متحدہ عرب امارات کے پارلیمانی ڈویژن کی جانب سے عالمی تنازعات کے حل کے لیے بقائے باہمی اور رواداری کے کلچر کو مضبوط بنانے پر زور

ابوظہبی، 26 مارچ، 2024 (وام) ۔۔ وفاقی قومی کونسل (ایف این سی) پارلیمانی ڈویژن گروپ کے سربراہ ڈاکٹر علی راشد النعیمی نے بین الپارلیمانی یونین (آئی پی یو) میں پارلیمانی سفارت کاری کو فروغ دینے کی اہمیت کو اجاگر کیا جو عالمی تنازعات کو حل کرنے میں کلیدی حیثیت کے حامل بقائے باہمی اور رواداری کے کلچر کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ بہت سے ممالک سمجھتے ہیں کہ امن محض حتمی منزل نہیں ، بلکہ یہ مستقبل کی طرف سفر ہے۔ ہمہ جہت عالمگیریت کے زمانے میں، بقائے باہمی کے فریم ورک کے طور پرامن اپنے روایتی کردار سے آگے نکل گیا ہے۔ یہ زندہ رہنے، رواداری اور متنوع ثقافتوں اور عقائد کے درمیان سماجی مساوات اور باہمی افہام و تفہیم کا سنگ بنیاد بن گیا ہے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار جنیوا میں بین الپارلیمانی یونین (آئی پی یو) کی 148ویں اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔ 148ویں آئی پی یو اسمبلی جنیوا میں 23 سے 27 مارچ 2024 تک منعقد ہو رہی ہے۔ پارلیمانی سفارت کاری: امن اور افہام و تفہیم کے لیے پل کی تشکیل کے عنوان سے ہونے والی اسمبلی میں دنیا بھر سے سینکڑوں پارلیمنٹیرینز میں شرکت کر رہے ہیں۔

النعیمی نے کہاکہ پارلیمنٹیرین کی حیثیت سے، اپنے شہریوں کی نمائندگی کرتے ہوئے، ہمیں پارلیمانی ڈپلومیسی کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کا کام سونپا گیا ہے۔ اس کے ذریعے، ہم بقائے باہمی اور رواداری کی ثقافت کو فروغ اور مضبوط ٓ کرسکتے ہیں،جو بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے ایک اہم گیٹ وے فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے متنوع ایگزیکٹو باڈیز کے ساتھ مل کر قومی پارلیمانی کوششوں کے لیے ایک راستہ بنائیں، ایسے قوانین وضع کریں اور نافذ کریں جو امن کی وکالت اور ہم آہنگی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی قانون سازی کو ہمارے ممالک کے اندر غربت، امتیازی سلوک اور عدم مساوات جیسے مسائل سے نمٹنا چاہیے۔ مزید برآں، ہمیں باہمی تعاون پر مبنی بین الاقوامی پارلیمانی کوششوں کے لیے ایک فریم ورک کا مسودہ تیار کرنا چاہیے جس میں سول سوسائٹی، تعلیمی، میڈیا، اور مذہبی اور ثقافتی تنظیمیں شامل ہوں۔ اس کا مقصد تعلیمی رسائی اور بیداری کو وسیع کرنا، مکالمے اور رواداری کے کلچر کو فروغ دینا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ تمام افراد انسانی وقار کو برقرار رکھتے ہوئے فکری، مذہبی اور ثقافتی تکثیریت کی قدر کرتے ہوئے ایک ساتھ رہ سکیں۔

پولرائزیشن کے بڑھتے ہوئے رجحان اور سیاسی، اقتصادی اور عسکری سمیت ہر قسم کے بین الاقوامی تنازعات کے پیش نظر افہام و تفہیم اور بقائے باہمی کے رابطے اور تعلقات کیسے استوار کیے جائیں، اس چیلنج کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کی نشاندہی تاریخ: جواب بقائے باہمی کے لیے مکالمہ، امن کے لیے رواداری، اور انسانی بقا اور ترقی کی پائیداری کے لیے امن کے تین الفاظ میں کی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ثقافتی، تہذیبی یا مذہبی فرق یا تنوع انسانی تہذیب کا ایک ستون ہے۔


ترجمہ۔تنویرملک