زیر تربیت اماراتی سفارتکاروں کادنیا کے مختلف ممالک کا دورہ

ابوظہبی، 7 اپریل 2024 (وام) ۔۔ انور قرقاش ڈپلومیٹک اکیڈمی(اے جی ڈی اے) کے زیرتربیت اماراتی سفارتکاروں نے اٹلی،سوئٹزرلینڈ،امریکہ،بھارت اورایتھوپیا کا دو ہفتوں پر مشتمل تعلیمی دورہ کیا ہے۔

یہ دورہ ان کی عملی تربیت کا لازمی حصہ تھا،جس سے انہیں سفارتی امورکو منفرد اور جامع طور سے سیکھنے کا موقع ملے۔

انور قرقاش ڈپلومیٹک اکیڈمی کے اس سالانہ دورہ سے طلباء کو بین الاقوامی ترقی سے وابستہ مختلف عوام اور تصورات کے ساتھ ساتھ دوطرفہ اور کثیرالطرفہ سفارت کاری اور خارجہ پالیسی کی پیچیدگیوں سے آگاہی کے ساتھ سفارت کاری کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔

بین الاقوامی دوروں کی اہمیت کے حوالے سے اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل نکولے ملاڈینوف نے کہا کہ یہ دورے ہمارے مشن کے مطابق ہیں جو سفارت کاروں کی نئی نسل کو عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے قابل بناتے ہیں۔ روم، جنیوا، واشنگٹن، نئی دہلی اور ادیس ابابا جیسے بڑے سفارتی مراکز کے دوروں کے ذریعے طلباء کو گورننس اور خارجہ پالیسی کے حقائق کی مکمل سمجھ بوجھ دی جاتی ہے۔ مزید برآں، یہ دورے دوستی کے جذبات کو پروان چڑھاتے ہیں اور سفارتی نیٹ ورکنگ کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

اے جی ڈی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹرمحمد ابراہیم الظاہری نے کہا کہ سفارت کاری میں مختلف نقطہ نظر کے وسیع مشاہدےاور تدریسی مواقع کے لیےطلباء دوروں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ دنیا کی ثقافت کے حیرت انگیز تنوع کا پہلا تجربہ ہو سکتا ہے، اس لیے ہمارے طلباء ان شہروں میں حقیقی زندگی کے منفرد تجربات کے ذریعے جدید سفارتی امور کی پیچیدگیوں کو پہلے سے ہی سیکھ جاتے ہیں۔

دورے کے دوران، طلباء نے مختلف فنکشنز میں حصہ لیا، جن میں میٹنگز، سماجی تقریبات اور گائیڈڈ ٹورز شامل تھے، جس سے متحدہ عرب امارات کی نمائندگی اور خارجہ پالیسی کی سرگرمیوں میں شامل ہونے کے بارے میں ان کے علم اور سمجھ میں اضافہ ہوا۔ دورے کے شیڈول میں سرکاری معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں کی تقریبات میں شرکت سے عملی طور پر سفارت کاری کو تجربہ فراہم کیاگیا۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں طلباء نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ریسرچ انوویشن سینٹر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے وزارت خارجہ کے جواہر لال نہرو بھون میں مباحثوں میں حصہ لیا۔ عدیس ابابا میں، افریقی یونین کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ متحدہ عرب امارات کے سفیر کی طرف سے عشائیہ دیا گیا،اس کے علاوہ طلباء نے انسٹی ٹیوٹ فار فارن افیئرز میں ایتھوپیا کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات اور اہم علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

روم میں، طلباء نے لوئس یونیورسٹی میں اے آئی اور ڈپلومیسی کے حوالے سے ایک کورس کیا اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے حکام سے ملاقات کی۔ واشنگٹن میں سفارتی طلباء نے نائب معاون وزیر خارجہ ڈینیل بینائم سے ملاقات اورامریکہ -امارات بزنس کونسل کے ساتھ بات چیت میں شامل ہوئے۔

وفد میں شامل طالبہ مریم المنصوری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ واقعی ہر ملک کی سفارتی پالیسی اور ان کے سفارتی طریقوں کی باریکیوں کو سمجھنے کے لیے اہمیت کا حامہ تھا۔اس سے میرے میرے عالمی نقطہ نظر میں وسعت آئی ہے۔

طالب علم حمدان النقبی نے کا کہنا تھا کہ یہ قابل ذکر ہے کہ صرف چند ہفتوں کا سفارتی تجربہ کس طرح کسی کے نقطہ نظر کو وسیع کر سکتا ہے۔ اس دورے نے مجھے تنوع کو اپنانے کی اہمیت سکھائی ہے اور مجھے اپنی باہم جڑی ہوئی دنیا کی پیچیدگیوں کوسمجھنے کا موقع فراہم کیا۔

ترجمہ۔تنویرملک