ابوظہبی، 24 مارچ، 2024 (وام) ۔۔ 2014 میں اپنے قیام کے بعد سے،مسلم عمائدین کونسل نے خود کو انسانی اقدارکو فروغ دینے،غلط فہمیوں کو دورکرنے، انتہا پسندانہ نظریات کا مقابلہ اورعالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے متحد کوششوں کے لیے وقف کررکھا ہے۔
الازہر کے امام احمد الطیب کی سربراہی میں کونسل مسلم ملک کے سرکردہ علماء، دانشمندوں اور معززین کے منتخب گروپ پرمشتمل ہے جو اپنی حکمت،اعتدال اور آزادی کے لیے معروف ہیں۔ یہ ارکان مسلم دنیا میں نمایاں اثر و رسوخ کے حامل ہیں جنہون نے اپنی کوششوں کو پوری انسانیت کے لیے وقف کررکھا ہے۔
ایک دہائی کے دوران مسلم عمائدین کونسل نے رواداری اورپرامن بقائے باہمی کے کلچر کو فروغ دینے بڑھانے میں متعدد کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ سب سے زیادہ قابل ذکر کامیابیوں میں مشرق و مغرب کے درمیان مکالمہ ہے،جن کا انعقاد الازہر، کیتھولک چرچ، ورلڈ کونسل آف چرچز اور برطانیہ میں چرچ آف کینٹربری کے تعاون سے کیا گیا۔
الازہر کے امام اور مسلم عمائدین کونسل کے چیئرمین احمد الطیب کی طرف سے شروع کیے گئے ڈائیلاگ کے ان راونڈزکا مغرب کے دانشوروں کی جانب سے پرتپاک استقبال کیا ہے جو فلورنس، پیرس، جنیوا، قاہرہ، ابوظہبی اور منامہ جیسے شہروں میں منعقد کیےگئے۔ ڈائیلاگ کے راونڈز کا مقصد تمام مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان آشنائی، ہم آہنگی اور بقائے باہمی کے ذریعے عالمی امن کو بڑھانے کے کونسل کے وژن کو پورا کرنا تھا۔
مشرق و مغرب کے درمیان ڈائیلاگ کے راونڈ کا اختتام الازہر کے امام احمد الطیب اور کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ فرانسس کی طرف سے انسانی بھائی چارےسے متعلق دستاویز پر دستخط پر ہوا۔ یہ دستاویز،جسے عصری انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے، ایسے بلند انسانی اصولوں پر مشتمل ہے جس کا مقصد تمام لوگوں کے درمیان اختلافات اور تنوع سے قطع نظر ڈائیلاگ، رواداری، بقائے باہمی اور انسانی بھائی چارے کی اقدار کو فروغ دینا ہے۔مزید برآں،دستاویز دنیابھرکے فیصلہ سازوں، مفکرین، فلسفیوں، مذہبی رہنماؤں، فنکاروں، میڈیا کے پیشہ ورافراد، اور تخلیق کاروں کو امن،انصاف،اچھائی، خوبصورتی،انسانی بھائی چارے اور بقائے باہمی کی اقدار کو دوبارہ دریافت کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
اس دستاویز کو عالمی سطح پرپذیرائی ملی، جس کی وجہ سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس پر دستخطوں کے دن کو انسانی بھائی چارے کا عالمی دن قرار دینے کا فیصلہ کیا۔ اسے دنیا بھر کے بڑے تعلیمی اداروں جیسے کہ الازہر، جارج ٹاؤن یونیورسٹی اور متحدہ عرب امارات اور مشرقی تیمور کے تعلیمی پروگراموں کے نصاب میں شامل کیا گیا ہے، جہاں اس دستاویز کو مئی 2022 میں قومی آئین قرار دینے کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔ ، اسے ویٹیکن، بحرین، مصر، لبنان، امریکہ اور دیگر جگہوں پربھی اختیارکیا گیا ہے۔
اسلامی کمیونٹیز کے اندر مکالمہ کونسل کے قیام کے بعد سے ہی اس کے وژن کا کلیدی جزو رہا ہے۔ الازہر کے امام ڈاکٹر احمد الطیب کی طرف سے بحرین ڈائیلاگ فورم کے دوران اسلامی امور اور مسلم اتحاد کو مضبوط بنانے اور اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے کہ مذہبی بھائی چارہ انسانی بھائی چارے کی بنیاد رکھتا ہے،کونسل کے سیکریٹریٹ جنرل کے وفد نے گزشتہ سال کے اوائل میں عراق کا دورہ کیا۔
نجف، کربلا، بغداد اور اربیل پر محیط اس دورے کے دوران عراقی عوام کے تمام طبقات کے ساتھ ایک سنجیدہ اور موثر بات چیت کا آغاز کیا گیا۔ اس کا مقصد تمام اسلامی فرقوں کے درمیان افہام و تفہیم کا ایک نیا مرحلہ شروع کرنا اور مسلم قوم کو درپیش سب سے اہم عصری چیلنجز، تفرقوں کو ختم کرنے کی حکمت عملیوں اور ایک ہی مذہب کے ماننے والوں کے درمیان تعاون اور افہام و تفہیم کی اہمیت پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔
اس ماہ کے آغاز میں، مسلم عمائدین کونسل کا 17 واں اجلاس ابوظہبی میں ہوا،جامعہ الازہر کے امام احمد الطیب ی زیر صدارت اجلاس میں دنیا بھر سے متعدد مذہبی رہنماؤں اور ممتاز دانشور شخصیات نے شرکت کی، اس اجلاس میں اسلامی مکالمے پر توجہ مرکوز کی گئی اور اس وقت مسلم قوم کو درپیش اہم چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مسلم قوم کے تمام عناصر کو متحد کرنے پر غور کیا گیا۔
ترجمہ۔تنویرملک