مسقط، 20 اپریل، 2024 (وام) ۔۔ عمان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان برادرانہ تعلقات اور اسٹریٹجک شراکت داری قائم ہے ،سلطان ہیثم بن طارق اور صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی دانشمندانہ قیادت کی معاونت اورذاتی توجہ کی وجہ سے دوطرفہ تعلقات میں قابل ذکر پیش رفت جاری ہے۔
دونوں ممالک کے تعلقات کے حوالے سے عمان نیوز ایجنسی (او این اے) نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت دوطرفہ تعلقات کو وسیع ترافق کی طرف ایسے انداز میں بلندیوں پر پہنچانے کی خواہاں ہیں جو دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں ہو اورجس سے خطے اور دنیا بھر میں سلامتی اور استحکام کو برقراررکھا جاسکے۔
دونوں ممالک کے درمیان منفرد تعلقات اقتصادی اور تجارتی شراکت داری پر مبنی ہیں۔ یہ تعلقات مرحوم سلطان قابوس بن سعید اور شیخ زاید بن سلطان النہیان کے درمیان پہلی ملاقات کے بعد سے ہی منفرد حیثیت اختیار کرگئے تھے۔ دونوں ممالک نے اپنے عوام کےمسائل کے حوالے سے ایک ہی نقطہ نظر کا اشتراک کیا۔ یہ تعلقات گزشتہ پانچ دہائیوں سے بھائی چارے اور ہم آہنگی کے حقیقی نمائندگی کررہے ہیں۔
سلطان ہیثم بن طارق کا پیر22اپریل کو متحدہ عرب امارات کا سرکاری دورہ اور عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کے ساتھ ملاقات انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اس دورے کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینا اور انہیں وسیع تر افق کی طرف آگے بڑھانا ہے۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنما تازہ ترین علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے۔
عمان اور متحدہ عرب امارات مختلف شعبوں میں باہمی دلچسپی کے اصول پر اپنے درمیان موثر تعاون کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہیں۔
1991 میں دونوں ممالک کے درمیان قائم ہونے والی مشترکہ سپریم کمیٹی اقتصادی، تجارتی، ثقافتی اور تعلیمی شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کوشاں رہی ہے۔ یہ عمانی اور اماراتی عوام کے موجودہ اور مستقبل کے فوائد کے لیے مشترکہ سرمایہ کاری کے مواقع اور شعبوں کو فروغ دینے کے علاوہ بجلی اور مواصلاتی نیٹ ورکس ، زمینی نقل و حمل کی خدمات اور مختلف سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان نقل و حمل کے طریقہ کار کو مربوط کرنے کے لیے بھی کام کررہی ہے۔
متحدہ عرب امارات میں عمان کے سفیر سید ڈاکٹر احمد بن ہلال البوسیدی نے کہا کہ عزت مآب کا یو اے ای کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون، انضمام اور شراکت داری کے عمل کو تیز اور ترقی دینے میں معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کی قیادت کے گزشتہ باہمی کے دوران مختلف شعبوں میں 16 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔
انہوں نے او این اے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ دونوں ممالک کی قیادت کی طرف سے دی جانے والی توجہ کی بدولت عمان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اقتصادی تعلقات می قابل ذکر ترقی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ متحدہ عرب امارات میں عمان کی جانب سے انشورنس، مینوفیکچرنگ انڈسٹریز، رئیل اسٹیٹ، پیشہ ورانہ اور تکنیکی سرگرمیاں، ہول سیل اور ریٹیل تجارت، معلومات اور مواصلات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی گئی ہے جبکہ عمان میں سب سے اہم اماراتی سرمایہ کاری کی فہرست میں صنعتی، مالیاتی، بینکنگ، سیاحت، بجلی کی پیداوار، رئیل اسٹیٹ کی سرگرمیاں، خوردہ تجارت کے شعبے اور تعمیرات شامل ہیں۔
