ابوظہبی، 9 مئی، 2024 (وام) ۔۔ عالمی ماحولیاتی فنڈ برائے لاس اینڈ ڈیمجز کا پہلا بورڈ اجلاس ابوظہبی میں منعقد ہوا۔
فنڈ میٹنگ کے بورڈ نے متحدہ عرب امارات میں ہونےو الی فریقین کی 28ویں کانفرنس سے سامنے آنے والے جدید سلیوشنز کی مالی اعانت پر پرتبادلہ خیال کیا۔
توانائی و پائیداری امورکے معاون وزیربرائے خارجہ اموراور فنڈ کے بورڈ میں متحدہ عرب امارات کے نمائندے عبداللہ بلعلہ نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فریقین نے کوپ28 کے پہلے دن 30 سال کے انتظارکے بعد لاس اینڈ ڈیمجزکے لیے گلوبل کلائمیٹ فنڈکا اعلان کیا،جو ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لیے بین الاقوامی یکجہتی کی عکاسی ہے۔
انہوں نے اس عزم پر عملدرآمد کے حوالے سے بورڈ کے اہم کردار پر روشنی ڈالی جو سب کے لیے ایک پائیدار مستقبل کی تشکیل میں متحدہ عرب امارات کی سرکردہ اور ثابت قدم کوششوں کی عکاسی ہے۔
کوپ28 کی تاریخی کامیابی کے بعد لاس اینڈ ڈیمجز گلوبل کلائمیٹ فنڈ کے حوالے سے متحدہ عرب امارات میں پہلے اجلاس کا انعقاد کوپ28پریذیڈنسی کی کوششوں اور مذاکراتی ٹیم کے تعمیری تعاون کا نتیجہ ہے۔ مذاکرات کاروں نے تمام فریقین سے موجودہ وعدوں کو پورا کرنے اور کوپ28 کے دوران اعلان کردہ وعدوں کو پورا کرنے پر زوردیا۔تاکہ کوپ29کے ذریعے موسمیاتی کارروائی کے لیے فنڈ کی تیاری کو یقینی بنایا جاسکے۔
کوپ28 پریذیڈنسی نے متعلقہ فریقوں کے ساتھ بات چیت کے لیے ہنر مند اماراتی نوجوانوں کی ایک ٹیم کوذمہ داری سونپی تھی،نوجوان مذاکرات کاروں نے لاس اینڈ ڈیمجز فنڈزکے حوالے سے اجلاس میں اپنی شرکت کو ایک ناقابل فراموش تجربہ قرار دیا۔
انہوں نے کوپ28 کے اتفاق رائےاوراہم اور بنیادی تبدیلی کے حصول کی صلاحیت پر بھی خوشی کا اظہار کیا۔ مزید برآں، انہوں نے فنڈ اور بورڈ پراس اعتماد کا اعادہ کیا کہ وہ ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بڑھتے ہوئے منفی اثرات کا مقابلہ کرنے میں مدد کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کریں۔
یو اے ای کی میزبانی میں کوپ28 نے تاریخی سنگ میل کے طور پر کام کیا، جس کے دوران موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے خصوصی طور پر عالمی فنڈ کے لیے فعال اور مالیاتی میکانزم پر تمام ممالک کے درمیان اتفاق رائے حاصل کیا گیا۔
یہ فنڈ موسمیاتی بحران اور اس کے بڑھتے ہوئے اثرات کا سامنا کرنے کے لیے بین الاقوامی یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم قدم ہے، جہاں دنیا بھر کے کئی خطے طوفان، سیلاب، جنگلاتی آگ، سطح سمندر میں اضافے، شدید موسمی واقعات،خشک سالی اور آب و ہوا کے دیگر منفی اثرات کا شکار ہیں۔
30 سال سے زیادہ عرصے تک، ترقی پذیرممالک کو امیر ممالک کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا رہا،جنہیں ان کے اخراج کا معاوضہ ادا کرنے پر مجبور کیے جانے کا خدشہ تھا۔ شرم الشیخ میں ہونے والی کوپ27 میں رہنماؤں نے ترقی پذیر ممالک، خاص طور پر گلوبل ساؤتھ میں، موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات سے نمٹنے کے لیے ایک فنڈ قائم کرنے پر اتفاق کیا، پھر بھی مبصرین کا خیال تھا کہ اس معاہدے کو عملی اور ٹھوس کارروائی میں تبدیل کرنا ایک طویل وقت میں ہی ممکن ہو سکتا ہے۔اس لیے، فنڈ کا فعال ہونا اور کوپ28 کے آغاز میں اس کی مالی اعانت کا اعلان دنیا کے لیے ایک خوشگوار حیرت کا باعث تھا۔
