واشنگٹن، 21 اپریل، 2024 (وام) - متحدہ عرب امارات نے واشنگٹن میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک گروپ (ڈبلیو بی جی) کے موسم بہار2024 کے ختم ہونے والے اجلاسوں میں شرکت کی۔ اہم وزارتی اجلاس اور تقریبات 17 سے 19 اپریل تک جبکہ 15 اور 20 اپریل کے درمیان دیگر سائیڈ لائن تقریبات اور سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا۔
وزیر مملکت برائے مالیاتی امور محمد بن ہادی الحسینی کی زیر قیادت متحدہ عرب امارات کے وفد میں مرکزی بینک میں اسسٹنٹ گورنر برائے مانیٹری پالیسی و مالیاتی استحکام ابراہیم الزعابی، مرکزی بینک میں بینکنگ اور انشورنس کی نگرانی کے اسسٹنٹ گورنر احمد القمزی، وزارت خزانہ میں قائم مقام اسسٹنٹ انڈر سیکرٹری برائے بین الاقوامی مالیاتی تعلقات علی عبداللہ شرفی، وزیر مملکت مالیات کے دفتر کے ڈائریکٹر حمد عیسیٰ الزعابی، وزارت خزانہ میں بین الاقوامی مالیاتی تعلقات اور تنظیموں کی ڈائریکٹر ثریا حامد الہاشمی اور وزارت خزانہ اور مرکزی بینک کے متعدد ماہرین بھی موجود تھے۔
الحسینی نے 2024 کے موسم بہار کے اجلاسوں کے دوران زیر بحث موضوعات کی اہمیت اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے عالمی سطح پر تیز رفتار ترقی کے لیے موثر اور پائیدار طریقوں کو تیز کرنے کے لیے مزید عالمی تعاون کے لیے متحدہ عرب امارات کے عزم کو اجاگر کیا۔
الحسینی نے پاکستان، ایتھوپیا، پولینڈ، برطانیہ اور امریکہ کے وزرائے خزانہ کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کیں، جس کے دوران عالمی چیلنجوں کے حل کے لیے مشترکہ تعاون اور بین الاقوامی تعاون کو وسعت دینے پرتبادلہ خیال کیا گیا۔
الزعابی نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور ورلڈ بینک کے موسم بہار 2024 کے اجلاس عالمی اقتصادی ترقی کے امکانات پر رکن ممالک کے درمیان بات چیت کو فروغ دینے اور نقطہ نظر کے تبادلے کے لیے ایک قابل قدر پلیٹ فارم تھے۔
ان ملاقاتوں کا مقصد بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا، عالمی مالیاتی نظام کو مزید مستحکم کرنا، پائیدار ترقی کے لیے کوششوں میں پیشرفت اور موثر حل وضع کرنا تھا۔ مزید برآں، اجلاسوں میں رکن ممالک کے درمیان معلومات کے تبادلے اور صلاحیت سازی کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ویژن سے اثر تک: ورلڈ بینک گروپ ایوولوشن کا نفاذ کے عنوان سے ڈبلیو بی جی-آئی ایم ایف ڈویلپمنٹ کمیٹی کے 109ویں مشترکہ مکمل اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے محمد الحسینی نے اقتصادی ترقی کے چیلنجوں کے لیے تیز اور تعمیری کوششوں کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے گزشتہ چار سالوں کے معاشی اتار چڑھاو کے باوجود بڑی معیشتوں کی بحالی کے آثار کے بارے میں امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے حوالے سے معاشی آوٹ لک پریشان کن اور پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) کے 2030 تک حصول کے امکانات مدھم ہیں۔ جب کہ کمزور ترقی اور بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ کی وجہ سے بہت سے ممالک میں مالیاتی گنجائش تیزی سے محدود ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چیلنجز غربت، موسمیاتی تبدیلی، تنازعات مسائل کو بڑھارہے ہیں۔
الحسینی نے غربت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک نئے ایکشن پلان کی وضاحت اور عالمی بینک کی آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مربوط بین الاقوامی کوششوں پر زور دیا تاکہ منصوبوں کے لیے مالیاتی ضروریات کو تیزی سے پورا کیا جا سکے۔
آئی ایم ایف سی کے مکمل سیشن کے دوران، شرکا نے آئی ایم ایف کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے 'ری بلڈ، ریباؤنڈ، رینیو' کے عنوان سے مرتب کردہ عالمی پالیسی ایجنڈے پر غور کیا۔ اپنے کلیدی خطاب میں، محمد الحسینی نے کہا کہ عالمی بحالی ناہموار ہے۔ انہوں نے کمزور اور تنازعات سے متاثرہ ممالک کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے سود کی ادائیگیوں میں اضافے، بفرز کی کمیاور درمیانی مدت کے نمو کے امکانات خاص طور پر ابھرتی ہوئی مارکیٹوں اور ترقی پذیر معیشتوں کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر یقینی عالمی صورتحال میں خوراک اور توانائی کی حفاظت کو یقینی بنانے، تجارت کو مضبوط کرنے، قرضوں میں کمی کےلیے معیشتوں کی مدد کرنے اور موسمیاتی تبدیلی کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے موسمیاتی موافقت کے لیے مالی اعانت فراہم کرنے کے لیے کثیر جہتی تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کوپ28 میں گلوبل کلائمیٹ ایجنڈے میں نمایاں پیش فت کے حوالے سے متحدہ عرب امارات کی کامیابیوں سے آگاہ کیا۔
متحدہ عرب امارات کے وفد نے ایم ای این اے پی کے اجلاس میں شرکت کی، جس میں مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے وزرائے خزانہ، مرکزی بینک کے گورنرز اور علاقائی مالیاتی اداروں کے سربراہان شریک ہوئے، اجلاس میں جغرافیائی سیاسی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے میکرو اکنامک استحکام اور قرضوں کے استحکام کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ متحدہ عرب امارات کے وفد نے سال 2024 کے لیے برازیل کی صدارت میں منعقد ہونے والے جی20 وزرائے خزانہ اور مرکزی بینک کے گورنرز کے دوسرے اجلاس میں بھی شرکت کی، جس کے دوران شرکاء نے منصفانہ منتقلی اور آب و ہوا کے اہداف کے لیے مالیات کا از سر نو تعین کرنے پر ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور ورلڈ بینک گروپ کے 2024 کے موسم بہار کے اجلاسوں میں مرکزی بینکرز، وزرائے خزانہ و ترقیات، اراکین پارلیمنٹ، نجی شعبے کے ایگزیکٹوز، سول سوسائٹی کی تنظیموں کے نمائندوں اور ماہرین تعلیم نے عالمی اقتصادی صورتحال، غربت کا خاتمہ، اقتصادی ترقی، اور موثر امداد پر تبادلہ خیال کیا۔