سید احمد نے کہا کہ متحدہ عرب امارات عمان کے اہم ترین تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے تبادلے کے حجم میں مسلسل اضافہ دوطرفہ ترقی یافتہ اقتصادی شراکت داری اور اس کے منافع بخش امکانات کی عکاسی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2023 کے دوران متحدہ عرب امارات کے لیے عمانی برآمدات 1 بلین عمانی ریال سے تجاوز کر گئی ہیں، جو 2022 کے مقابلے میں 20.4 فیصد زیادہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں عمان کا سفارت خانہ متعلقہ سرکاری اداروں، چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور یو اے ای میں سرمایہ کاروں کے ساتھ مسلسل رابطوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سرمایہ کاری کے تعاون کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے۔
قومی مرکز برائے شماریات و معلومات (این سی ایس آئی) کے کے مطابق عمان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان 2023 کے آخر تک تجارتی حجم 2022 کے آخر تک 5.571 بلین عمانی ریال کے مقابلے میں تقریباً 5.439 بلین عمانی ریال تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے آخر تک متحدہ عرب امارات کو برآمد کی گئی عمانی مصنوعات کی مالیت 291.7 ملین عمانی ریال سے زیادہ تھی،، متحدہ عرب امارات سے درآمد شدہ مصنوعات کی مالیت837.7 ملین عمانی ریال سے زیادہ رہی جس میں مشینری، آلات، برقی آلات اور دیگر مصنوعات شامل تھیں۔
اعداد و شمار کے مطابق متحدہ عرب امارات بیرون ملک براہ راست عمانی سرمایہ کاری کو راغب کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے، جس کی مالیت 2022 کے آخر تک 960 ملین عمانی ریال تھی، جبکہ گزشتہ سال کے آخر تک عمان میں کل براہ راست اماراتی سرمایہ کاری تقریباً 958 ملین عمانی ریال تھی۔
عمان اماراتی تجارت کے لیے سب سے اہم منڈیوں میں سے ایک ہے۔ یہ عرب دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے اور متحدہ عرب امارات کے تجارتی شراکت داروں کی فہرست میں عالمی سطح پر 10 ویں نمبر پر اور امارات کی کل تجارت کا 20 فیصد ہے۔
عمان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے چیئرمین فیصل عبداللہ الرواس کا کہنا ہے کہ عمان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان برادرانہ تعلقات اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں مربوط شراکت داری کے لیے ٹھوس بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
عمان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ستمبر 2022 میں "عمان اینڈ اتحاد ریل" ممشترکہ کمنی کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جس کے تحت 3 ارب ڈالر کی پراجیکٹ سرمایہ کاری کے ساتھ صحار پورٹ کو متحدہ عرب امارات کے قومی ریلوے نیٹ ورک سے منسلک کیا جائے گا ۔
عمان اور امارات کی بندرگاہیں مختلف مصنوعات اور برآمدات کی نقل و حمل کے لیے براہ راست لائنوں کے ذریعے منسلک ہیں۔ اس سے دونوں ممالک کے لیے باہمی اقتصادی فوائد حاصل کرنے میں مدد ملی ہے۔ سلطنت عمان اور متحدہ عرب امارات کی بندرگاہوں کو ایشیا، یورپ اور افریقہ کے براعظموں کے درمیان ایک گیٹ وے اور ایک بڑا لنک بھی سمجھا جاتا ہے۔
Duqm Dry Dock نے 2023 میں متحدہ عرب امارات کی مارکیٹ سے 350 سے زیادہ پروجیکٹس حاصل کیے، جس میں 2022 کے مقابلے میں 43 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سیاحت کے شعبے میں، دونوں ممالک کے سیاحتی مقامات دونوں ممالک کے بڑی تعداد میں سیاحوں کو اپنی جانب راغب کرتے ہیں۔سیاحتی شعبے میں مشترکہ سرمایہ کاری بھی بھی اس شعبے کو فروغ دے رہی ہے۔
ثقافتی شعبے کے حوالے سے دونوں ممالک نے مشترکہ ثقافتی تقریبات اور سرگرمیوں کے انعقاد سے اس اہم شعبے میں قریبی اور مسلسل تعاون کو مضبوط کیا ہے۔ سلطنت عمان نے ایکسپو دبئی 2020 اور دیگر قومی تقریبات میں شرکت کی جو برادرانہ تعلقات اور مشترکہ تاریخی رشتوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
عمان کی جانب سے اس کی وزارت ثقافت، کھیل و نوجوانان اور وزارت اطلاعات ہر سال ابوظہبی اور شارجہ کے کتاب میلوں جبکہ متحدہ عرب امارات کے مختلف ثقافتی اور میڈیا ادارے ہر سال مسقط انٹرنیشنل بک فیئرز میں شرکت کرتے ہیں۔