یہ کامیابی کوپ28 پریذیڈنسی کی بھرپور کوششوں اور یو اے ای کی جانب سے فنڈ میں 10کروڑ ڈالر کی شراکت کی وجہ سے حاصل ہوئے، جس نے یورپی یونین، امریکہ، برطانیہ، اور دیگر فریقین کو تیزی سے وعدے اور تعاون پیش کرنے کی ترغیب دی اور فنڈز کا حجم تقریباً 40کروڑ امریکی ڈالر تک پہنچ گیا ۔ مزید برآں، 19 ممالک کی جانب سے 79کروڑ 20لاکھ ڈالر تک پہنچنے کے وعدوں کے ساتھ فنانسنگ کے لیے66کروڑ20لاکھ ڈالر کا بھی اعلان کیا گیا۔
تاہم، ترقی پذیر ممالک کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے امداد میں اضافے کی اشد ضرورت ہے۔ اس لیے کوپ 28 پریذیڈنسی ممالک اور اداروں سے فنڈ کی مالی اعانت میں حصہ ڈالنے کی اپیل جاری رکھے ہوئے ہے۔
خاص طور پر، معاہدے میں یہ شرط ہے کہ ورلڈ بینک کو چار سال کی ابتدائی مدت کے لیے فنڈ کی میزبانی کرنی چاہیے، جس کے تحت فنڈ دستیاب شواہد کی بنیاد پر وسائل تقسیم کرے گا، جس میں فنڈز کا ایک مخصوص فیصد کم ترقی یافتہ ممالک اور چھوٹے جزیروں پر مشتمل ترقی پذیر ریاستوں کی مدد کے لیے مختص کیا جائے گا۔
فنڈ کے انتظامی کاموں میں اس کے وسائل کا منصفانہ انتظام کرنا، منصوبوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے موثر میکانزم تیار کرنا اور ان کے نتائج کی نگرانی کرنا شامل ہے۔ ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ماحولیاتی تبدیلیوں سے منسلک قدرتی آفات کی بڑھتی ہوئی شدت اور تعداد کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مربوط بین الاقوامی کوشش کی ضرورت ہے۔
کوپ28 پریزیڈنسی نے فنڈ کے قیام کے لیے بات چیت کو آگے بڑھانے میں ایک اہم کردار ادا کیا،100 سے زیادہ ممالک کے دورے کیے گئے تاکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ کمزور ممالک کی ضروریات کی نشاندہی کی جا سکے۔ اس کے علاوہ کوپ28 پریزیڈنسی اور اماراتی مذاکرات کاروں نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے انتھک محنت کی کہ ان ممالک کو فنڈ کے ذریعے منصفانہ مدد ملے۔ ان کوششوں کے ذریعے موسمیاتی انصاف کے حصول کے لیے یکجہتی کی وجہ سے اہم چیلنجوں پر قابو پایا گیاہے۔
لاس اینڈ ڈیمجز سے نمٹنے کے لیے گلوبل کلائمیٹ فنڈ کو ضروری چیلنجز کا سامنا ہے،جن میں سب سے نمایاں طور پرفنانسنگ کی پائیداری کو یقینی بنانا ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا کرنے والے ترقی پذیر ممالک کی کل ضروریات کا تخمینہ 10کھرب ڈالر لگایا گیا ہے۔
اب تک ملنے والی وسیع بین الاقوامی حمایت اور آنے والے سالوں میں متوقع موسمیاتی کوششوں کی اہمیت کے بارے میں بڑھتی ہوئی عالمی بیداری کے پیش نظر فنڈ میں شراکت میں اضافے اور اس کی مستقبل کی مالی اعانت اور کامیابی کی ضمانت کے امکانات زیادہ ہیں۔
ترجمہ۔تنویرملک