شارجہ، 5 اپریل، 2024 (وام) ۔۔ شارجہ میں انوائرمنٹ اینڈ پروٹیکٹڈ ایریاز اتھارٹی (ای پی اے اے) نے الحفایہ ماؤنٹین کنزرویشن مرکز میں عربین طہر کی پہلی پیدائش کا اعلان کیا ہے۔ یہ نئی پیدائش مرکز کی نئی توسیع میں ہوئی جس کا افتتاح مارچ کے آغاز میں سپریم کونسل کے رکن اور شارجہ کے حکمران ڈاکٹر شیخ سلطان بن محمد القاسمی نے کیا تھا۔
اس پیدائش کو عرب طہر منصوبےکی بہت سی کامیابیوں میں سے پہلی کامیابی سمجھا جاتا ہے جو مرکز کی جانب سے اس کی نئی توسیع میں نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد اتھارٹی کے وژن اور اہداف کے حصول کو بڑھانا ہے جس میں نایاب جانوروں ،پرندوں اور عرب طہر سمیت معدومیت کے خطرے سے دوچار انواع کا تحفظ شامل ہے۔
مرکز نے اس نسل کو ہجر کے پہاڑوں میں اس کی افزائش کے لیے ایک مثالی قدرتی ماحول فراہم کر کے دوبارہ متعارف کروانے میں کامیابی حاصل کی ہے اور اسے 30 سے زائد مختلف اقسام کے پہاڑی جنگلی حیات کا مسکن بنا دیا ہے۔
شارجہ میں انوائرمنٹ اینڈ پروٹیکٹڈ ایریاز اتھارٹی کی چیئرپرسن حنا سیف السویدی نے شارجہ کے مشرقی علاقے میں پہاڑی ماحول کے تحفظ کے شعبے میں مرکز میں ٹیم کی کوششوں کی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ اس کام کا مقصد شارجہ کے مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں اپنی اہم پوزیشن کو بڑھانے اور قدرتی زندگی کے حوالے سے اس کی ماحولیاتی حکمت عملیوں کی حمایت اور خطرے سے دوچار انواع کی افزائش کی حوصلہ افزائی کے منصوبوں کو قائم کرنا ہے۔
واضح رہے کہ عرب طہر روزمرہ کا جانور ہے جو چھوٹے گروہوں میں رہتا ہے۔ اس کی عمر 8 سے 16 سال اور وزن 15 سے 40 کلو گرام کے درمیان ہوتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر پانی کے مستقل ذرائع کے قریب ناہموار پہاڑی ڈھلوانوں میں رہتے ہیں اور تالابوں میں تیر سکتے ہیں کیونکہ یہ ان کی خوراک کا انحصار پانی، گھاس، چھوٹی جھاڑیوں، پتوں اور جنگلی پھلوں پر ہوتا ہے۔
ترجمہ: ریاض خان