متحدہ عرب امارات کی کابینہ نے نیشنل یوتھ ایجنڈا 2031 کی منظوری اور پائیداری ماہرین کے لیے بلیو ریزیڈنسی اقدام متعارف کرادیا

ابوظہبی، 15 مئی، 2024 (وام) ۔۔ نائب صدر، وزیراعظم اوردبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کی زیر صدارت ابوظہبی کے قصر الوطن میں کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں نائب صدر، نائب وزیراعظم اور صدارتی عدالت کے چیئرمین عزت مآب شیخ منصور بن زاید النہیان،دبئی کے اول نائب حکمران، نائب وزیر اعظم اور وزیر خزانہ عزت مآب شیخ مکتوم بن محمد بن راشد المکتوم اورنائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ عزت مآب لیفٹیننٹ جنرل شیخ سیف بن زاید النہیان نے شرکت کی۔
عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم نے بتایا کہ ابوظہبی کے قصر الوطن میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں نیشنل یوتھ ایجنڈا 2031 کی منظوری دی گئی۔کابینہ نے نوجوانوں کے وزیر کو اس حوالے سے پانچ اہم امور پر توجہ مرکوز رکھنے کی ہدایت کی جس میں نوجوانوں کو معاشی طور پر بااختیار بنانا، سائنسی صلاحیتوں کا فروغ ، ان کی قومی شناخت کو مستحکم کرتے ہوئے کمیونٹی میں شراکت کو بڑھانا اوربین الاقوامی سطح پر ملکی نمائندگی میں ان کے کردار کو فعال کرنا شامل ہے۔
عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم نے مزید کہاکہ کابینہ نے ملک میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کی درجہ بندی کے ایک نئے فریم ورک کی منظوری دی۔ جس کے تحت معیار تعلیم، فارغ التحصیل افراد کے لیے لیبر مارکیٹ کی طلب، تحقیقی صلاحیت اور عالمی تعلیمی وابستگیوں کی بنیاد پر 70 سے زیادہ اداروں کی قومی درجہ بندی کی جائے گی۔
قومی درجہ بندی اعلیٰ تعلیم کے معیارکو بلند کرنے اور شفافیت کو فروغ دینے کے لیے ایک سنگ میل ہے۔
عزت مآب نے کہا کہ صدر کی طرف سے اعلان کردہ قومی ہدایات کے مطابق، 2024 کو متحدہ عرب امارات میں پائیداری کے سال کے طور پر منانے کے لیے ہم نے "بلیو ریذیڈنسی" کی اسکیم کو متعارف کرایا جس کے تحت سمندری حیات، زمینی ماحولیاتی نظام، یا ہوا کے معیار، پائیدار ٹیکنالوجیز، سرکلر اکانومی، یا متعلقہ شعبوں میں غیر معمولی کارکردگی اور شراکت کا مظاہرہ کرنے والے افراد کو دس سال کی رہائش دی جاتی ہے۔۔
عزت مآب نے مزید کہاکہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنا مقام قائم کرنے کے لیے ملکی حکمت عملی کے تحت، کابینہ نے تمام مرکزی وفاقی اداروں میں مصنوعی ذہانت کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عہدے تخلیق کرنے کی منظوری دی، جس سے ان اداروں میں مصنوعی ذہانت کے آلات کو زیر استعمال لانے میں تعاون اور ایک نئے مرحلے میں منتقلی کے عمل کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی ہم اپنے وفاقی اداروں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید مستحکم کریں گے۔
عزت ماب نے بتایا کہ اجلاس میں ملک کے خلائی شعبے کی تازہ ترین کامیابیوں کا جائزہ لیا گیا اس وقت بین الاقوامی خلائی منصوبوں میں کام کرنے والے نوجوان اماراتیوں کی نمائندگی 38 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ خلائی تحقیق کے شعبے کے اخراجات میں 14 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے نوجوانوں کو امید افزا شعبوں میں ترقی کرنے، ماحول کی حفاظت، بہترین عالمی ٹیکنالوجیز کو میں ضم کرنے، اور اپنے اعلیٰ تعلیمی نظام کی ترقی کے لیے وقف ہیں۔

