درہم کاجرمانہ کیاجائے گا۔

اسی طرح جو بھی لوگوں کو منظم بھیک مانگنے کے جرم میں استعمال کرنے کے لیے ملک میں لاتا ہے اس کو بھی یہی سزا اورجرمانہ عائد کیا جائے گا۔

کوئی بھی شخص جو منظم طور پر بھیک مانگنے میں شریک ہوتا ہے اسے زیادہ سے زیادہ تین ماہ قید اور5ہزار درہم جرمانہ یا ان دونوں میں سے ایک کی سزا دی جائے گی ۔اگر منظم بھیک مانگنے کا مرتکب شخص بھکاریوں کا سرپرست، ٹرسٹی،یا ان کی دیکھ بھال کا ذمہ دار ہو، یا اس پربراہ راست اختیار رکھتا ہو تواسے سنجیدہ اورسنگین جرم سمجھا جائے گا۔

یہ پوسٹ سرکاری استغاثہ کی جانب سے معاشرے کے ارکان میں قانونی ثقافت کو فروغ دینے اور ملک میں تازہ ترین قانون سازی کے بارے میں ان کی آگاہی کو فروغ دینے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہیں۔


ترجمہ۔تنویرملک