سانتیاگو، چلی، 25 اپریل، 2024 (وام) --متحدہ عرب امارات اور جمہوریہ چلی نے آج ایک جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے (سی ای پی اے) پر دستخط کیے، جو دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
وزیر مملکت برائے خارجہ تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی اور چلی کے وزیر خارجہ البرٹو وان کلاورین نے ایک مشترکہ بیان پر دستخط کیے جس میں مذاکرات کے کامیاب اختتام اور دونوں فریقوں کے درمیان سی ای پی اے کی حتمی شقوں تک پہنچنے کا اعلان کیا گیا۔
یہ معاہدہ متحدہ عرب امارات کے سیپا پروگرام میں ایک اہم کامیابی ہے، جس کا مقصد 2031 تک ملک کی غیر تیل غیر ملکی تجارت کی مالیت کو 4 ٹریلین درہم تک بڑھانا ہے۔
متحدہ عرب امارات اور چلی کے درمیان غیر تیل کی تجارت 2023 میں 305.1 ملین امریکی ڈالر تھی، جو 2019 کے بعد سے 23.6 فیصد کی قابل ذکر ترقی کی نمائندگی کرتی ہے۔
ڈاکٹر الزیودی نے مذاکرات کے کامیاب اختتام کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس معاہدے سے متحدہ عرب امارات کی کمپنیوں اور برآمد کنندگان کو چلی اور لاطینی امریکہ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشتوں تک رسائی حاصل ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ چلی متحدہ عرب امارات کی جانب سے نافذ کیے جانے والے سیپا پروگرام میں ایک مثالی شراکت دار ہے۔ یہ شراکت داری اشیاء اور خدمات کی تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون میں پائیدار اور باہمی طور پر فائدہ مند ترقی کو فروغ دے گی۔
انہوں نے مزید کہاکہ، "معاہدے پر دستخط کے ساتھ، دونوں ممالک کے نجی شعبے جنوبی امریکہ اور مشرق وسطی کے درمیان اہم نئے تجارتی روابط سے فائدہ اٹھائیں گے۔ یہ دونوں خطے 800 ملین سے زیادہ آبادی کے ساتھ متحرک اور بڑھتی ہوئی مارکیٹوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔"
البرٹو وان کلیورن نے تبصرہ کیاکہ، "ہم سیپا مذاکرات کے اختتام کو متحدہ عرب امارات کے ساتھ ہمارے ممتاز تعلقات میں ایک قابل ذکر کامیابی کے طور پر دیکھتے ہیں، جو کھلی اور قواعد پر مبنی تجارت کے لئے ایک نقطہ نظر کا اشتراک کرتا ہے۔"
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ہماری دوطرفہ تجارت میں مزید تیزی لائے گا جبکہ چلی اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مزید خوشحال، جدید اور متحرک اقتصادی تعلقات کے لئے لامحدود نئے مواقع پیدا کرے گا۔
ڈاکٹر الزیودی کے وسطی اور جنوبی امریکہ کے دورے میں، ایک اعلی سطحی وفد کے ساتھ، کولمبیا اور کوسٹا ریکا دونوں کے ساتھ سیپا معاہدوں پر دستخط بھی ہوئے۔