نیشنل یوتھ ایجنڈا 2031:

کابینہ نے نیشنل یوتھ ایجنڈا 2031 کی منظوری دی ، جس کا مقصد اماراتی نوجوانوں کو علاقائی اور عالمی سطح پر ایک رول ماڈل کے طور پر بااختیار بنانا ہے۔ ایجنڈا کے تحت اقتصادی اور سماجی ترقی میں نوجوانوں کے تعاون
میں اضافہ کیا جائے گا۔
ایجنڈا میں پانچ اہم امور پرخصوصی توجہ دی گئی ہے جن میں اماراتی نوجوانوں کے قومی اقتصادی ترقی میں اہم کرداراور اماراتی اقداراور اصولوں پر عمل کرتے ہوئے کمیونٹی میں مؤثر طریقے سے ان کی شراکت کو یقینی بنانا۔عالمی سطح پر مثبت تبدیلی کو فروغ اور ان کو ایک عالمی رول ماڈل بنانا، جدید ترین ٹیکنالوجیز میں تازہ ترین پیش رفت سے نوجوانوں کا باخبر رکھنا اور مستقبل کی مہارتوں میں ان کو ہنرمند بناتے ہوئے اعلیٰ ترین صحت اور معیار زندگی کی فراہمی یقینی بنانا شامل ہے۔
نیشنل یوتھ ایجنڈا 2031 کے تحت 100 سے زیادہ اماراتی نوجوانوں کو ترجیحی قومی شعبوں سے متعلق عالمی تنظیموں اور فورمز میں ملک کی نمائندگی کے لیے اہل بنایا جائے گا اور لیبر مارکیٹ میں نوجوانوں کو 100فیصد موزوں کیریئر کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
نوجوانوں کے لیے معیار زندگی کے لحاظ سے متحدہ عرب امارات کو عالمی سطح پر سرفہرست 10 ممالک میں شامل کرنا بھی اس ایجنڈے کا ہدف ہے۔
نوجوانوں میں قومی شعور میں اضافہ کرنے کے ساتھ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اماراتی نوجوان اپنی شناخت اور قومی وابستگی پر فخراور اس شعبے میں نوجوانوں کے لیے قومی چارٹر کا آغازبھی ایجنڈے کا مقصد ہے۔
ایجنڈے کا مقصد نوجوانوں کے لیے بنیادی خدمات تک رسائی کے لیے متحدہ عرب امارات کو دنیا کا سب سے آسان ملک بنانا، اور امید افزا اور مستقبل کے شعبوں میں نوجوانوں کے منصوبوں کی تعداد کو دوگنا کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی اور پیشہ ورانہ قابلیت حاصل کرنے والے نوجوان اماراتیوں کی تعداد کو دوگنا کرنا ہے۔

پائیداری ماہرین کے لیے بلیو ریذیڈنسی:

ایجنڈے کے مطابق کابینہ نے"بلیو ریزیڈنسی"کے نام سے ایک نئی کیٹیگری شروع کرنے کی منظوری دی، جس کے تحت پہلی بار ایسے افراد کو طویل مدت کے لیے رہائش کی اجازت دی جائے گی جو متحدہ عرب کے اندر اور باہر ماحولیات کوششوں اور پائیداری کے شعبے میں غیر معمولی شراکت اور کوششیں کررہے ہیں۔بلیو ریزیڈنسی کا مقصد پائیداری میں ملکی کوششوں کو فروغ اور برقرار رکھنا ہے۔
بلیو ریذیڈنسی خاص طور پر کلائمیٹ ایکشن کے حامیوں کو دی جائے گی، جن میں بین الاقوامی تنظیموں کے اراکین، بین الاقوامی کمپنیوں، انجمنوں اور غیر سرکاری تنظیموں کے اراکین، عالمی ایوارڈ یافتہ اور ماحولیاتی کوششوں کے ممتازکارکنان اور محقق اماراتی شہری اورماحولیاتی تحفظ کے حامی ذمہ دار رہائشی شامل ہیں۔
پائیداری کے حامی اور ماہرین جو یو اے ای بلیو ریزیڈنسی میں دلچسپی رکھتے ہیں،اپنی درخواستیں براہ راست وفاقی اتھارٹی برائے شناخت، شہریت، کسٹمز اور پورٹ سیکیورٹی کے ذریعے یا ریاست میں مجاز حکام کی طرف سے اس کے لیے سفارش کردہ افراد کے لیے نامزد محکموں کے ذریعے جمع کراسکتے ہیں۔

