یونیسیف نے غزہ میں بچوں کی سنگین صورتحال کے خطرے سے خبردار کردیا

غزہ، 13 اپریل، 2024 (وام) ۔۔ یونیسیف کی کمیونیکیشن اسپیشلسٹ ٹیس انگرام نے غزہ کے بچوں کی جسمانی صحت، نشوونما اورذہنی تندرستی پرجنگ کے طویل المدت اثرات سے خبردارکیا ہے۔

اس وقت جنوبی غزہ کے شہررفح میں موجود انگرام کا کہنا ہے کہ غزہ کے بچے بغیر کسی محفوظ پناہ گاہ کے جاری لڑائی اورپے در پے فضائی حملوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

انہوں نے اس بات پرزوردیا کہ بھرپورامداد کی فراہمی سے غزہ میں قحط سے بچنے کا موقع اب بھی موجود ہے،لیکن انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی رسائی،خاص طور پرشمال تک محدود ہے۔

ٹیس انگرام نے خوداس چیزکا مشاہدہ اس وقت کیا جب وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کار میں اس علاقے میں امداد پہنچانے کی اجازت کاانتظارکررہی تھی کہ فائرنگ شروع ہوگئی۔

انگرام نے مزید کہا کہ غزہ کی صورت حال افسوسناک ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خوراک کی پیداوار میں رکاوٹ ہواوراس علاقے تک امداد کی رسائی پر پابندیوں کی وجہ سے غذائی قلت پیدا ہوجائے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں بچے مر رہے ہیں،کم از کم 23 بچے كمال عدوان ہسپتال میں زندگیوں سے ہاتھ دھوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خطے کی صورتحال کے پیش نظر کراسنگ کھولنے کی ضرورت ہے۔ اول، عمومی طور پر امداد کے حجم میں اضافہ کرنا ہوگا اور دوم، شمال تک براہ راست رسائی حاصل کرناہوگا۔تاکہ بچوں اورخاندانوں کو خوراک اورغذائیت تیزی سے اور وسیع پیمانے پر فراہم کی جا سکے۔

انگرام نے بتایاکہ غزہ کے جنوبی حصے کو بھی قحط کا خطرہ ہے۔ تاہم، ان کا خیال ہے کہ اگر امداد کو پورے علاقے میں تیزی سے داخل ہونے دیا جائے تو اس طرح کے قحط کو روکنے کا امکان ہے۔ پٹی کے وسطی اور جنوبی حصوں میں قحط سے بچنے کے لیے ابھی بھی وقت موجود ہے۔


ترجمہ۔تنویرملک