ابوظہبی میں آٹزم ریسرچ اپ ڈیٹس پر بین الاقوامی کانفرنس کا 12واں ایڈیشن شروع ہو گیا

ابوظہبی، 27 اپریل، 2024 (وام) ۔۔ زاید ہائر آرگنائزیشن فار پیپل آف ڈیٹرمینیشن کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئرمین عزت مآب شیخ خالد بن زاید النہیان کی سرپرستی میں آٹزم ریسرچ اپڈیٹس پر بین الاقوامی کانفرنس کا 12 ویں ایڈیشن “چیلنجز اینڈ سلیوشنز ”کے عنوان سے آج ابوظہبی نیشنل ایگزیبیشن سنٹر میں شروع ہوگیا۔

کانفرنس کا اہتمام ادنوک، ابوظہبی ہیلتھ سروسز کمپنی (ایس ای ایچ اے) اور لوٹس ہولیسٹک ابوظہبی کے اشتراک اور تعاون سے کیا گیا ہے جو 30 اپریل تک جاری رہے گی۔

کانفرنس کا مقصد آٹزم ڈس آرڈر کے بارے میں بیداری پیدا کرنا اور کانفرنس کے دوران پیش کی جانے والی عملی تحقیق اور مطالعات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا ہے۔

کانفرنس میں آٹزم کے حوالے سے ہونے والی تحقیق اور ان پر تبادلہ خیال کے لیے تقریباً 20 سیشنز، 41 ورکشاپس، اور 91 لیکچرز منعقد ہون گے جن میں مختلف موضوعاتی شعبوں (حیاتیات، طب اور رویے کے علوم) کا احاطہ کیا گیا ہے، اس کے علاوی والدین اور ماہرین کے ساتھ متعددسیشنز شامل ہیں۔

20 سے زائد ممالک کے 100 سے زائد ماہرین رویوں میں تبدیلی، بائیو میڈیسن اور جدید مہارتوں پر اظہار خیال کریں گے جسے بیک وقت تین زبانوں عربی، روسی اور انگریزی میں پیش کیا جائے گا۔

زاید ہائر آرگنائزیشن فار پیپل آف ڈیٹرمینیشن کے سیکرٹری جنرل عبداللہ الحميدانی نے کہا کہ ابوظہبی میں مسلسل دوسرے سال اس کانفرنس کا انعقاد کیا جارہا ہے، جس کا معذور افراد کی بحالی، خاص طور پر ج آٹزم ڈس آرڈر کا شکار افراد کے حوالے سےصحت کے شعبے میں کامیابیوں کو جاری رکھنا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ کامیابیاں اس عالمی ایونٹ کے ذریعے برقرار رہیں گی، جہاں تجربات کا تبادلہ اورنتیجہ خیز تجربات پیش کیے جائیں گے جس سے اس شعبے میں تمام شرکاء اور ماہرین کے آٹزم ڈس آرڈر میں مبتلا بچوں، نوجوانوں اور بالغوں کے لیے خدمات اور دیکھ بھال اور بحالی کے طریقے میں تجربات اور مہارت بہتر ہوگی۔

کانفرنس کے افتتاحی سیشن میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آٹزم ڈس آرڈر جدید دنیا کو درپیش ایک حقیقی چیلنج ہے، اور اس کی شدت اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سائنسی اداروں سے لے کر تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

عبداللہ الحميدانی نے آٹزم کے شکار افراد کی دیکھ بھال اور علاج کے مزید طریقے دریافت کرنے کے لیے اپنی خواہش کا اظہار کیا تاکہ اس گروپ اور ان کے خاندانوں کی مدد کے لیے مطلوبہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

ابو ظہبی ہیلتھ سروسز کمپنی (ایس ای ایچ اے) کی ڈپٹی سی ای او ڈاکٹر نورہ خمیس الغیثی نے سائنسی تحقیق اور اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا، جس میں جینیاتی تحقیق بھی شامل ہے جو آٹزم ڈس آرڈر سے منسلک مختلف جینیاتی عوامل اور تغیرات کی نشاندہی کرنے میں مزید معاون ہے۔