نجی شعبے میں 3 سال کا تجربہ رکھنے والے اماراتی درخواست دہندگان کو وفاقی حکومت کی ملازمتوں میں ترجیح:

کابینہ نے نجی شعبے میں کم از کم تین سال سے کام کرنے والے شہریوں کو وفاقی سرکاری ملازمتوں کے لیے ترجیح دینے کے فیصلے کی منظوری دی۔ وفاقی حکومت میں ملازمت پر تقرر کرتے وقت پرائیویٹ سیکٹر میں تجربے کو کو بھی اہلیت کے معیار میں شامل کیا جائے گا۔
اس فیصلے کا مقصد نجی شعبے کی قومی مہارت کو یکجا کرکے وفاقی حکومت کے شعبے کو مستحکم کرنا ہے، اس طرح سرکاری اداروں کے اندر علم کی تنوع کو تقویت ملے گی۔ یہ فیصلہ پرائیویٹ سیکٹر کی کمپنیوں سے حاصل کردہ تجربے اور طریقوں کوترویج دے گا۔

وفاقی حکومت کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اسکالرشپ نظام:

کابینہ نے وفاقی حکومت کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو وظائف کی بنیاد پر فنانسنگ کے لیے ایک نئے نظام کا جائزہ لیا، جس کا مقصد ان اداروں میں تعلیمی نتائج کے معیار کو بہتر کرنا اور لیبر مارکیٹ اور کیریئر کے دستیاب مواقع کے ساتھ ہم آہنگی جاری رکھنا ہے۔
نیا نظام پہلے سے طے شدہ میکانزم کا استعمال کرتے ہوئے، نئی تعلیمی نشستوں کی تعداد کا جائزہ اور اس کی وضاحت کے بعد، اور لیبر مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق درکار تخصصات کے بعد مالی وظائف کا فیصلہ کرے گا۔

اعلیٰ تعلیمی اداروں کی درجہ بندی کے لیے قومی فریم ورک:

کابینہ نے ملک کے اندر اعلیٰ تعلیمی اداروں کی درجہ بندی کے لیے قومی فریم ورک کی منظوری دی، جس میں سرکاری اور نجی دونوں ادارے شامل ہیں۔فریم ورک کے تحت چار بنیادی حوالوں تدریسی معیار و طالب علم کی زندگی،روزگار اور ملازمت مارکیٹ کی صف بندی، سائنسی تحقیق و اختراع، اور بین الاقوامی تعاون کے مطابق قومی کارکردگی کے میٹرکس کی بنیاد پر اداروں کا جائزہ اور درجہ بندی کی جائے گی۔
اداروں کو دو بڑی کیٹیگریز تحقیقی ادارے اور اعلیٰ تعلیم کے غیر تحقیقی ادارے میں تقسیم کیا گیا ہے۔ انہیں مزید ہرکیٹیگری میں چار درجوں میں سے ایک میں درجہ بند کیا گیا ہے۔ اس فریم ورک کا مقصد تعلیمی اداروں کے معیار کو بلند کرنا، مثالی تعلیمی طریقہ کار کو اپنانا اور ایک ایسے تعلیمی ماحول کو فروغ دینا ہے جو تعلیم کے معیار اور طالب علم کی زندگی دونوں کو بہتر بنائے۔

ملکی خلائی شعبے کی کامیابیاں:

