گلوبل انٹرپرینیورشپ مانیٹر 2024 رپورٹ میں متحدہ عرب امارات دنیا میں پہلے نمبر پر ہے

ابوظبی، 28 مارچ، 2024 (وام) ۔۔ سال 2023 اور2024 کے لیے گلوبل انٹرپرینیورشپ مانیٹر رپورٹ میں متحدہ عرب امارات کو مسلسل تیسرے سال عالمی سطح پر پہلے نمبر پر رکھا گیا ہے۔ یہ کامیابی اہم ہے کیونکہ متحدہ عرب امارات نے 7.7 کی شرح ریکارڈ کی جو کہ رپورٹ کی تاریخ میں ایک ریکارڈ تعداد ہے۔

متحدہ عرب امارات کو دنیا بھر میں نئے کاروباری منصوبے شروع کرنے اور چلانے کے لیے بہترین جگہ کے طور پر تسلیم کیا گیا جس نے بہت سی ترقی یافتہ معیشتوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ متحدہ عرب امارات نے عالمی سطح پر 13 میں سے 12 اشاریوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا جس میں کاروباری منصوبوں کے لیے فنڈنگ، فنانسنگ تک رسائی، مارکیٹ میں داخلے میں آسانی، انفراسٹرکچر، تحقیق اور ترقی، علم کی منتقلی، حکومتی پروگرام، معاون پالیسیاں، ٹیکسیشن، تعلیم اور ثقافتی معیارات جیسے شعبے شامل ہیں۔ ملک فزیکل انفراسٹرکچر کے اشاریے میں بھی عالمی سطح پر تیسرے نمبر پر ہے۔

وزیر اقتصادیات عبد اللہ بن طوق المری نے متحدہ عرب امارات کی کامیابی پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک کی جانب سے کاروبار پر توجہ دینے اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے جدت اور نئے اقتصادی تصورات پر مبنی مسابقتی علمی معیشت کی تعمیر کے لیے تعاون سے منسوب کیا۔

انہوں نے کہاکہ آج کا نتیجہ متحدہ عر ب امارات کی طرف سے شروع کی گئی پالیسیوں کے انضمام اور مضبوطی کی عکاسی کرتا ہے تاکہ انٹرپرینیورشپ کے لیے پرورش کا ماحول پیدا کیا جا سکے اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اور سٹارٹ اپس کی ترقی کو تیز کرنے کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔

انہوں نے نوٹ کیا ہے کہ یہ نتیجہ متحدہ عرب امارات کے وژن 2031 کے اہداف کے مطابق ہے اور یہ نئی معیشت کے مختلف شعبوں میں منصوبوں اور سرگرمیوں کو ترقی دینے میں انٹرپرینیورشپ ماڈل کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، قابل تجدید توانائی، خلائی، مالیاتی ٹیکنالوجی اور دیگر کیلئےاگلی دہائی تک نئی معیشت کا عالمی مرکز بن جائے گا۔

انہوں نے "انٹرپرینیورشپ ہب" اور نفیس پروگرام جیسی پالیسیوں کے ذریعے کاروباری ماحول کو تبدیل کرنے میں ملک کی کوششوں پر روشنی ڈالی اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی اور جدت کو فروغ دینے کے لیے مراعات اور مدد فراہم کی۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ متحدہ عرب امارات نے اپنے کاروباری ماحول کی مسابقت کو بڑھانے کے لیے اہم سرمایہ کاری کی ہے جس سے ابتدائی مراحل میں کاروباری سرگرمیوں کی سطح کو دوگنا کیا گیا ہے۔ مزید برآں اس نے خواتین کاروباریوں کے لیے مثالی مدد فراہم کی، ان کے لیے ایک کاروباری اور حوصلہ افزا ماحول پیدا کیا، وسائل اور صلاحیتوں تک ان کی رسائی کو بڑھایا، جس سے ملک کو خواتین کی صنعت کاروں کی حمایت میں عالمی سطح پر 5 اعلیٰ معیشتوں میں شامل کیا گیا۔

رپورٹ میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ متحدہ عرب امارات نے اسکولوں میں انٹرپرینیورشپ ایجوکیشن انڈیکیٹر میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور طلباء میں خطرے کی تشخیص جیسی حوصلہ افزا مہارتوں میں۔ ملک اس پہلو میں 49 ممالک میں سے ٹاپ 5 میں شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارت دوسرے، سعودی عرب تیسرے، لتھوانیا چوتھے، قطر پانچویں، ایسٹونیا چھٹے، ہالینڈ ساتویں، جنوبی کوریا آٹھویں، سوئٹزرلینڈ نویں اور چین دسویں نمبر پر ہے۔ گلوبل انٹرپرینیورشپ مانیٹر کو ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں جیسے کہ ورلڈ بینک، آئی ایم ایف ، آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ (او ای سی ڈی)، عالمی دانشوروں کے لیے انٹرپرینیورشپ میں سب سے اہم عالمی حوالوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

ترجمہ؛ ریاض خان