انہوں نے مؤثر تشخیصی طریقوں، ابتدائی مداخلتوں، ٹیکنالوجی اور جدید سہولیات میں سرمایہ کاری کے ذریعے مناسب دیکھ بھال کے طریقوں، جدید ترین علاج کی فراہمی اور طرز عمل میں تبدیلی اور تعلیمی مواد کے میدان میں علم کی ترقی پر زور دیا۔

افتتاحی سیشن مںیں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے ابوظہبی پبلک ہیلتھ سنٹر کی کوششوں پر روشنی ڈالی جن میں شراکت داروں کے ساتھ تعاون کے سلسلے میں متعدد اقدامات اور پروگرامز شامل ہیں جن کا مقصد آٹزم اسپیکٹرم کی خرابی میں مبتلا افراد کی مدد کرنا ہے۔

گورنمنٹ ایمپاورمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں گورنمنٹ ٹیلنٹ ڈائریکٹوریٹ کی قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر امانی الہاشمی نے ابوظہبی کے ولی عہد عزت مآب شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کی دانشمندانہ قیادت اور وژن کے تحت محکمے کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے محکمہ کی جانب سے مربوط روزگار کی پالیسی کے نفاذ کا ذکر کیا،جس کے تحت معذور افراد کے لیے معاون ملازمتی خدمات کی تنظیم کو تیز کرنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ اداروں کو جسمانی اور سماجی ماحول کو بااختیار بنانے کے لیے رہنمائی اور علمی آگاہی فراہم کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آٹزم ریسرچ پر مسلسل 12ویں بین الاقوامی کانفرنس کا مقصد معذور افراد کو مربوط کرنےکےلیے کوششوں کو ہم آہنگ کرنے کا ایک حقیقی موقع پیدا کرنا ہے ۔ آٹزم سے متاثرہ بچوں کی جلد تشخیص سے ہمیں جلد مداخلت اور نئے تعلیمی نظام میں انہیں ضم کرنے کے قابل بناتا ہے۔

ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن اور کانفرنس کی میڈیا کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹرعبدالحمید عبدالحی نے کہا کہ کانفرنس کی انتظامیہ نے تمام متعلقہ سرکاری اور نجی اداروں کو دارالحکومت ابوظہبی میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں حکمت عملی کے ساتھ شرکت کی دعوت دی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ آٹزم کے شکار بچوں کو ہمارے معاشرے میں ضم کرنے کے لیے سوچ سمجھ کر اور ان تک پہنچنے کے لیے نئے حل تلاش کیے جائیں، جس سے وہ اسکولوں میں اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ مل کر حصہ لے سکیں، اپنی اعلیٰ تعلیم کی تعلیم جاری رکھتے ہوئے اپنے خاندانوں اور برادریوں میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔

انہوں نے شیخ خالد بن زاید النہیان کا مسلسل دوسرے سال کانفرنس کی سرپرستی اور کانفرنس کے انعقاد میں تعاون پرشکریہ ادا کیا تاکہ اسے جدید تحقیق کا ایک پلیٹ فارم بنایا جا سکے۔

افتتاحی سیشن میں شاعرمحمد عبدالله بن حسوه الزنحانی کی شاعری پیش کی گئی اس کے علاوہ آٹزم سے متاثرہ ہونہار طالب علم احمد الہاشمی نے کانفرنس کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ موسیقی پیش کی۔

آٹزم جرنل کے چیف ایڈیٹر پروفیسر انتھونی ای ڈیوس نے جریدے کے افتتاحی شمارے کے اجراء کا اعلان کیا۔ مزید برآں،آٹزم کے شکارافراد کے لیے زاید ہائرآرگنائزیشن فار پیپل آف ڈیٹرمینیشن کی خدمات کے بارے میں دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