کابینہ نے 2023 میں متحدہ عرب امارات کی خلائی ایجنسی کے کارناموں پر رپورٹ کا جائزہ لیا۔ متحدہ عرب امارات کی خلائی ایجنسی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ای) کو اس شعبے میں شامل ہونے کے لیے حوصلہ افزائی اور مدد کے لیے پانچ خلائی اقتصادی زونز قائم کر رہی ہے، انہیں متعدد ترغیبی پیکجز کی پیشکش کی جا رہی ہے۔
ایجنسی کی کامیابیوں میں "Sirb" سیٹلائٹ پروگرام شروع کرنا اور ایک قومی خلائی صنعت اتحاد قائم کرنا بھی شامل ہے ۔امارات کا سیارچوں کی تحقیقات کےلیے بھیجا گیا مشن ایک اور کامیابی ہے جو متحدہ عرب امارات کی خلائی تحقیق کی کوششوں میں ایک سنگ میل ہے۔ اس سے متحدہ عرب امارات سیارہ زہرہ اور اس کے سیاچوں کی پٹی پر مشن بھیجنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن گیا ہے۔خلائی ایجنسی نے موسمیاتی تبدیلی اورفوڈ سیکیورٹی کے لیے لیے خلائی حل پروگرام بھی شروع کیا۔ اس کے علاوہ، سال 2023 میں اسپیس اکیڈمی پروجیکٹ کا آغازکیا گیا، نیشنل اسپیس فنڈ کے اس اقدام کا مقصد قومی خلائی پروگراموں کی پائیداری کو بڑھانا اور انسانی سرمائے کی حمایت کرنا ہے۔
کابینہ نے 2022 کے خلائی اقتصادی سروے کا جائزہ لیا، اعداد و شمار کے مطابق قومی خلائی شعبے کے کل اخراجات میں 2021 کے مقابلے میں 6.61 فیصد اضافہ ہوا، حکومتی اخراجات میں 55.7 فیصد اضافہ ہوا، جو کہ 2021 کے مقابلے میں 12.7 فیصد زیادہ ہے۔
تجارتی اخراجات خلائی شعبے کے مجموعی اخراجات کا 44.3 فیصد ہیں، تحقیق اور ترقی کے اخراجات میں 14.8 فیصد اضافہ ہوا ۔ خلائی تحقیق اور ترقی پر ہونے والے اخراجات خلائی شعبے کے کل اخراجات کا 76.8 فیصد تھے۔

سرکاری امور میں جنریٹو مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز کے استعمال پر کنٹرول کے لیے ہدایات نامہ:

کابینہ نےحکومتی امور میں مصنوعی ذہانت کی جنریٹو ٹیکنالوجیز کے استعمال کے کنٹرول اور رہنما اصولوں کے لیے ایک جامع گائیڈ کی منظوری دی۔ یہ گائیڈ تعلیم، صحت اور میڈیا سمیت اہم شعبوں میں اے آئی کے اخلاقی، ذمہ داری، اور محفوظ اطلاق کے لیے بہترین طریقوں کو معیاری بنانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے، جس کا مقصد سرکاری کام کی کارکردگی اور کارکردگی کو بڑھانا ہے۔
مزید برآں، کابینہ نے وزارتوں اور وفاقی اداروں میں ایک نیا عہدہ، "چیف ایگزیکٹو آفیسر برائے مصنوعی ذہانت" قائم کیا ہے۔ یہ عہدہ ملک کو اے آئی ایپلی کیشنز میں عالمی رہنما بنانے، سٹریٹجک اے آئی منصوبہ بندی، بہترین طریقوں کو فروغ دینے اور اے آئی کے انضمام اور گورننس کو فروغ دینے میں اہمیت کا حامل ہے۔
کابینہ نے صارفین کی پرائیویسی اور آرام کو یقینی بنانے کے لیے مارکیٹنگ کالز (کولڈ کالنگ) کو ریگولیٹ کرنے کے فیصلے کی منظوری دی۔اس میں ٹیلی مارکیٹنگ کے طریقوں کے لیے مخصوص رہنما خطوط ترتیب دینا، کمپنیوں کے لیے تعمیل کی ذمہ داریاں قائم کرنا، اور خلاف ورزیوں کے لیے سزائیں مقرر کرنا شامل ہے۔
کابینہ نے پری پیکڈ کنٹینرز میں مصنوعات کی مقدار کی نگرانی کے لیے تکنیکی ضوابط کے اجراء کی بھی منظوری دی، جس کا مقصد مقامی طور پر تیار کردہ اشیا کے معیار اور مسابقت کو بہتر بنانا اور بین الاقوامی معیارات پر پورا اترنے کے لیے صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔
مجازی اثاثوں، قرآن پاک کے تعلیمی مراکز،حج کے سفر کے لیے وفاقی اتھارٹی برائے شناخت، شہریت، کسٹمز اور پورٹ سیکیورٹی کے کنٹرولز اینڈ ریگولیشنزاور خدمات کو ریگولیٹ کرنے کے لیے اضافی فیصلوں کی منظوری دی گئی ہے۔
کابینہ نے جی سی سی ریاستوں میں کام کرنے والے جی سی سی شہریوں کے لیے انشورنس تحفظ میں توسیع اور مقامی لیبر مارکیٹ میں طلباء کے کام کے لیے روزگار کے رہنما خطوط مرتب کرنے کے فیصلے کی منظوری دی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ اپنی جاری تعلیم اور کام کے درمیان توازن قائم کرسکیں۔

