ابوظہبی، 9 مئی، 2024 (وام) ۔۔ اتحاد ایئرویز نے رواں سال2024 کی پہلی سہ ماہی کے مالیاتی اعدادوشمار جاری کیے ہیں جس کے مطابق گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں نمیاں اضافے کے ساتھ بعد از ٹیکس منافع 52کروڑ60لاکھ درہم (14کروڑ30لاکھ ڈالر) ریکارڈ کیا گیا۔
پہلی سہ ماہی کی مجموعی آمدنی 2023 کی اسی مدت کی 4ارب75کروڑ20 لاکھ درہم(1ارب 29کروڑ40لاکھ ڈالر) کے مقابلے میں 98کروڑ70لاکھ (26کروڑ90لاکھ ڈالر) کے اضافے سے5ارب73کروڑ90لاکھ درہم(1ارب 56کروڑ30لاکھ ڈالر) تک پہنچ گئی جو نیٹ ورک کی گنجائش اور مسافروں کی تعداد میں اضافے کی عکاسی ہے۔
ایئر لائن سے رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران42لاکھ مسافروں نے سفر کیا، یہ تعداد گزشتہ سال کی اسی مدت سے 41 فیصد زیادہ ہے،2024 کی پہلی سہ ماہی میں اوسط پسینجرلوڈ86 فیصد ہے جس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔اسی مدت کے دوران کارگو اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی مستحکم رہی۔
ایئر لائن نے گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی کے مقابلے میں یونٹ لاگت میں کمی کے ساتھ اپنی آپریشنل کارکردگی کو بہتربنایا ہے۔
اتحاد ایئرویز کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر اینٹونوالڈو نیوس نے کہا کہ ہمیں مالی سال 2024 کے مضبوط آغازپر خوشی ہے، ہماری پہلی سہ ماہی کی آمدنی 2023 کے پورے مالی سال کی مجموعی خالص آمدنی کے مساوی ہے کیونکہ ہم اپنے مارجن میں توسیع کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ منافع میں یہ نمایاں اضافہ اس سال مارچ کے اوائل میں شروع ہونے والے رمضان کے مقدس مہینے کی وجہ سے بھی ہے۔
اینٹونوالڈو نیوس کا کہنا تھا کہ ہم ابوظہبی سے اور اس کے ذریعے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو جوڑنے کے دوران نیٹ ورک کو وسعت دینے اور اپنی پیشکشوں کو بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔ میں اپنے تمام ملازمین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جن کی محنت اور لگن ان نتائج کو حاصل کرنے میں اہم رہی ہے۔
اس مدت کے دوران، اتحاد نے اہم شہروں تک روٹس میں اضافہ اور پروازوں کی تعداد کو بڑھا کر اپنے نیٹ ورک کو بہتر بنایا۔ ایئر لائن نے تھرواننت پورم، کوزی کوڈ اور بوسٹن کے لیے نئی پروازیں بھی شروع کیں، اور انطالیہ اور جے پور کے لیے اضافی روٹس کا اعلان کیا۔ اضافی گنجائش کی وجہ سے اتحاد کی کل ہفتہ وار پروازوں میں آئندہ چوٹی کے موسم گرما میں 34 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو گزشتہ سال 642 سے بڑھ کر 2024 میں 858 ہو گئی ہے۔
ایئر لائن ابوظہبی کے سیاحتی شعبے کے فروغ میں اہم کردار ادا کررہی ہے،2023 کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں ان باؤنڈ پوائنٹ ٹو پوائنٹ ٹریفک میں 43 فیصد اضافہ ہوا ہے۔