کمرشل فراڈ سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ کمیٹی:

کابینہ نے کمرشل فراڈ سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ کمیٹی قائم کرنے کے فیصلے کی منظوری دی، جس کی صدارت وزارت اقتصادیات کے انڈر سیکریٹری کریں گے۔ اس کمیٹی کو انسداد فراڈ پالیسیوں کو اپ ڈیٹ کرنے، متعلقہ حکام کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے، بین الاقوامی تعاون کو بڑھانے، اور صارفین اور کاروباری اداروں کو تجارتی دھوکہ دہی سے بچانے کے لیے آگاہی پروگراموں کو فروغ دینے کا کام سونپا گیا ہے۔
کابینہ نے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل لین دین کے لیے متحدہ عرب امارات کی کونسل کی تنظیم نو کی منظوری دی، جس کی صدارت وزیر مملکت برائے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل اکانومی اور ریموٹ ورک ایپلی کیشنز کر رہے تھے۔
اجلاس میں وزیر توانائی اور انفراسٹرکچرسہیل محمد المزروعی کی سربراہی میں پائیدار ایندھن کمیٹی کی تنظیم نو کی بھی منظوری دی گئی۔ کمیٹیہوابازی کےلیے ماحول دوست ایندھن کی حوصلہ افزائی کرنے، حکومتی سطحوں پر حکمت عملیوں کو ہم آہنگ کرنے اور پائیدار ہوا بازی کی ٹیکنالوجیز میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے گی۔

قومی شماریات کمیٹی:

کابینہ نے قومی شماریات کمیٹی کے قیام کی بھی منظوری دی جس کی سربراہی وفاقی مسابقتی و شماریات مرکز کرے گا۔ کمیٹی کا مقصد قانون سازی، پالیسی اور پروگرام کا جائزہ لیتے ہوئے قومی ڈیٹا کی درستگی اور اس کی ساکھ کو بڑھانا ہے۔ یہ کمیٹی شماریاتی سرگرمیوں کے لیے قومی حکمت عملی تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے حکومت اور نجی شعبوں میں ڈیٹا کے جامع انضمام کو یقینی بنائے گی۔
کابینہ نے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اورتحفظ کے لیے بھارت کی حکومت کے ساتھ ایک معاہدے کی توثیق اور جنوبی کوریا کی حکومت کے ساتھ جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کرنے کی منظوری دی۔ مزید برآں، کابینہ کی طرف سے ملک میں متحدہ عرب امارات یونیورسٹی کی سالانہ بین الاقوامی قانون کانفرنس اور کرپٹو کرنسی ریسرچ کانفرنس 2024سمیت بڑی بین الاقوامی کانفرنسوں کے انعقاد کی منظوری دی۔کابینہ نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی 13ویں وزارتی کانفرنس کے انعقاد کے نتائج کا بھی جائزہ لیا،جس میں ممتاز وزراء، فیصلہ سازوں، ماہرین، عالمی اداروں اور تنظیموں کے نمائندوں، صحافیوں سمیت 30ہزار سے زائد شرکا نے شرکت کی تھی۔


ترجمہ۔تنویرملک